سی پیک کی تکمیل کا عزم

سی پیک چند طاقتوں خصوصاً مشرق میں موجود ہمارے ہمسائے کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔


Editorial September 25, 2021
سی پیک چند طاقتوں خصوصاً مشرق میں موجود ہمارے ہمسائے کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔ فوٹو:فائل

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے10ویں جے سی سی اجلاس کے بعد چین کے وائس چیئرمین کے ساتھ نیوز کانفرنس میں کہا چین کو حفاظتی معاملات پر تحفظات ہیں جس پر جامع حکمت عملی بنائی، چینی کارکن گزشتہ سال ہی واپس آگئے تھے جب کہ چین کے قومی ترقیاتی اصلاحات کمیٹی کے وائس چیئرمین ننگ جزہی نے کہا سی پیک پاکستان میں اعلیٰ معیار کے ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو بی آر آئی کا اہم منصوبہ ہے۔

سی پیک اگرچہ تکمیل کی جانب اپنی پیش رفت جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم اس کے بارے میں دشمن غلط فہمی پیدا کرنے اور گمراہ کن اطلاعات پھیلانے کی کوششیں کررہا ہے، بلوچستان کی سیاسی صورتحال بگاڑنے اور دہشت گردی کے واقعات اس ضمن میں دشمن کی فتنہ انگیزیوں کے شواہد ہیں جن پر سیکیورٹی فورسز نے کڑی نظر رکھی ہوئی ہے۔

سندھ کے عوام بھی سی پیک سے توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں، ان کی خواہش ہے کہ تھرکا کوئلہ کراچی بھی آئے اور شہر قائد کی صنعتیں چلنے لگیں، اسی طرح کراچی سرکلر ریلوے کی افتتاح کی اطلاع بھی خوش آیند ہے، سرکلر ریلوے کو فنکشنل ریلوے بنانے کے لیے صوبائی حکومت کو مقامی سطح پر ریلوے انتظامیہ سے بھرپور تعاون کرنے کا شیڈول تیارکرنا ہوگا، یہ سرکلر ریلوے شہر قائد میں چل چکی ہے، لہٰذا اس کے تجربات کو جدید دور اور شہری ٹرانسپورٹ کے تقاضوں کے مطابق بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔

اس منصوبہ میں کام ابھی مکمل ہونے باقی ہیں، جب کہ تمام انتظامات پوری ذمے داری اور کراچی کے ٹرانسپورٹ کی ضروریات کے مطابق اختتام پذیر ہوں گے تب ہی سرکلر ریلوے کراچی ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوگی۔

سرکلر ریلوے کی سائٹ سے تجاوزات ہٹانے کی رفتار میں تیزی لائی جانی چاہیے، ریلوے اسٹیشنوں اور ریلوے لائنوں کی اوور ہالنگ ناگزیر ہے تاہم سب سے بڑا خطرہ سرکلر ریلوے کو ٹرانسپورٹ مافیا سے ہے، اسے ناکام بنانے میں پہلے بھی اسی مافیا نے سازش کر کے اسے بند کرایا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کراچی کی ان ہی سڑکوں پر دو رویہ ٹرامیں چلتی تھیں، چاکیواڑہ، بولٹن مارکیٹ، صدر، سولجر بازار، جامعہ کراچی، لانڈھی، کورنگی اورکیماڑی ٰتک ٹرامیں کامیابی سے سفر کرتی رہتی تھیں، یہ شہرکی سستی ترین سواری تھی، چنانچہ سرکلر ریلوے کی کامیابی کے چانسز آج بھی زیادہ ہے تاہم اس سسٹم کو بسوں کی مسابقت کے دور میں فنکشنل وسیلہ سفر بنانے کے لیے عملی انتظامات اور نگہداشت کی اشد ضرورت ہوگی۔

گیم چینجر منصوبہ سی پیک کی بدولت جنوبی زون سے وسیع غیر ملکی سرمایہ کاری آئے گی، پہلے مرحلے کی تکمیل دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے تعاون کا مظہر ہے، کورونا پر قابو پانے کے لیے تعاون پر چین کا پاکستان شکر گزار ہیں۔

بلوچستان میں کئی منصوبے جاری ہیں، ایم ایل ون ریلویز کی ترقی کا اہم منصوبہ ہے، اسی طرح سائنس و ٹیکنالوجی میں مشترکہ تعاون کے حوالہ سے توقعات ہیں۔ دوسرے مرحلے میں صنعتی اور زرعی شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے، چینی سرمایہ کاروں کے لیے سہولت مرکز قائم کرنے جب کہ شعبہ توانائی میں جامع اصلاحات متعارف کرانے کا فیصلہ حکومت نے کیا ہے تاکہ چینی آئی پی پیز کو واجبات کی ادائیگی کے لیے راہیں ہموار کی جاسکیں۔

