نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ منسوخ

ایسے فیصلوں سے عالمی سطح پر کرکٹ کے کھیل کو بہت زیادہ نقصان پہنچے گا۔


Editorial September 19, 2021
ایسے فیصلوں سے عالمی سطح پر کرکٹ کے کھیل کو بہت زیادہ نقصان پہنچے گا۔ فوٹو : فائل

نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نے راولپنڈی ون ڈے میچ شروع ہونے سے صرف چندگھنٹے قبل اچانک سیکیورٹی خدشات کا بہانہ بنا کر یکطرفہ طور پرپاکستان کا دورہ منسوخ کردیا ہے ۔پاکستان اورمہمان ٹیم کے درمیان پہلا ون ڈے جمعے کو ہونا تھا، راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کے چاروں اطراف سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا چکے تھے۔

راولپنڈی پولیس کے 400 جب کہ ٹریفک پولیس کے 350 اہلکار تعینات تھے۔ ہوٹل سے دونوں ٹیموں کی آمد اور روانگی کے وقت روٹ مکمل طور پر عام ٹریفک کے لیے بند رکھا گیا تھا ۔ کرکٹ اسٹیڈیم کے اطراف اور روٹ کی عمارتوں پر ماہر نشانہ باز تعینات کیے گئے تھے۔

شہر کے 50 مقامات پر خصوصی پکٹس بھی قائم کی گئی تھیں، راولپنڈی میٹرو بس سروس معطل کر دی گئی تھی،شائقین کرکٹ کو بائیو میٹرک،واک تھرو گیٹ سمیت میٹل ڈیٹیکٹر سے چیک کیا جانا تھا لیکن اتنے فول پروف انتظامات کے باوجود نیوزی لینڈ نے اچانک دوروہ منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔

نیوزی لینڈ کرکٹ چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ وائیٹ کا کہنا ہے ہمیں پاکستان کے خلاف سیریز نہ کھیلنے کا دکھ ہے، ہم مایوس کن لمحات میں سیریز کو ملتوی کرتے ہیں، ہم نے پاکستان کے کرکٹ حکام کو اطلاع دے دی ہے، ہمارے لیے کھلاڑیوں کی سیکیورٹی اوّلین ترجیح ہے،موجودہ حالات میں ہمارے پاس یہی آپشن تھا، ہماری حکومت نے فوری طور پر دورہ پاکستان ملتوی کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں اور ہم نے کپتان سمیت ٹیم کے ممبران اور سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کی مشاورت سے دورہ پاکستان ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے،ہمیں اندازہ ہے کہ پی سی بی کے لیے یہ بہت بڑا دھچکا ہے لیکن ہمارے کھلاڑی محفوظ ہیں، اس حوالے سے بہترین اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ انھیں سیکیورٹی کے حوالے سے الرٹ کیا گیا ہے اس لیے یکطرفہ طور پر سیریز ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ اور حکومت پاکستان نے مہمان ٹیم کی سیکیورٹی کے لیے فول پروف انتظامات کررکھے تھے، نیوزی کرکٹ بورڈ کو بھی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

وزیر اعظم عمران خان نے دوشنبے سے ذاتی طور پر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو رابطہ کرکے انھیں بتایا کہ ہماری سیکیورٹی انٹیلی جنس دنیا کی ایک بہترین ایجنسی ہے اور مہمان ٹیم کو کوئی سیکیورٹی تھریٹ نہیں ہے،نیوزی لینڈ ٹیم کے آفیشلز نے بھی حکومت پاکستان کی سیکیورٹی پر اطمینان کا اظہار کیاہے تاہم نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے اپنے ملک کی ٹیم کا دورہ پاکستان منسوخ کرنے کے فیصلے کی حمایت کردی۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹورنامنٹ نہ ہونے پر سب کو کتنا افسوس ہے، اس کا اندازہ ہے، مگر کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے سیریز منسوخ کرنے کے فیصلے کی مکمل حمایت کرتی ہوں۔

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان 3 ون ڈے اور 5 ٹی۔20 میچز کی سیریز شیڈول تھی۔ تین ون ڈے میچز راولپنڈی میں کھیلے جانے تھے۔ 5 ٹی 20 میچز کی سیریز کے تمام میچز قذافی اسٹیڈیم لاہور میں شیڈول تھے۔

وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے جمعے کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کا دورہ ملتوی ہونا ایک سازش ہے ،کوئی سیکیورٹی تھریٹ نہیں ، ہمارے اداروں کے پاس کسی قسم کے سیکیورٹی تھریٹ کی اطلاع نہیں جس کا ذکر نیوزی لینڈ کے سیکیورٹی انچارج کی طرف سے کیا گیا ہے ۔نیوزی لینڈ کی ایک سیکیورٹی ٹیم بھی پاکستان آئی تھی جس نے سیکیورٹی اقدامات کو تسلی بخش قرار دیا تھا۔

وزیر داخلہ نے مزید کہاکہ پاکستان کی طرف سے نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کو بغیر تماشائیوں کے میچ کھیلنے کی بھی پیشکش کی گئی لیکن انھوں نے بات نہیں مانی ۔اس سازش کے پیچھے دستانے پہنے ہاتھ کارفرما ہیں جو پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتے تھے ،ان کی خواہش پوری نہیں ہوگی ۔

نیوزی لینڈ نے جس انداز میں اپنی کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان ختم کیا ہے، اسے درست طریقہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یقینا نیوزی لینڈ کی حکومت اور کرکٹ بورڈ کو اس فیصلے کے منفی اثرات کا علم ہو گا لیکن اس کے باوجود پاکستان کا دورہ منسوخ کرنا بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کھیل کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

کھیل کو سامنے رکھ کر سیاسی بنیاد پر فیصلے کرنے کی وجہ سے پاکستان میں کرکٹ کے کھیل کو جو نقصان پہنچنا ہے، وہ ایک الگ مسئلہ ہے لیکن ایسے فیصلوں سے عالمی سطح پر کرکٹ کے کھیل کو بہت زیادہ نقصان پہنچے گا۔ امید ہے کہ نیوزی کی حکومت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے گی اور مستقبل قریب میں نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم دوبارہ پاکستان کا دوہ کرے گی۔

 

مقبول خبریں