یاسین انور کے استعفیٰ کے بعد آئی ایم ایف سے مذاکرات پراثرنہیں ہوگاحکام

پاکستان اورآئی ایم ایف حکام کے درمیان قرض کی تیسری قسط 54 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کیلئے مذاکرات ہفتہ کو دبئی میں ہونگے


AFP February 01, 2014
حکومت میں سیاسی تبدیلی کے باعث یاسین انور کے استعفیٰ کی توقع تھی، ماہرین فوٹو: اے پی پی/فائل

وزارت خزانہ کے حکام نے کہا ہے کہ یاسین انور کے گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے عہدے سے استعفیٰ دینے سے آئی ایم ایف کے ساتھ قرضوں کے حوالے سے مذاکرات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

یاد رہے کہ آئی ایم ایف نے گزشتہ سال ستمبر میں پاکستان کیلیے پیکیج کی منظوری دی تھی جو سخت اقتصادی اصلاحات سے مشروط ہے۔ وزارت خزانہ کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف حکام کے درمیان قرض کی تیسری قسط 54کروڑ 50لاکھ ڈالر کے حوالے سے مذاکرات ہفتہ کو دبئی میں ہوں گے۔ وزارت خزانہ کے سینئر افسر نے کہاکہ گورنر اسٹیٹ بینک کے استعفیٰ سے آئی ایم ایف کے ساتھ جائزہ مذاکرات پر اثر نہیں پڑے گا، مذاکرات میں پاکستان کی دوسری سہ ماہی (اکتوبرتادسمبر) کے دوران اقتصادی صورتحال کے جائزے پر توجہ ہوگی۔



حکومت نے آئی ایم ایف ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی کے تحت تمام شرائط پوری کر دی ہیں اور امید ہے کہ مارچ تک ہمیں فنڈز مل جائیں گے۔ Taurus سیکیورٹیز میں ہیڈآف ریسرچ طٰحٰہ خان نے اس حوالے سے کہا کہ حکومت میں سیاسی تبدیلی کے باعث ان کے استعفیٰ کی توقع تھی۔