غربت صرف افغانستان میں نہیں

ارباب اختیار مہنگائی اور بیروزگاری کی روک تھام پر توجہ نہیں دیں گے تو معیشت کے استحکام کے محض دعوؤں سے کچھ نہیں ہوگا۔


Editorial September 14, 2021
ارباب اختیار مہنگائی اور بیروزگاری کی روک تھام پر توجہ نہیں دیں گے تو معیشت کے استحکام کے محض دعوؤں سے کچھ نہیں ہوگا۔ فوٹو:فائل

اقوامِ متحدہ ترقیاتی پروگرام نے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ ملک کے سیاسی اور معاشی بحران کو قابو نہ کیا گیا تو 97 فیصد افغان آبادی کا خطِ غربت سے نیچے جانے کا اندیشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق مختلف منظر ناموں پر گفتگو کرتے ہوئے یو این ڈی پی کی تشخیص میں پاکستان کی افغانستان کے ساتھ تجارت پر زور دیا گیا۔ اقتصادی ماہرین نے افغانستان کے معاشی مسائل اور سماجی زندگی کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کو کثیر سمتی اقدامات کی ضرورت ہے۔

طالبان چیلنجز کے گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں، ان کے اقتصادی مسائل کا کوئی ایک حل نہیں بلکہ دنیا طالبان کی معیشت کو درپیش بحرانوں سے نکالنے کے لیے مل کر ایک بریک تھرو کا سوچ رہی ہے لیکن دنیا افغانستان کو صرف ایک ملک کے طور پر نہیں دیکھ رہی بلکہ اس کے سامنے ایک بیس سالہ جنگی تاریخ ہے، امریکی جنگجویانہ پالیسیاں ہیں۔

انسانی مسائل کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ ہے جس میں افغانی خواتین اور معصوم بچوں کی زندگیوں کا سوال ہے، افغانستان میں خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کا ایک ادارہ کام کررہا ہے، افغانستان کو 1919 میں حق بالغ رائے دہی کے تحت ووٹنگ کا حق ملا لیکن دنیا نے افغانی خواتین کی بے بسی، غربت، استحصال اور جبر کا ہولناک منظر نامہ دیکھا۔

آج شخصی آزادی کے نام پر افغان خواتین کو ایک طویل جنگ لڑنا ہوگی، سماجی آزادی، تعلیمی سہولتوں، معاشی استحکام اور تبدیلی کے لیے افغان سماج کو جدید ملکی اور عالمی تقاضوں کے ساتھ چلنا ہوگا۔ مسائل دلگداز ہیں، عالمی ادارے ان کے حل کے لیے کوشاں ہیں مگر رپورٹس کے مطابق افغانستان کو خط غربت سے نیچے جانے کا خدشہ ہے اور اس کا تعلق حکومتی اقتصادی اور معاشی ترقی کے ایک نظام سے ہے۔

ماہرین کے نزدیک جن ملکوں میں غربت ہوگی وہاں آبادی میں اضافے کے مسائل بھی بے پناہ ہونگے، افغانستان میں آبادی بڑھ رہی ہے، حکومت کے پاس کوئی ڈیٹا نہیں کہ وہ آبادی میں اضافے کو روکنے کے لیے سائنسی بنیادوں پر ضبط تولید اور خاندانی منصوبہ بندی کے روایتی اقدامات کو بروئے کار لائے، افغان معاشرہ اولاد کی پیدائش کے حوالے سے اپنی روایات پر کاربند ہے۔

اس ضمن میں بھی خواتین کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا، حقیقت یہ ہے کہ تعلیم، روزگار، فنون لطیفہ اور ملازمتوں کی فراہمی کے معاملے میں خواتین کو آزادی دینے کے سوال پر طالبان کو اہم فیصلے کرنے ہیں، ان کے لیے غربت، عورتوں اور بچوں کے لیے اہم سماجی مسئلہ ہے لیکن موجودہ حالات میں جب کہ ایک ملک ہوشربا تبدیلی کے عمل سے دوچار ہے۔

افغانستان کو غربت سے نجات کی اولین ضرورت ہے، اس کی معیشت زمین بوس ہونے کے قریب بتائی جاتی ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کو افغانستان کی معاونت اور معاشی صورتحال کو تباہی سے بچانے کے لیے اہم اقدامات کرنا ہوں گے۔

