افغانستان اور عالمی منظر نامہ

عالمی برادری اگر افغانستان میں طالبان حکام کے ساتھ چلتی ہے تو اس میں افغانستان اور پوری دنیا کا فائدہ ہوگا۔


Editorial September 18, 2021
عالمی برادری اگر افغانستان میں طالبان حکام کے ساتھ چلتی ہے تو اس میں افغانستان اور پوری دنیا کا فائدہ ہوگا۔ فوٹو: سوشل میڈیا

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں40 سال بعد امن قائم ہوا ہے، وہاں جامع حکومت کے قیام سے آپس میں رابطوں کو فروغ ملے گا۔ خطے کے ممالک کو نئے پیدا ہونے والے مواقعے سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

پاکستان میں کاروبار کے لیے عالمی اور علاقائی سرمایہ کاروں کو تمام ممکنہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ جمعرات کو دوشنبے میں پاکستان تاجکستان بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا پاکستان اور تاجکستان میں 80 ملین ڈالر کی تجارت ہوتی ہے جو دونوں ممالک کی حقیقی صلاحیت سے بہت کم ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ملکی صورتحال اور افغانستان کے حالات ہر جگہ چھائے ہوئے ہیں، دنیا طالبان سے تعاون کی خواہاں ہے، افغان معیشت کے سقوط کے خطرات بھی واضح ہیں۔ دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ اور دیگر سفارت کار پاکستان سے تعمیری کردار ادا کرنے کی باتوں پر زور دے رہے ہیں۔

امریکی انداز نظر بظاہر پاکستان کے محاصرہ پر مائل ہے۔ نظر تو ایسا آتا ہے کہ طالبان سے معاملہ کرنے کے لیے پاکستان کو ایک بار پھر فرنٹ لائن پر لایا جائے، پند ونصائح سے اسے تعمیری کردار کی ادائیگی پر قائل کیا جائے لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان سے تعمیری کردار کی امریکی خواہش کی حقیقی بنیاد ہے کیا۔

اب تک جو صورتحال افغانستان کے انخلا کے بعد اور کابل ایئر پورٹ پر پیش آئی کیا پاکستان کا اس میں کوئی کردار تھا، اگر نہیں تو فرد جرم پاکستان پر کیسے عائد ہوسکتی ہے کہ اسی پر تعمیری کردار ادا کرنے پر زور دیا جا رہا ہے، کیا ارباب اختیار کو اس گھیراؤ کا ادراک ہے یا اس کے ذریعے ایک بار بھر اسٹرٹیجک ڈیپتھ کی پالیسی ہم پر لاگو تو نہیں کی جارہی ہے۔ خیال رہے کہ افغانستان میں ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ افغانستان کا پورا معاشی ملبہ پاکستان پر گرانے کی منصوبہ بندی کامیاب ہو۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان کی اجتماعی مدد دنیا نے مل کر کرنی ہے تو یہ صائب اسٹرٹیجی ہے لیکن اگر طالبان کی امداد کے شور میں پاکستان پر دباؤ بڑھانے کی کوئی کوشش ہورہی ہے تو اس سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔

بہت ساری عالمی قوتوں کی کوشش ہے کہ اس تاثر کو پھیلایا جائے کہ یورپ کو جس افغانستان کی ضرورت تھی وہ طالبان کے تمام ہارڈ لائنرز کے افغان حکومت میں آنے کے بعد افغانستان اخلاقی دباؤ سے نکل رہا ہے کیونکہ اس کی حیثیت ایک فاتح کی ہے، اب اس کی جو مرضی وہ کرلے، کیونکہ دنیا اس کی ہر خواہش اور ضرورت کی تکمیل کے لیے تیار ہے، بعض ذرایع کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کو افغانستان کی نئی صورتحال پر تشویش ہے اور جس کا اظہار وہ اپنے پارلیمانی اور جمہوری فورمز پر کرچکی ہے۔

