عوام دوست معیشت کا انتظار

انتہائی خوش آیند بات ہے کہ مہنگائی ہماری اقتصادی پالیسیوں کا مرکز نگاہ بن گئی ہے۔


Editorial September 24, 2021
انتہائی خوش آیند بات ہے کہ مہنگائی ہماری اقتصادی پالیسیوں کا مرکز نگاہ بن گئی ہے۔فوٹو: فائل

وزیر اعظم عمران خان نے بڑھتی مہنگائی پر اجلاس آج طلب کرلیا۔ اجلاس میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر بریفنگ دی جائے گی، مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا جائے گا، اجلاس میں اہم فیصلے بھی متوقع ہیں۔

انتہائی خوش آیند بات ہے کہ مہنگائی ہماری اقتصادی پالیسیوں کا مرکز نگاہ بن گئی ہے، وزیر خزانہ شوکت ترین نے عوام پر بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے ضروری اشیا پر کیش سبسڈی دینے کا وعدہ کیا ہے۔

اس وعدہ کو وفا کرنے کی ضرورت ملکی معیشت کے بنیادی بریک تھرو سے متعلق ہے، قوم نے تین سال تک صبر کیا، پیٹ پر پتھر باندھے، کورونا کے عذاب، بے روزگاری، غربت اور مہنگائی کی صورتحال اور عوامی مصائب کا ذکر نہ کیا جائے توکہانی مکمل نہیں ہوتی۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے مزدوروں، گھریلو خواتین اور سرکاری ملازمین کے معاشی مسائل ناقابل بیان حد تک اذیت ناک بنا دیے ہیں، ملک کے عوام بیروزگاری اور مہنگائی کے خلاف احتجاج پر مجبور ہیں۔

ملک میں سماجی جرائم میں اضافہ ہوا، جس کا سبب ماہرین نے غربت اور بیروزگاری کو قرار دیا۔ بہرکیف حکومت نے اپنی معاشی اسٹرٹیجی اور اقتصادی پالیسیوں کی سمت درست کرنے کا جو اقدام کیا ہے وہ ابتدا سے ہی جاری رکھا جاتا تو عوام کو بنیادی اشیا سستے داموں ملتیں عوام بہتر حالات زندگی کے باعث جمہوری ثمرات سے کہیں شاندار سہولتیں حاصل کرلیتے، آج کی دنیا میں معیشت کو جنگی اور عسکری طاقت پر فوقیت حاصل ہے۔

یہ صائب انداز فکر ہے کہ حکومت نے سیاسی حالات، عوام کے اضطراب اور بے چینی کے باعث مہنگائی کو کنٹرول کرنے کا فیصلہ کیا اور معاشی استحکام کو دیگر معاملات پر ترجیح دی، تاہم عوام حکومتی فیصلے پر اظہار مسرت کرتے ہوئے بھی بعض تحفظات، شکوک و شبہات اور فیصلوں پر ثابت قدمی سے جمے رہنے کے مسئلہ پر یقین و اعتماد کی نفسیاتی طاقت کو ملکی معیشت کے استحکام کے لیے ایک بنیادی محرک سمجھتے ہیں۔

اصل ضرورت عوام کے معاشی حالات میں تبدیلی کی ہے، اعتبار اور یقین کی جو حقیقی سیاسی دولت انھیں ملکی اقتصادی اور معاشی صورتحال کی بہتری سے حاصل ہونی چاہیے اس میں کوئی فرق نہیں آنا چاہیے۔ اس لیے کہ جمہوری اور معاشی ثمرات ایک مستحکم اقتصادی سسٹم کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

لیکن ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران مہنگائی کی شرح مزید بڑھنے کا امکان ہے، گندم، چینی اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کا باعث بن سکتا ہے، رواں مالی سال 2021-22 کے دوران پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ4فیصد رہنے کی توقع ہے جو7ایشیائی ممالک میں سب سے کم ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک نے 30جون2021کو ختم ہونے والے مالی سال کی آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کووڈ کے دوسرے سال پاکستان میں کاروباری سرگرمیاں بتدریج بحال ہو رہی ہیں۔2022 میں پاکستان کی معیشت کی بحالی جاری رہنے کی توقع ہے۔ پاکستان میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کی پاکستانی معیشت کے بارے ایشین ڈیولپمنٹ آؤٹ لک رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ رواں مالی سال 2021-22 کے دوران مہنگائی کی شرح بڑھنے کا امکان ہے۔ ملک میں گندم، چینی اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کا باعث بن سکتا ہے۔

رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معاشی گروتھ4 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔ رواں مالی سال صنعت، تعمیرات اور مینوفیکچرنگ کے شعبے میں گروتھ متوقع ہے۔ رواں مالی کے دوران زرعی شعبے کی گروتھ میں بہتری کا امکان ہے۔ کورونا وائرس کے باوجود پاکستان کی معاشی سرگرمیاں فروغ پا رہی ہیں، نجی سرمایہ کاری کو تحفظ کی فراہمی سے کاروباری سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔

اے ڈی بی کا کہنا ہے کہ سماجی تحفظ، ادارہ جاتی اصلاحات سے معاشی گروتھ میں استحکام آئے گا۔ مالیاتی پیکیج اور بہتر پالیسیوں کے باعث پاکستان کی برآمدات بڑھ رہی ہیں۔ بہتر پالیسیوں کے باعث مینوفیکچرنگ شعبے کی کارگردگی میں نمایاں بہتری ہوئی۔