پاکستان نے افغانستان کی صورتحال پر بڑی سمجھداری سے کام لیا ہے، اس نے برادر ملک کو ہر ممکن امداد دینے کی عملی کوشش کی ہے۔ اس کے امدادی کھیپ خوست تک پہنچ گئے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان کے سیاسی، سماجی، معاشی اور انسانی معاملات انتہائی پیچیدہ ہیں جن کو سیاسی طور پر حل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا اقتصادی اور معاشی حل نکالنا بے حد ضروری ہے، خط غربت کا خدشہ بیداری کا الارم ہے، طالبان کی تمام تر دانش و حکمت، ان کے نظام حکومت کے استحکام اور بقا میں مضمر ہے، ان کی معیشت فوری اقدامات کی متلاشی ہے، لوگ غربت زدہ ہونگے تو کوئی بھی سانحہ خطے کے دروبام کو متاثر کرسکتا ہے۔

ایک سیاسی مبصر کا کہنا ہے کہ طالبان کو تاریخ نے ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچا دیا ہے، افغانستان کو مالیاتی اداروں، غیر ملکی بینکوں اور بڑی اقتصادی قوتوں نے حصار میں لے رکھا ہے۔ طالبان ''ایک انار سو بیمار '' کی کہانی کا عنوان بن چکے ہیں، انھیں اپنی دانست میں ایک تاریخ ساز حکمت عملی کے ذریعے ملک کو بحران سے نکالنا ہوگا۔

چنانچہ اقتصادی ماہرین نے بنیادی معاشی مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے مذکورہ تشخیصی مطالعہ میں بڑھتی ہوئی شدت اور تنہائی کے چار ممکنہ منظرناموں کا تجزیہ کیا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ حقیقی جی ڈی پی 13.2 فیصد تک سکڑ سکتی ہے، جس سے غربت کی شرح میں 25 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے۔

اس تشخیص میں تازہ ترین دستیاب اعداد و شمار (2018) کی بنیاد پر افغانستان کے منظر ناموں کو فرض کر نے کے لیے قابل حساب عمومی توازن ماڈل استعمال کیا گیا۔ ماڈلنگ میں تمام بڑے شراکت داروں کے ساتھ تجارت میں 2 ماہ کے تعطل، پیسہ خرچ کرنے کی صلاحیت میں 4فیصد کمی اور مواصلات میں رکاوٹ کے مفروضوں کے ذریعے ایک بدترین منظرنامے کی نشاندہی کی گئی۔

تشخیص کے مطابق ان تمام پہلوؤں کا مجموعی خط غربت کو مزید نیچے لے جانے کا سبب بن سکتا ہے جو ابھی 72 فیصد ہے۔ پاکستان کے ساتھ تجارت میں 2 سے 4 ماہ کے تعطل کے پہلے منظرنامے میں مجموعی ملکی پیداوار 3.8 فیصد کمی کے ساتھ 8 فیصد ہوسکتی ہے جب کہ سال 2020 کے مقابلے میں غربت کا اثر 7 سے 16 فیصد تک بڑھ جائے گا۔ دوسرے منظرنامے کے مطابق تمام بڑے شراکت داروں کے ساتھ تجارت دو ماہ کے لیے رک گئی تو حقیقی جی ڈی پی 12فیصد کم ہو جائے گی اور غربت کے اثرات 2020 سے تقریبا 23 فیصد بڑھ جائیں گے۔

تیسرے منظرنامے میں کم شدت کا بحران دکھائی دے رہا ہے جس میں بکھری ہوئی معیشت ہے اور صرف پاکستان کے ساتھ بین الاقوامی تجارت میں رکاوٹ ہے، چنانچہ فرض کیا گیا کہ پاکستان کے ساتھ تجارت دو سے چار ماہ کے لیے رکی ہوئی ہے جس سے پیسہ خرچ کرنے کی صلاحیت 2فیصد کم ہوگی۔

پیداوار اور رابطے کے عوامل کی اعلیٰ قیمت متاثر ہے، حقیقی جی ڈی پی 5.5 فیصد سے 11فیصد تک گر جائے گی جب کہ غربت 2020 کے مقابلے 10سے20فیصد تک بڑھ جائے گی۔ چوتھے منظرنامے میں فرض کیا گیا ہے کہ تمام بڑے شراکت داروں کے ساتھ تجارت دو ماہ کے لیے رک گئی ہے، جس کے نتیجے میں حقیقی جی ڈی پی میں 13.2 فیصد کمی ہوجائے گی، یہ منظرنامہ تقریباً 97 فیصد آبادی کی عالمگیر غربت کا منظر پیش کرتا ہے۔