ادھر طالبان کا کہنا یہ ہے کہ وہ متحد ہیں، پنج شیر کے داخلی اختلافات اور ملا بردارز کی ہلاکت کے بے بنیاد حوالے سے اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں۔افغانستان میں عوام عدم اطمینان اور بڑھتی ہوئی معاشی بدحالی سے خوفزدہ ہیں، تعلیمی ادارے کو ملنے والے نئے تعلیمی احکامات کے بعد سے طالبات سخت الجھن میں ہیں، ان پر مخلوط تدریسی نظام پر پابندی ہے۔

پردہ اور لباس کی پابندی پر سختیوں کی اطلاعات ہیں، فٹ بال کی جس جونیئر خواتین ٹیم کی پاکستان آمد اور ان کو خوش آمدید کہنے کی تیاریاں تھیں وہ ٹیم طالبان سے چھپ کر یہاں آئی تھی اور ناقابل بیان حالات میں انھیں دوسری جگہ بجھوا دیا گیا، فٹبال کے مقامی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ایسی مہم جوئی کی کیا ضرورت تھی، افغانستان کی انتظامیہ تو خواتین کی کرکٹ کھیلنے کو اجازت دینے پر تیار نہیں وہ فٹبال کھیلنے کی کیسے اجازت دے سکتی ہے۔ عجلت میںمنصوبہ بندی کا شکار کرکٹ بورڈ بھی ہوا ہے، نیوزی لینڈ کی ٹیم مشکلات سے دوچار ہے، اسے واپس اپنے ملک میں بلایا گیا ہے، فیصلوں کے جابجا بحران نے عجیب صورتحال پیدا کی ہے۔

دوسری جانب نادرا کے چیئرمین طارق ملک کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آئینی ادارہ ہے، وہ ہمیں ڈانٹتے بھی ہیں تو ڈانٹ سکتے ہیں، یہ ان کا حق ہے۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں چیئرمین نادرا طارق ملک نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کو آرڈر نہیں کر رہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ غلط فہمی ہو سکتی ہے، ہم نے ان کے کہنے پر اسٹرٹیجی بنائی، پروجیکٹ پلان دیا۔ چیئرمین نادرا نے کہا کہ ای سی پی نے ہمیں زبانی گو ہیڈ دیا، اس کے بعد آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ نے اجازت مانگی۔ انھوں نے مزید کہا ہے کہ تیکنیکی لوگ تیکنیکی بات چیت کرتے ہیں تو غلط فہمی ہوئی ہو گی۔ طارق ملک کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان جاؤں گا تو غلط فہمی دورکروں گا، ہم ایک دوسرے کے ساتھ بہت تعاون کرتے رہے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان میں تیل کی قیمتیں اب بھی خطے کے باقی ممالک کی نسبت سب سے کم ہیں یا تو تین برسوں میں یہاں تیل کے کنوئیں نکل آتے ورنہ ظاہر ہے تیل باہر سے خریدنا ہے تو عالمی ریٹس کے ساتھ قیمتیں بھی بڑھیں گی، یہی اصول باقی درآمدات کے لیے ہے۔

جمعرات کو اپنے ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا اصل کامیابی یہ ہے کہ75فیصد آبادی کی آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کی قوت خرید ہندوستان سے بہتر ہے، تنخواہ دار طبقے کی مشکلات اپنی جگہ لیکن 60 فیصد آبادی زراعت سے وابستہ ہے جن کو 1100ارب روپے اضافی آمدنی ہوئی ہے۔

تعمیرات اور انڈسٹری سے وابستہ کروڑوں لوگوں کی آمدن میں بھی اضافہ ہوا ہے، مستری اور مزدور کی دیہاڑی تین گنا بڑھ گئی ہے۔ تاہم وزیر خزانہ شوکت ترین نے عوام کی آمدنی بڑھنے کے دعوے کی توثیق نہیں کی، اسد عمر بھی عوام کے سوال سے گریزاں نظر آئے، سوال یہ ہے کہ مہنگائی کے تقابل پر اصرار کرنے کے شدید رد عمل کا کچھ احساس کرنا چاہیے، ایک طرف عوام مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات پر غصے میں ہیں، دوسری طرف وزرا بار بار سب سے کم قیمت پر پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کے دعوے کرتے ہیں، عوامی رد عمل سے ڈرنا چاہیے۔

