پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے عوام کے معاشی مسائل کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔


Editorial September 17, 2021
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے عوام کے معاشی مسائل کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔ (فوٹو : فائل)

وزارت خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لٹر اضافہ کیا گیاہے، جس کے بعداس کی نئی قیمت 123روپے 30پیسے ہو گئی۔ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5روپے ایک پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے ،اس کی نئی قیمت 120روپے 4 پیسے ہو گئی ہے۔

لائٹ ڈیزل کی قیمت میں5روپے 92پیسے فی لٹر اضافہ ہوا ہے،جس کے بعداس کی نئی قیمت 90روپے 69پیسے ہو گئی ہے۔ مٹی کے تیل کی قیمت میں 5روپے 42پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے ،اب اس کی نئی قیمت 92روپے 26پیسے ہوگئی ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے عوام کے معاشی مسائل کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے، کیونکہ اس فیصلے کے نتیجے میں مہنگائی کا گراف مزید اوپر جائے گا جس سے عام آدمی کی مالی مشکلات پہلے سے بھی زیادہ بڑھ جائیں گی ، گو حکومت نے عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور زرمبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ کے تناظر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ قرار دیا ہے۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک میں جب بھی اشیاء ضروریہ کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو پھر وہ کم نہیں ہوتیں جب کہ غربت و بے روزگاری تو شاید پاکستانیوں کے نصیب میں لکھ دیاگیا ہے کہ ہر پیدا ہونے والا شخص اپنی ساری عمر کی تگ و دو کے باوجود غربت کے عفریت سے نہیں بچ پاتا ،بالآخر وہ اسی حالت میں ہی اپنے خالق حقیقی سے جاملتا ہے۔

عوام کی غربت اور پسماندگی کے ذمے دار کسی حد تک اُن کے ووٹوں سے منتخب ہوکر اسمبلیوں کی زینت بننے والے پارلیمنٹیرنز بھی ہیں کیونکہ ان کا اصل کام قانون ساز اسمبلیوں میں بیٹھ کر ملک و قوم کے لیے قانون سازی کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی ترقی و خوشحالی کے لیے پالیسیاں بنانا بھی ہوتا ہے مگر وہ اپنے فرائض سے غفلت کے مرتکب ہوکر اپنی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی کوششوں میں لگ جاتے یا پھر اپنے پارٹی لیڈران کی وکالت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ملک کے پارلیمنٹیرینز کو ملک میں غربت،بے روزگاری اور مہنگائی پر توجہ دینے اور اسمبلیوں میں بات کرنے کی فرصت ہی نہیں ہوتی ۔

مہنگائی کا جن ہر گزرتے دن کے ساتھ بے قابو ہوتا جارہا ہے۔ ماہرین نے خدشہ ظاہرکیا ہے قیمتوں میں تازہ اضافہ عوام کی مالیاتی حیثیت پرشدید اثر ڈالے گا ،خاص طور پر وہ لوگ جن کے گھروں میں مٹی کا تیل استعمال کیا جاتا ہے جب کہ ڈیزل ٹرانسپورٹ اور زراعت کے شعبوں میں استعمال ہوتا ہے۔

اس کی قیمت میں اضافے سے زرعی معیشت خصوصاً چھوٹا کسان متاثر ہوگا۔ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کو ریونیو اکٹھا کرنے کا ایک اہم ذریعہ بنا لیا ہے ۔ پاکستان کی معیشت کو پہلے ہی متعدد چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ ملک کا تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے، ٹیکس ریونیو میں کمی ہو رہی ہے اور ملکی قرضوں میں بھی دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

تاجروں کا موقف ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے سے مصنوعات مزید مہنگی ہوںگی ۔ ان حالات میں حکومت کو چاہیے تھا کہ و ہ ملک میں تیار ہونے والی اشیائے کی پیداواری لاگت کو کم کرنے پر زیادہ توجہ دیتی تاکہ صنعت و تجارت کو بہتر فروغ ملتا اور برآمدات میں اضافہ ہونے سے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوتے، لیکن پٹرولیم مصنوعات میں مزید اضافہ حکومت کی معیشت کو بہتر کرنے کی تمام کوششوں کو متاثر کرے گا۔ پاکستان زیادہ تر بجلی تیل سے پیدا کرتا ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے بجلی بہت مہنگی ہو جائے گی، جس سے کاروبار کی لاگت میں بھی کئی گنا اضافہ ہو۔

پٹرولیم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء عام آدمی کی قوت خرید سے پہلے ہی باہر ہوچکی ہیں اور اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ان نرخوں میں آنے والے وقت میں ہرہفتے مزید اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ حکومت کسی وقت اگر قیمت میں کمی کرتی بھی ہے تو وہ پیسوں میں ہوتی ہے جب کہ بڑھاتی روپوں کے حساب سے ہے۔

ملک میں مہنگائی مافیا کو بھی حکمرانوں کی بے حسی کا بخوبی اندازہ ہو چکا ہے، لہٰذا انھوں نے مہنگائی کے گراف کو روز بروز بلند سے بلند تر کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ٹماٹر، پیاز ، لیموں تو رہے ایک جانب دیگر سبزیوں اور خوردنی اشیاء کے ساتھ پٹرول، ڈیزل، بجلی اور گیس کی قیمتوں کے اضافے نے بھی مہنگائی کا دامن پکڑ لیا ہے۔ملک میں بیروزگاری کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

