کرکٹ کے صدمات ہمت سے کام لینے کی ضرورت

کرکٹ کے شائقین کو یکے بعد دیگرے دھچکے لگے ہیں، ان کا اضطراب اور مایوسی فطری ہے۔


Editorial September 22, 2021
کرکٹ کے شائقین کو یکے بعد دیگرے دھچکے لگے ہیں، ان کا اضطراب اور مایوسی فطری ہے۔ فوٹو/اے ایف پی/فائل

نیوزی لینڈ کی جانب سے یکطرفہ طور پر دورہ منسوخ کیے جانے کے بعد انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے بھی اگلے ماہ ہونے والا دورہ پاکستان منسوخ کردیا جب کہ انگلینڈ اینڈ ویلزکرکٹ بورڈ نے ویمنز ٹیم کا بھی دورہ پاکستان ختم کردیا ہے۔ انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ اعلان کردیا گیا۔

کرکٹ کے شائقین کو یکے بعد دیگرے دھچکے لگے ہیں، ان کا اضطراب اور مایوسی فطری ہے۔ ماہرین اور مبصرین کے تبصروں سے کرکٹ کے اخبارات و جرائد اور چینلز پر شائقین کے جذبات و احساسات امڈ آئے ہیں۔کرکٹ سے رغبت اور دلچسپی عالمگیر ہے، کرکٹ مقبول ترین کھیلوں میں شمار ہوتا ہے اور پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا سحر برسوں سے قائم ہے۔

دنیا کے عظیم کرکٹرز نے برطانیہ ، آسٹریلیا ، ویسٹ انڈیز ، انڈیا، جنوبی افریقہ اورسری لنکا سے آکر یہاں ٹیسٹ میچ کھیلے، لیکن نیوزی لینڈ نے دہشت گردی کے تھریٹ کے حوالے سے جو فیصلہ کیا، اسے پاکستان کے شائقین کرکٹ ، پوری قوم اور حکومت نے کھیل کے لیے ناقابل یقین قرار دیا۔

عین میچ کے دن نیوزی لینڈکی وزیراعظم نے اپنی قومی ٹیم کو وطن بلا کر ایک درد انگیز اقدام کیا ، مایوس اور جذباتی مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب کرکٹ جنٹلمین کھیل نہیں رہا۔کرکٹ بہت کھیلی جارہی ہے ، ٹیسٹ سیریزکا وہ سحر باقی نہیں رہا، ویسٹ انڈیز کے طوفانی بولرز کی کالی آندھی سے کون واقف نہیں۔

کتنے گریٹ بیٹسمین اور بولرز کے نام شائقین کرکٹ کے ذہنوں میں محفوظ ہیں، وہ کرکٹ کے کھیل کے سفیر کہلائے گئے، انھوں نے کرکٹ کی بین الاقوامیت کی قندیل روشن کی، پاکستان کے دوسرے ملکوں سے دوطرفہ تعلقات کو انٹرنیشنل گیمزکے ذریعے فروغ دیا۔ پاکستان اور دیگر ممالک کے مابین دوستی کے رشتوں کو مستحکم کیاجب کہ کھلاڑیوں اور کھیل کی روایات کو جدت اور خوشنما تبدیلیوں سے دوچارکیا ہے۔

آج کرکٹ کے شیدائیوں کے دل چھلنی ہیں، انھیں معاصر ٹیموں کے انتظامی فیصلوں نے بہت رنجیدہ کیا ہے، تاہم انگلش کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کھلاڑیوں اور سپورٹ اسٹاف کی ذہنی اور جسمانی صحت و بہبود ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ اس خطے میں سفر کے بارے میں خدشات ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ایسی صورتحال میں آگے بڑھنے سے کھلاڑیوں پر دباؤ میں اضافہ ہو گا جو پہلے ہی محدود کووڈ ماحول میں طویل عرصے تک رہنے کے بعد اس سے نمٹ رہے ہیں۔ ہمارے ٹی 20 مینز اسکواڈ کے لیے اس میں اضافی پیچیدگی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے حالات میں دورہ کرنا آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے مثالی تیاری نہیں ہو گی جہاں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہمیں اندازہ ہے کہ اس فیصلے سے پی سی بی کو شدید مایوسی ہوگی جس نے اپنے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کے لیے انتھک محنت کی جب کہ پی سی بی کا گزشتہ دو ماہ کے دوران انگلش کرکٹ کے لیے تعاون دوستی کی واضح مثال ہے۔

