افغانستان میں مستقل امن کے لیے کوششیں

پاکستان کو تشویش ہے کہ افغانستان کے معاشی دیوالیے پن کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔


Editorial September 13, 2021
پاکستان کو تشویش ہے کہ افغانستان کے معاشی دیوالیے پن کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

افغانستان میں مستقل امن و امان کے قیام اور سیاسی و معاشی استحکام کے لیے ہمسایہ ممالک کی کوششیں جاری ہیں' میڈیا کی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں افغانستان کی صورت حال پر علاقائی ملکوں کے انٹیلی جنس اداروں کے سربراہوں کا اہم اجلاس ہوا ہے۔

اس اجلاس کی میزبانی ڈی جی آئی ایس آئی نے کی ہے، میڈیا نے ذرایع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اس اجلاس میں روس، چین،ایران، ازبکستان، قازقستان،تاجکستان اور ترکمانستان کے انٹیلی جنس چیفس نے شرکت کی ہے،اس اجلاس میں افغانستان کے مستقبل، امن کی بحالی اور خطے کی صورت حال پر بات چیت کی گئی۔

ہمسایہ ہونے کے ناتے خطے کے ممالک افغانستان میں امن اور استحکام کے خواہاں ہیں، اجلاس میں ہمسایہ ممالک نے افغانستان میں امن کے قیام اور استحکام کے لیے اپنی تجاویز اور سفارشات پیش کیں،گو سرکاری سطح پر اس اجلاس کی تصدیق نہیں کی گئی تاہم ذرایع نے تصدیق کی ہے کہ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید نے اجلاس کی میزبانی کی۔

افغان صورتحال کے تناظر میں متعدد ممالک کے وزراء اور خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان ان دنوں پے در پے خطے کے دورے کر رہے ہیں،اس سے قبل امریکی سی آئی اے کے سربراہ اور برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 کے سربراہ بھی اس ضمن میں اسلام آباد اور نئی دہلی کا دورہ کر چکے ہیں،اسلام آباد میں پڑوسی ممالک کے انٹیلی جنس سربراہوں کا حالیہ اجلاس پاکستان کی ان انتھک سفارتی کاوشوں کا حصہ ہے کہ افغان کے مستقبل پر متفقہ لائحہ عمل اختیار کیا جا سکے، پاکستان چاہتا ہے کہ دنیا اور بالخصوص خطے کے ممالک افغانستان کو تنہا نہ چھوڑیں اور افغانستان میں جنم لینے والی نئی حقیقت کو تسلیم کریں۔

افغانستان کے عدم استحکام کے خطے پر ممکنہ منفی اثرات کے تناظر میں پڑوسی ممالک کے انٹیلی جنس سربراہان کا اجلاس اہم ہے، خطے کے ممالک کو افغانستان میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال نے مل بیٹھ کر غور کرنے پر مجبور کیا ہے کیونکہ پاکستان ،روس ،چین اور وسط ایشیائی ریاستیں یہ خدشات رکھتی ہیں کہ افغانستان میں مزید انتشار خطے کی سیکیورٹی کو متاثر کرے گا، افغانستان میں داعش خراسان کے حوالے سے خاص طور پر تحفظات پائے جاتے ہیں جو نہ صرف افغانستان کے عوام کے لیے ممکنہ خطرہ ہے بلکہ پاکستان،چین ،ایران اور روس کے لیے بھی خطرے کا باعث ہے۔

خطے کے ممالک کو تشویش ہے کہ اگر افغانستان کے حالات نہ سنبھلے اور وہاں امن و امان یا معاشی کسمپرسی کے مسائل نے شدت اختیار کی،بالفرض مختلف گروہوں نے مسلح لڑائی شروع کر دی تو یہ ممالک بھی اس سے متاثر ہوں گے،اس لیے سب کی کوشش ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو اور وہ معاشی گرداب سے نکل کر ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔ افغان صورت حال پر اس سے قبل پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی خطے کے وزراء خارجہ کے ورچوئل اجلاس کی میزبانی کر چکے ہیں۔

پاکستان کو تشویش ہے کہ افغانستان کے معاشی دیوالیے پن کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے،جس سے دہشت گردی کا خطرہ جنم لے گا، یاد رہے کہ سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ بھی متنبہ کر چکے ہیں کہ افغانستان کا معاشی دیوالیہ ہونا دہشت گردوں کے لیے تحفہ ہو گا۔ان کی اس بات میں وزن ہے۔

شام ، یمن اور عراق کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ اس خطے میں داعش نے جو تباہی پھیلائی ، تاریخی آثار کو جس طرح تباہ وبرباد کیا، اسے دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ خطے میں دہشت گردی سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔طالبان نے ماضی سے سبق سیکھا ہے اور انھوں نے اس قسم کی تنظیموں سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ طالبان حکومت کسی دہشت گردگروپ کو افغانستان کی سرزمین سے کسی دوسرے ملک میں کارروائی کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گی ۔ طالبان کو بھی احساس ہے کہ دہشت گرد گروہ افغانستان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

لہٰذا ان کا خاتمہ ضروری ہے،یہی وجہ ہے کہ طالبان بھارت کے کردار کے بارے میں بھی شاکی ہیں جو افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کرتا رہا ہے۔ ادھر افغانستان میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امید ظاہر کی ہے کہ عالمی برادری جلد ہی طالبان حکومت کو تسلیم کرلے گی۔ ان کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق مثبت اشارے ملے ہیں، لہٰذا امید ہے کہ عالمی برادری طالبان کو جلد تسلیم کرلے گی۔