جہاں تک غربت کے عالمگیر منظرنامہ کا تعلق ہے تو دنیا کے تمام غریب، ترقی پذیر اور پسماندہ ملک یکساں معاشی مسائل کا شکار ہیں، غربت ان کے پاؤں کی زنجیر ہے، پاکستان ایک ترقی پذیر اور متحرک جمہوری مالک ہے جو اپنے نظام سے حاصل شدہ جمہوری ثمرات سے استفادہ کے لیے نچلے طبقات کو اوپر لانے کے اقدامات کررہا ہے مگر بے سمتی نے اسے معاشی منزل سے دور رکھا ہوا ہے، اس کے چارہ گروں کو ہمہ گیر اقتصادی کامیابی چاہیے لیکن حکومت تین سال گزارنے کے باوجود عوام کو مہنگائی سے نجات نہیں دلا سکی۔

بیروزگاری کی سطح ہولناک حد تک بڑھ گئی ہے۔گزشتہ سال کے دوران پاکستان میں غربت میں اضافے کی شرح 4.4 فیصد سے بڑھ کر 5.4 فیصد ہوگئی ہے اور مزید بیس لاکھ سے زائد افراد خطِ غربت سے نیچے چلے گئے جب کہ 40 فیصد کنبوں کو درمیانے سے لے کر انتہائی درجے کے غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑا۔

اگرچہ گزشتہ برس مئی میں لاک ڈاؤن ختم ہونے سے صنعتی پیداوار اور کاروباری اعتماد دونوں کورونا وبا سے پہلے کی سطح پر آچکے تھے، چنانچہ کورونا سے متاثرہ بہت سی صنعتوں کے کارکنان کام پر واپس آنا شروع ہوگئے، مگر وہ شعبے جو سب سے زیادہ غریب آبادی کی افرادی قوت کو سمیٹے ہوئے ہیں، جیسا کہ زراعت وہ بدستور بحالی کے منتظر ہیں اور یہاں غربت کا مسئلہ بدستور اپنی جگہ پر موجود ہے۔

یہ منظرنامہ ہمارے ان وزرا کے دعوؤں کے برعکس ہے جو یہ کہتے ہیں کہ عوام کی قوتِ خرید میں اضافہ ہوا ہے۔ کیا حکومت غربت کی اصل تصویر کو چھپانے کے لیے 2018-19 کے اعداد و شمار پیش کررہی ہے؟ غربت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے درست منصوبہ بندی بنیادی شرط ہے مگر یہ کام درست اعداد و شمار کے بغیر ممکن نہیں۔ لیکن ہمارے ہاں اس نوعیت کا تخمینہ سدا سے بے قاعدگی کا شکار ہونے کی وجہ سے معیارِ زندگی اور انفرادی معاشی مسائل کے درست اندازے تک حکومت تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔

درحقیقت خط غربت سے نیچے جانے والوں کی تعداد رک نہیں رہی، بعض وزرا کا کہنا ہے کہ مہنگائی ضرور بڑھی ہے تاہم آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے، لیکن عوام میں مہنگائی کی وجہ سے بے چینی بڑھ رہی ہے، ہر دل مضطرب ہے۔

عوام کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی میں مسلسل اضافے کا ہے کوئی ایسی فورس نہیں جو روز مرہ ضروریات کی اشیا کی قیمتوں پر کوئی چیک لگا دے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اگر حکومت چیک اینڈ بیلنس کا کوئی میکنزم متعارف کرا دے اور ذخیرہ اندوزوں، مافیاؤں اور اسمگلروں کے خلاف سخت ترین اقدامات کرے تو حالات بدل سکتے ہیں۔

ارباب اختیار مہنگائی اور بیروزگاری کی روک تھام پر توجہ نہیں دیں گے تو معیشت کے استحکام کے محض دعوؤں سے کچھ نہیں ہوگا ، معاشی اطمینان تو عوام کے چہروں سے نظر آنا چاہیے، یہی تو عوامی آسودگی ہے۔

مقبول خبریں