اس بہتری کی رفتار اور اس کے معیار کو مزید اونچا کرنے کی ضرورت ہے، ساتھ ہی ہمارے معاشی ماہرین وزیر اعظم اور وزرا کے انداز نظر کو بھی افقی و عمودی طور پر بنیادی معاشی حقائق سے جوڑنے کی ضرورت ہے، مثلاً ملک میں جب بھی مہنگائی کا حوالہ آتا ہے، معاشی تقابلی اور باہمی مقابلے کا رجحان خطے کے ملکوں میں معاشی جائزے لیے جاتے ہیں، ماہرین کا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ چیزیں بھارت کے مقابلے میں ہمارے ہاں سستی ہیں، معاشی مسیحا کا کہنا ہے کہ مہنگائی کا صرف شور ہے۔

جب کہ کئی اشیا بھارت سمیت دیگر ملکوں میں مہنگی فروخت ہوتی ہیں، لیکن اس تقابل میں یہ نہیں بتایا جاتا کہ جن ملکوں میں چیزیں بلاشبہ سستی ہیں، اور عوام کی دسترس میں بھی ہیں ان سستی چیزوں کا ذکر نہیں کیا جاتا، کوئی یہ نہیں کہتا کہ دوائیں ہمارے ہاں مہنگی بکتی ہیں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا بطور خاص حوالہ دیا جاتا ہے، لیکن ٹیکسز، ڈیوٹیز اور دیگر مدات میں قیمتیں جس ظالمانہ طریقے سے بڑھائی جاتی ہیں ان پر توجہ نہیں دی جاتی، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مہنگائی اور ارزانی کے درمیان ایک حقیقت پسندانہ لکیر کھینچی جائے کہ جن ملکوں میں چیزیں مہنگی ہیں وہاں کون کون سی اشیا سستی بھی بکتی ہیں۔ جب تک یہ منصفانہ تقابلی جائزہ سامنے نہیں آئیگا، سیاست دان پوائنٹ اسکورنگ ہی کرتے رہیں گے۔

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں پوری دنیا مں بڑھی ہیں، پاکستان انوکھا ملک نہیں۔ انھوں نے وزیر مملکت فرخ حبیب اور معاون خصوصی جمشید چیمہ کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا ڈیزل کی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے پٹرول مہنگا کیا، خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں یہاں پٹرولیم مصنوعات سستی ہیں، بھارت میں پٹرول 250 روپے فی لیٹر ملتا ہے، پٹرولیم لیوی کا ہدف اس سال 600 ارب ہے لیکن اب تک کچھ نہیں لیا۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی بیشی ہوتی رہی ہے اور ہوتی رہے گی،پہلے افغانستان سے ڈالر آتے تھے، اب یہاں سے جا رہے ہیں۔ 2018 ء کے بعد معیشت پر آئی ایم ایف پروگرام کے اثرات پڑے لیکن اب مہنگائی کی شرح 9.2 فیصد سے کم ہوکر 8 فیصد سے کچھ زیادہ ہے۔

کورونا کے باعث اشیائے ضروریہ کی پیداوار کم ہوئی اور قیمتیں بڑھیں تاہم کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں دنیا کے مقابلے میں کم بڑھیں۔ دنیا بھر میں چینی 80 اور پام آئل 50 فیصد مہنگا ہوا۔ 40 سے 42 فیصد لوگوں کو براہ راست فوڈ سبسڈی دیں گے، گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں کا بوجھ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے ان کی قیمتوں میں 40 سے 50 روپے کمی آئے گی۔ گندم 1950 روپے من اور چینی کی قیمت 90 روپے کلو مقرر کر دی۔ چند ہفتوں میں انتظامی ڈھانچہ کھڑا ہو جائے گا جو قیمتوں پر قابو رکھے گا، آمدن بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔

پارلیمنٹ رکنیت کے سوال پر وزیر خزانہ نے کہا وزیر اعظم نے سینیٹر بنانے کا کہا ہے اور ان پر بھروسا ہے، وزیر خزانہ پروفیشنل سیاستدان ہیں۔ وہ اس حقیقت سے بھی آگاہ ہیں کہ ان سے قبل تجربہ کار معاصر شخصیات وزارت کا قلمدان سنبھال چکی ہیں، عوام جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے تجربات کیسے رہے، انھیں ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں کون سی مشکلات درپیش آئیں، وہ کیوں ناکام رہے، وزیر خزانہ کو ایک ایسی معیشت کے کل پرزے درست کرنا ہیں جو برس ہا برس سے بے سمت رہی ہے، معیشت کا استحکام حکومت کے لیے بنیادی ٹاسک ہے، اب جب کہ وزیر خزانہ سبسڈی دینے کی بات کر رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ وہ ملک کی اقتصادی صورتحال کو کس نہج پر لے جانا چاہتے ہیں، سبسڈی ایک سفر ہے منزل نہیں، اقتصادی خودکفالت ملک کی منزل ہے، زراعت اور کسان کو اس کا صحیح مقام ملنا چاہیے، غربت، بیروزگاری کا خاتمہ ناگزیر ہے، یہ ساری منزلیں طے کرنی ہیں۔ لیکن فیصلہ ارباب اختیار کو کرنا ہے کہ ملکی معیشت کب عوام دوست بنے گی اور اس کی معاشی حالت اور قسمت کب بدلے گی۔ ملک کے کروڑوں مفلس و لاچار انسان کب اس استحصالی نظام سے نجات حاصل کریں گے، ان کے ہاتھ سے کاسہ گدائی کون چھین کر زمین پر پٹخ دے گا۔

دنیا ہے تری منتظر روزِ مکافات ؟

مقبول خبریں