انھوں نے کہا کہ ہماری کوششیں جاری ہیں، ہم نے عالمی برادری کے مطالبات مانے ہیں، ملک میں سیکیورٹی کی صورت حال کو کنٹرول کرنے سے لے کر اس بات کی یقین دہانی تک افغانستان عالمی برادری کے لیے خطرہ ثابت نہیں ہوگا۔ ہم نے تمام وعدے پورے کیے۔

اسی دوران گیلپ پاکستان کے سروے کے مطابق 55فیصد پاکستانیوں نے افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔پاکستانی عوام کی اکثریت افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام پر خوش ہے، 25فیصد شہریوں نے خوش نہ ہونے کا کہا جب کہ 20فیصد نے کوئی رائے دینے سے گریز کیا۔سروے میں طالبان حکومت کے قیام پر سب سے زیادہ خوش خیبرپختونخوا سے 65فیصد افراد نظرآئے،بلوچستان سے 55فیصد، پنجاب اور سندھ سے 54فیصد شہریوں نے طالبان حکومت کے قیام پر خوشی کا اظہار کیا۔سروے میں ملک بھر سے 2400سے زائد افراد نے حصہ لیا۔

افغان طالبان چند روز قبل عبوری حکومت کا اعلان کر چکے ہیں' ملا محمد حسن اخوند کو اس عبوری حکومت کا وزیراعظم نامزد کیا گیا ہے۔ ملا عبدالغنی برادر اور مولوی عبدالسلام حنفی دونوں نائب وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزد کیے گئے ہیں تاہم اس عبوری حکومت کے وزیراعظم اور کابینہ کی حلف برداری تقریب نہیں ہوئی ہے۔

جب عبوری حکومت اپنا حلف اٹھا کر کام شروع کردے گی ، تب ہی ملک کی خارجہ اور داخلی پالیسیاں واضح ہوں گی اور یہ بھی پتہ چلے گا کہ نئی حکومت کی اکنامک پالیسی کے خدوخال کیا ہیں۔ملک کا نظم ونسق چلانے کے لیے بیوروکریٹک ڈھانچہ کس قسم کا ہوگا، اس کا پتہ بھی آنے والے دنوں میں ہی چلے گا۔

افغانستان کی سرحدیں پاکستان، ایران، چین، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان سے ملتی ہیں جب کہ روس اور قازقستان بھی افغانستان کے حالات کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور یہ سب اس کے حالات سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان ممالک کے خفیہ اداروں کے سربراہوں کا ملنا سمجھ میں آنے والی بات ہے۔ افغانستان میں اس بار بھی حالات خراب ہوتے ہیں تو اس سے روس' چین' ایران' پاکستان اور وسط ایشیاء بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ حالات اور وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہمسایہ ممالک افغانستان کے حالات پر گہری نظر رکھیں اور اس ملک میں ایک مستحکم حکومت کے قیام کے لیے فضا ساز گار بنائیں۔

افغانستان میں تاحال طالبان دوحا میں کیے گئے امن معاہدے پر قائم ہیں اور اس کی شرائط پر عمل بھی کر رہے ہیں۔ افغانستان میں معمولات زندگی بحال ہو رہے ہیں۔ اگر ہمسایہ ممالک تعاون کریں تو افغانستان میں طالبان کی حکومت مستحکم ہو جائے گی اور ملک میں مستقل بنیادوں پر امن قائم ہو جائے گا۔ افغانستان میں کاروباری سرگرمیاں بھی تیز ہوجائیں گی۔

ادھر تجزیہ کاروں کے حوالے سے یہ رائے سامنے آئی ہے کہ ایک زمانہ تھا کہ امریکی کردار اور اثر ورسوخ مانا جاتا تھا، مگر آج اس کا عالمی کردار سکڑتا جا رہا ہے، اس کی عالمگیریت ایک گھمبیر مسئلہ بن گئی ہے، ماہرین نے سوال اٹھایا ہے کہ امریکا کہاں کھو گیا ہے، ایک تجزیہ کار نے کہا کہ امریکا کو تین ملکوں کے دائرہ اثر سے نکلنے کا دکھ ہے، پہلے چین1949 میں، پھرکیوبا1959 اور پھر ایران 1979 میں امریکا کے ہاتھ سے نکل گیا۔

امریکی عالمگیریت کی وجہ یہ تھی کہ ایلیٹ نے ان کے جمہوری نظام کو مقامی سطح پر ہر دھچکے سے بچایا اور ان کے جنرلز دنیا میں فتوحات حاصل کرتے رہے، ملکوں پر قبضے کرتے رہے، اسلحہ کی دوڑ کا آغاز ہوا، لیکن آج دنیا کو محض افغانستان کا مسئلہ درپیش نہیں، امریکا کو یورپ سمیت دنیا میں ہرجگہ اپنے خلاف ایک مزاحمت، تقابل اور چیلنجز کا سامنا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامی برادری افغانستان کو اپنے معاملات چلانے اور اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی سیاسی، اقتصادی اور سفارتی سہولتیں مہیا کرے۔ طالبان بھی اس آفاقی حقیقت کو تسلیم کریں کہ جب وہ انتظامی، انسانی و معاشی سفارتی ذرایع سے اپنا سیاسی ڈھانچہ دنیا کے سامنے پیش کریںگے تو دنیا کو آزاد افغانستان کو تسلیم کرنے میں کوئی عذر نہیں ہوگا۔ دراصل طالبان کو اب حیران کن منظر نامہ ابھارنا ہے۔

مقبول خبریں