انگلش بورڈ کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے پاکستان کرکٹ پر پڑنے والے اثرات کے لیے معذرت خواہ ہیں تاہم اپنے مستقبل کے وعدے کے 2022 کے ٹور پر توجہ مرکوز ہے۔ انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان 2 ٹی ٹوئنٹی میچز 13 اور 14 اکتوبر کو کھیلے جانے تھے لیکن اس صورتحال میں خطے کا دورہ کرنا پلیئرز کے لیے آئیڈیل نہیں۔ انگلینڈ کی ویمنز ٹیم نے بھی اگلے ماہ پاکستان آنا تھا۔

انگلینڈ کے مردوں کی ٹیم نے 2005 کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کرنا تھا جب کہ ان کی خواتین کی ٹیم اس سے پہلے کبھی بھی پاکستان کھیلنے نہیں آئی۔ پاکستان نے 2020 اور 2021 میں وبا کے دوران انگلینڈ کے دورے کیے تھے جب کہ 2020 میں تو خاص طور پر پاکستان نے میچوں کے لیے بائیو سکیور ببل کی کڑی شرائط پر اتفاق کیا تھا۔

دریں اثنا نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈیوڈ وائٹ نے کہا ہے کہ پاکستان سے منسوخ شدہ میچز دوبارہ کھیلنے سے متعلق کچھ عرصے میں سوچ بچار کریں گے جب کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو جو مالی نقصان ہوا اس بارے میں بھی غور کیا جائے گا۔ نیوزی لینڈ کے پھر سے دورہ پاکستان کے حوالے سے بات کرنا قبل از وقت ہے، پاکستان ہو یا انگلینڈ سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینا سب سے اہم ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ سے قریبی تعلقات بحال رکھے جاسکتے ہیں جب کہ پاکستانی عوام کرکٹ کے لیے جذبہ رکھنے والی قوم ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ پاکستانی عوام کو افسوس ہوا ہے، نیوزی لینڈ کرکٹ پاکستانی کرکٹ مداحوں کا دکھ سمجھ سکتی ہے۔

سابق کپتان ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم ڈیرن سیمی نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ میں بھی حملے ہوتے ہیں، آسٹریلیا میں بھی واقعات ہوتے دیکھے ہیں۔ وہاں کوئی شور نہیں مچاتا، فیلڈ ماہرین کہہ رہے ہیں کہ پاکستان محفوظ ہے تو اعتماد کرنا چاہیے، پاکستان میں حالات بدل چکے ہیں، پہلے لوگ پوچھتے تھے پاکستان جانا محفوظ ہے؟ اب لوگ پوچھتے ہیں پاکستان میں کھانا کہاں جا کرکھائیں۔

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے سیریز منسوخی کے فیصلے پر طنز کے تیر چلا دیے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ شیرکی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی ساری زندگی سے بہتر ہے۔ سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم اس دنیا میں رہتے ہیں جہاں دہشت گردی نے کھیل اور انٹرٹینمنٹ کو ہر ملک میں متاثرکیا۔

انھوں نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ وہ ایسے ملک میں کرکٹ کھیلنا پسند کریں گے جو اس سے مقابلے کے لیے تیار ہو۔ واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کی جانب سے یکطرفہ طور پر دورہ منسوخ کیے جانے کے بعد انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے مینز اور ویمنز کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان بھی ختم کر دیے۔

