ایف بی آر نے بندرگاہوں پر روکی گئیں ری کنڈیشنڈ کاروں کی کلیئرنس کی اجازت دے دی

ایف بی آراقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کاپابندہے،کلیئرنس کیلیے نوٹیفکیشن جلد جاری کردیا جائیگا،ذرائع


Business Reporter/Ehtisham Mufti February 01, 2014
جرمانے وٹیکسزویلیوسے دگنے سے بھی زیادہ ہیں،ڈیمرج الگ، بھاری پینلٹی اداکرنے سے گاڑیاں بوجھ بن جائیں گی،ایسوسی ایشن عدالت جاسکتی ہے، ایچ ایم شہزاد ۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزارت تجارت کی سفارشات اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کراچی کی بندرگاہوں پر ستمبر2013 سے روکی گئی872 استعمال شدہ ری کنڈیشنڈ کاروں کی کسٹمزکلیئرنس کی اجازت دیدی ہے۔

اس حوالے سے جلد ہی نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گا۔ ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کی کسٹمزکلیئرنس سے متعلق چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ نے ''ایکسپریس'' سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کا پابند ہے لہٰذا وہ درآمدکنندگان جو رائج امپورٹ پالیسی کی مطلوبہ شرائط پوری کرنے سے قاصر رہے ہیں یا کسی اور غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں انہیں ایف بی آر یہ آپشن دے رہی ہے کہ وہ رائج کسٹم ڈیوٹی وٹیکسوں کی ادائیگیوں کے علاوہ 20 فیصد اضافی پینلٹی کی ادائیگیاں کرکے اپنی گاڑیاں کلیئرکراسکتے ہیں۔ طارق باجوہ نے کہا کہ ایف بی آر تجارت وصنعت اور عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں کی فراہمی کو ترجیح دینے کی پالیسی پر گامزن ہے تاہم ریونیو کے مقررہ اہداف کے حصول میں کسی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے زائد مدت کی حامل ری کنڈیشنڈ گاڑیوں پر اضافی سرچارج عائد کیا ہے، فی الوقت کراچی کی بندرگاہوں پر900 سے زائد ری کنڈیشنڈ گاڑیاں کسٹمزکلیئرنس کے منتظر ہیں جن میں سے محکمہ کسٹمز میں صرف 580 گاڑیوں کے مالکان نے گڈزڈیکلریشن داخل کی ہیں، امکان ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد باقی ماندہ ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کے درآمدکنندگان بھی کسٹمز کلیئرنس کیلیے گڈز ڈیکلریشنز داخل کرا دیں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ بندرگاہوں پر گزشتہ 4 ماہ سے پھنسی ہوئی ان گاڑیوں کی کلیئرنس کا عمل شروع ہونے سے ایف بی آر کو تقریباً 65 کروڑ روپے مالیت کا ریونیو حاصل ہونے کے امکانات ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ وزارت تجارت کی سفارش پر ری کنڈیشنڈ گاڑیوں کی کلیئرنس کی مذکورہ اسکیم صرف ون ٹائم دی گئی ہے۔

آل پاکستان موٹرڈیلرز ایسوسی ایشن نے پورٹ پر رکی ہوئی 872 استعمال شدہ گاڑیاں کلیئر کرانے کیلیے ایف بی آر کی پینلٹی کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے گاڑیاں کلیئر نہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔



ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد کے مطابق ستمبر 2013سے پورٹ پر رکی ہوئی گاڑیوں کی کلیئرنس کیلیے گاڑیوں کی ویلیو سے 84 سے 92فیصد تک پینلٹی عائد کی گئی ہے جو بعض گاڑیوں کی ویلیو اور مجموعی ٹیکسوں سے بھی زائد ہے۔ ایسوسی ایشن نے وزارت خزانہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے گاڑیوں پر بھاری مالیت کے جرمانے عائد کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے 10سے 20فیصد تک پینلٹی پر گاڑیاں کلیئر کرنے کے احکام جاری کیے جائیں بصورت دیگر گاڑیاں کلیئر نہیں کرائی جائیں گی جس سے حکومت کو ریونیو کی مد میں 80 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن اس حوالے سے عدالت کا راستہ بھی اختیار کرسکتی ہے جس کے لیے قانونی ماہرین سے مشورہ کیا جارہا ہے، ان گاڑیوں پر بھاری مالیت کا ڈیمرج بھی عائد ہوچکا ہے اور بھاری مالیت کی پینلٹی ادا کرنے کی صورت میں گاڑیاں درآمدکنندگان کیلیے بوجھ بن جائیں گی، اس لیے نقصان اٹھانے کے بجائے گاڑیاں کلیئر نہ کرانے کو ترجیح دی جائیگی۔ ایسوسی ایشن کے مطابق 800سی سی سے 1300سی سی تک کی گاڑیوں پر ویلیو کا 84فیصد جبکہ 1301سی سی سے 1800سی سی تک کی گاڑیوں پر 92فیصد پینلٹی عائد کی گئی ہے ، 800 سی سی تک کی گاڑیوں پرمجموعی ٹیکس 2لاکھ 44ہزار کے ساتھ 2لاکھ 40 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جارہا ہے، 1801سی سی سے 1ہزار سی سی تک کی گاڑیوں پر 3لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جارہا ہے جو مجموعی ٹیکس 2لاکھ 84 ہزار روپے سے بھی زائد ہے، 1001 سی سی سے 1300سی سی گاڑیوں پر 5لاکھ 32 ہزار روپے کا ٹیکس ہے تاہم جرمانہ 6لاکھ روپے سے زائد عائد کیا جارہا ہے، 1301سے 1500سی سی تک کی گاڑیوں پر مجموعی ٹیکس 8لاکھ 16ہزار روپے ہے تاہم ان گاڑیوں پر جرمانہ 8 لاکھ 42ہزار روپے سے زائد عائد کیا جارہا ہے۔

1501سی سی سے 1600سی سی تک کی گاڑیوں پر مجموعی ٹیکس 8 لاکھ31 ہزار روپے کے مقابلے میں 10لاکھ 23ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے، 1601سی سی سے 1800سی سی تک کی گاڑیوں پر مجموعی ٹیکس 10 لاکھ27 ہزار روپے ہے تاہم ان گاڑیوں پر 12 لاکھ 63ہزار روپے سے زائد جرمانہ عائد کیا جارہا ہے، جرمانے اور ٹیکس کی مالیت گاڑیوں کی ویلیو سے دگنی سے بھی زائد ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق گاڑیوں کی کلیئرنس کیلیے گڈز ڈیکلریشن اس لیے فائل کیے گئے ہیں کہ ستمبر 2013سے رکی ہوئی گاڑیاں اس ون ٹائم سہولت کیلیے ریکارڈ پر آجائیں اور دوسری کوئی گاڑی اس کی آڑ میں کلیئر نہ ہوسکے۔ ایسوسی ایشن کی جانب سے وزارت تجارت کو بھی ہنگامی مراسلہ ارسال کیا گیا ہے جس میں گاڑیوں کی 10فیصد پینلٹی پر کلیئرنس کی اپیل کی گئی ہے۔

مقبول خبریں