سیکڑوں نجی کمپنیوں نے اپنے ملازموں کو فارغ کر دیا ہے جس کے باعث بے روزگاری میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ حکومتی ایوانوں میں براجمان نمایندوں کی طرف سے بتائے جانے والے مثبت معاشی اشاروں کے باوجود عوام بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے غذا میں کمی پر مجبور ہوتے جارہے ہیں۔ مہنگائی کا جن جس تیزی سے قدآور ہوتا جارہا ہے عوام کے اتنا ہی زندگی گزارنا مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے، ہمارے ادارے نہ جانے کیوں بے بس اور بے اعتنائی برت رہے ہیں۔

ان اسباب میں سب سے پہلے نمبر پر مقامی طور پر تیار ہونے والی اشیاء پر مختلف قسم کے ٹیکس ہیں ، اس کے بعد دوسرے نمبر پر زرعی اجناس کی منڈی پر قابض مڈل مین ہیں، مڈل مین اور آڑھتیوں کا اتحاد نواحی علاقوں میں اونے پونے داموں اشیائے ضروریہ چھوٹے کاشتکاروں سے خرید کر اپنے گوداموں اور اسٹوروں میں ذخیرہ کر لیتا ہے اور پھر اپنی من مانی قیمتوں پر مارکیٹ میں لے آتا ہے۔ان اس طبقے کی مضبوطی کی سب سے بڑی وجہ حکومتی اداروں کی کمزور رٹ ہے جس کی وجہ سے یہ افراد گرانی کا سبب بنتے ہیں،تیسرے نمبر پر وہ مافیا ہے جو اشیائے خوردنی کو ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں بلکہ بیرونی ممالک میں بھی اسمگلنگ کراتا ہے۔

پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت وبے روزگاری کا مقصد ہر گز یہ نہیں ہے کہ ملک کے نوجوانوں میں اہلیت نہیں بلکہ حقیقت تویہ ہے کہ طلباؤ طالبات بھاری فیسیں ادا کرکے بمشکل اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرکے اعزازی نمبروں سے ڈگریاں حاصل کرتے ہیں لیکن متعلقہ شعبوں میں روزگار کے مواقعے نہ ہونے سے وہ مایوسی کا شکار دکھائی دیتے ہیں، اگر نوجوانوں کو اچھی تعلیم وتربیت کے ساتھ بہتر روزگار بھی فراہم کیا جائے تو جرائم کی شرح میں کافی حد تک کمی واقع ہوسکتی ہے مگر افسوس کہ بے روزگاری کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ایک سروے کے مطابق پاکستان میں دو ملین سے زائد افرادبے روزگار ہیں جو کسی بھی وقت جرائم پیشہ افراد کے آلہ کار بن سکتے ہیں۔پاکستان بین الاقومی قرضوں کے بوجھ تلے دبتا جارہا ہے اور باوجود اس کے کوئی خاطر خواہ اقدامات نظر نہیں آتے۔

وطن عزیز پاکستان اس وقت تاریخی انتشار، لاقانونیت، مہنگائی، بدامنی، جنسی تشدد، ڈکیتیوں، بے روزگاری سمیت دیگر گھمبیر طوفانی بحرانوں سے گزر رہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے منشور میں مہنگائی ختم کرنے کا وعدہ تھا مگر آج پاکستان میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں سمیت پٹرول میں ماہانہ دو بار اضافے کی بدولت نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہیں جس کے سبب ہر شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد کی زندگیاں اجیرن بن کر رہ گئی ہے۔

حکمران طبقہ کچھ کرنے کے بجائے سب اچھا ہے کا راگ الاپ رہا ہے اگر سب کچھ اسی طرح چلتا رہا تو ملک میں نا صرف غربت وبے روزگاری خطرناک حد تک بڑھ جائے گی بلکہ اس کی وجہ سے خودکشیوں کی شرح میں بھی اضافہ ہوگا ۔ وزیراعظم عمران خان پاکستان کی موجودہ ابتر معاشی صورتحال سے سخت پریشان ہیں جو تمام کوششوں کے باوجود سدھرنے کے بجائے ابتری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ملکی معیشت بہتر کرنے کے لیے تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد ایڈجسمنٹ کا عمل شروع کیا تھا۔

ٹیکسز اور شرح سود میں اضافہ، کرنسی کی قدر میں کمی اور اخراجات میں کٹوتی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ صنعتی صورتحال یہ ہے کہ پیداوار کم ترین سطح پر آچکی ہے، مزدور بے روزگار ہیں اور ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس اصلاحات کے بعد معیشت کا پہیہ مزید سست ہو گیا ہے۔

آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد ایسی کڑی شرائط پر عمل کرنا پڑ رہا ہے جس کے نتیجے میں قومی خزانے میں رقم تو آرہی ہے لیکن معیشت اوپر جانے کے بجائے مسلسل نیچے کی جانب سفر کر رہی ہے اور عام آدمی رو رہا ہے کہ کیا یہ تبدیلی تھی، جس کا ہم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ معیشت دستاویزی بنانے کے لیے حکومت نے صنعت کار اور تاجر برادری کو بھی اپنا مخالف بنا لیا ہے۔ حکومت کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ ملک کے اصل اسٹیک ہولڈرز عوام ہی ہیں۔

حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے قول و فعل میں یکسانیت لانا ہوگی تاکہ ان کے بیان و کردار کے تضاد کی وجہ سے جو مسائل بڑھ رہے ہیں وہ کم ہوسکیں ۔حکومت پر یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عوام کو درپیش بنیادی مسائل کے حل کے لیے اقدامات کو بھی یقینی بنائیں۔

مقبول خبریں