انگلش کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہماری کھلاڑیوں اور سپورٹ اسٹاف کی ذہنی صحت ہماری اولین ترجیح ہے، ہمیں اندازہ ہے کہ اس فیصلے سے پی سی بی کو شدید مایوسی ہوگی جس نے اپنے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کے لیے انتھک محنت کی جب کہ پی سی بی کا گزشتہ دو ماہ کے دوران انگلش کرکٹ کے لیے تعاون دوستی کی واضح مثال ہے۔

پاکستان کے دورے پر آنے والی نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان ٹام لیتھم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دورے کا اختتام فطری طور پر مایوس کن ہے، یہ پاکستان میں بسنے والوں کے لیے مایوس کن ہے جہاں برسوں میں ہوم میچز کم ملے ہیں، تاہم دورہ ختم ہونے کے بعد بھی پاکستانی حکام نے ہمارا بہت خیال رکھا۔

ایک انٹرویو میں نیوزی لینڈ ٹیم کے کپتان ٹام لیتھم نے کہا کہ مجھے یاد ہے کہ ایک روز پہلے جب میں بابر اعظم کے ساتھ جا رہا تھا تو وہ کس قدر خوش تھے کہ انٹرنیشنل کرکٹ اور ہم وہاں موجود ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ بابر اعظم بہت پرجوش تھے، یہ تاریخی لمحہ تھا کہ نیوزی لینڈ ٹیم 18 برسوں بعد وہاں آئی، میں بھی ٹیم کا حصہ بننے پر خوش تھا لیکن سب کچھ بدل گیا۔

ٹام لیتھم نے کہا کہ فیصلے کے بعد پاکستانی اتھارٹیز ہمارے لیے بہت اچھی تھیں، ہمیں آرام سے رکھا گیا، ہم پاکستانی اتھارٹیز کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ کیوی کپتان کا کہنا تھا کہ میں بھی ٹھیک ہوں اور ٹیم کے سب کھلاڑی بھی ٹھیک ہیں، دورہ ختم کرنے کے اعلان کے بعد 24 گھنٹوں میں ہم پاکستان سے نکلے، ہم سب نے وقت اکٹھے گزارا جو ہمارے لیے اچھا رہا، لیکن 24 گھنٹے تھکا دینے والے تھے، تاہم سب اچھا رہا، اب سب کھلاڑی اچھی اسپرٹ کے ساتھ گھر جانے کے لیے منتظر ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ میچ والے دن سب حیران تھے کہ کیا ہو رہا ہے اور پھر ہمیں بتایا گیا کہ ہم گھر واپس جا رہے ہیں۔ ٹام لیتھم کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کرکٹ، پلیئرز ایسوسی ایشن اور ہم سب کے لیے کھلاڑیوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔

ضرورت اس حقیقت کو مزید روشن کرنے کی ہے کہ کھیل محبت، تعاون، انٹرنیشنل ازم اور انسانیت کے مشترکہ جذبات کو فروغ دیتے ہیں، کرکٹ کے پرستاروں کو پیش آنے والے افسوسناک واقعات و صدمات پر حوصلہ سے کام لینا چاہیے، پاکستان کو ابھی کافی منزلیں طے کرنی ہیں، ارباب کرکٹ اور حکام دو طرفہ تعلقات کی حساسیت کو بھی پیش نظر رکھیں۔

کھیل میں اسپورٹس مین شپ کی لازوال اہمیت اسپورٹس کی دنیا میں ایک ابدی حیثیت کی حامل ہے، پاکستان اسپورٹس کی دنیا کو تجربات کی بھٹی سمجھے گی تو کوئی دھچکا اس کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکے گا۔ ہمارے کھلاڑی اس وقت کا انتظارکریں جب نیوزی لینڈ ان کے کسی اور وینیو پر یا ورلڈ کپ میں مقابل آئے گی تو اس وقت بھی جذبات و اعصاب پر قابو رکھنا لازمی ہوگا۔

مقبول خبریں