یہ مغالطہ سابق کئی حکمرانوں کو مہنگا پڑا ہے، دریں اثناء جمعرات کو دوشنبے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت وزیراعظم عمران خان کے اکنامک وژن کے تحت سی پیک کو وسطی ایشیائی ریاستوں سے منسلک کرنا چاہتی ہے، ازبکستان کے ساتھ ٹرانس مزار شریف ٹرین اور روڈ نیٹ ورک منصوبے کو گوادر اور کراچی سے ملائیں گے، اگر وسطی ایشیائی ریاستیں ٹرین اور سڑک سے منسلک ہو جائیں تو پورا منظر نامہ تبدیل ہو جائے گا۔ افغانستان کے معاملے سے پہلے بھی ہم وسطی ایشیائی ریاستوں پر اس منصوبہ کے بارے میں زور دیتے رہے ہیں۔

اب ہمیں پوری امید ہے کہ افغانستان میں صورتحال بہتر ہوگی، قازقستان کے صدر کے ساتھ وزیراعظم کی ملاقات میں بھی افغانستان کی صورتحال پر بات ہوئی ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان یا تو استحکام کی طرف چلا جائے گا یا مکمل نقصان کی طرف جائے گا۔

عالمی برادری اگر افغانستان میں طالبان حکام کے ساتھ چلتی ہے تو اس میں افغانستان اور پوری دنیا کا فائدہ ہوگا، اگر ہم نے افغانستان کو راستے میں ہی چھوڑ دیا تو اس سے مسائل پیدا ہوں گے۔ خطے کے تمام رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ افغانستان میں استحکام کے لیے افغانستان کو تنہا نہ چھوڑا جائے، افغانستان دوراہے پر کھڑا ہے، ہم نے خطے کے رہنماؤں کو باور کرایا ہے کہ افغانستان یا تو استحکام کی طرف جائے گا اور اگر ایسا نہ ہوا تو پورے خطے کے لیے خطرناک ہوگا، اس صورتحال کا تمام لیڈر شپ کو ادراک ہے۔

اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے پناہ گزین فلیپو گرینڈی نے ایک بیان میں کہا ہے افغانستان میں انسانی بحران روکنے کے لیے نصف آبادی کو فوری امداد کی ضرورت ہے، وہاں صورتحال ناگفتہ بہ ہے، اگر عوامی سہولیات اور معیشت تباہ ہوتی ہے تو ہم مزید عدم استحکام اور نقل مکانی دیکھیں گے، جس کے عالمی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ادھر جرمنی نے 2600 افغانوں کو عارضی رہائشی اجازت نامے دینے کا اعلان کیا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کے مسائل اور چیلنجزکا اجتماعی اور مشترکہ کوششوں سے کوئی صائب حال تلاش کیا جائے، ملکی سیاسی صورتحال کا اگر افغانستان کی سماجی اور سیاسی صورتحال سے جائزہ لیا جائے تو منظرنامہ اعصاب شکن ہی کہلائے گا۔ کوشش ہونی چاہیے کہ سیاسی عدم توازن کی جگہ تدبر اور دانشمندی سے سیاسی مسائل کا حل تلاش کیا جائے اس لیے کہ پاکستان کو اعصاب شکن چیلنجز کے بگولوں کا سامنا ہے۔

سیاسی افق پر واقعات و حادثات کا ہوشربا سلسلہ دراز ہو چلا ہے، ارباب اختیار کو ہوش مندی اور دور اندیشی سے کام لینا چاہیے۔

مقبول خبریں