آج معیشت میں زراعت سب سے زیادہ اہم ہے کیونکہ دو تہائی آبادی کا اس پر بالواسطہ یا بلاواسطہ انحصار ہے اگر ہم کل کی دنیا دیکھیں تو یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل دنیا ہے اور چین نے اس میں تیزی سے ترقی کی ہے۔ اس کا موبائل فون اور وائی فائی ٹیکنالوجی کے علاوہ ڈیجیٹل پیمنٹ پورٹلز پر امریکا سے مقابلہ ہے، سب سے بڑی ٹرانزیکشنز کرنے والی آن لائن ڈیجیٹل پورٹل سسٹم بھی چینی کمپنی کا ہے، اس کا ذیلی ادارہ علی پے کے نام سے پاکستان میں بھی کام کر رہا ہے جو علی بابا گروپ کی کمپنی ہے۔

پاکستان کی انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بھی تیزی سے ترقی ہو رہی ہے، گزشتہ برس اس کی برآمدات میں ایک سال میں47 فیصد اضافہ ہوا اور1.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر2ارب ڈالر ہوگئیں۔ جس دوسری مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے وہ چین کی ننگ بو پورٹ اور گوادر پورٹ کے درمیان فریم ورک کا معاہدہ ہے۔

اس کے علاوہ وزارت بحری امور نے کوسٹل ڈویلپمنٹ کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے اور چینی کمپنی سی آر بی سی کے ساتھ معاہدہ ہوا۔ سماجی ترقی کے حوالے سے چین بلوچستان کے لیے سولر اور طبی آلات عطیہ کر رہا ہے، انفرااسٹرکچر کے منصوبوں اور موٹر ویز پر بھی تعاون نظر آئے گا۔

جیسے جیسے سی پیک کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، خصوصی سرمایہ کاری بھی آئی اور رشاکئی میں منصوبہ لگ رہا ہے تو چینی سرمایہ کاری بڑھنے کے ساتھ سیکیورٹی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے، حکومت نے وزارت داخلہ میں خصوصی سیل بنایا ہے جو نہ صرف چینی بلکہ یہاں کام کرنے والے غیر ملکیوں کی نگرانی کرے گا۔

سی پیک چند طاقتوں خصوصاً مشرق میں موجود ہمارے ہمسائے کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے، تاہم یہ صرف فزیکل حملہ نہیں ہوتا بلکہ یہ ففتھ جنریشن ہائبرڈ وارفیئر کا زمانہ ہے جس میں سوشل میڈیا پر غلط خبریں پھیلانا، جعلی خبریں اور انٹرنیشنل میڈیا میں غلط خبریں لگانا شامل ہے۔ چین اور پاکستان کی قیادت اور عوام دوستی، باہمی شراکت جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں لہٰذا جو بھی ہوگا اس کا مقابلہ کیا جائے گا، جیسے جیسے وسعت آرہی ہے تو لگتا ہے ہم جلد فیصلہ کن مقام تک پہنچنے والے ہیں، جہاں کوئی روکنا بھی چاہے تو نہیں روک سکتا۔

کراچی سرکلر ریلوے کے حوالے سے خبر یہ ہے ایکنک کل اس کی منظوری دے تو آیندہ چند روز میں وزیر اعظم کراچی جا کر افتتاح کردیں گے۔ داسو منصوبے کے حوالے سے وفاقی وزیر کا کہنا تھا ابھی تک اس پر دوبارہ کام شروع نہیں ہو سکا، حملے میں ملوث لوگوں کو پکڑنے کے لیے وزارت داخلہ زیادہ بہتر جواب دے سکتی ہے تاہم یہ منصوبہ سی پیک میں شامل نہیں۔

زراعت کے 8پوائنٹ جے سی سی میں زیر بحث آئے، ریوالونگ فنڈز کا معاملہ حل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، بجلی کے سی پیک منصوبوں کے230 ارب روپے واجب الادا ہیں، سکھر حیدر آباد موٹروے پبلک پرائیویٹ اتھارٹی بورڈ نے منظوری دیدی۔

چین نے کہا ہے کہ ہم مستقبل میں کول کے منصوبے نہیں کریں گے، اس موقع پر صحافی نے پوچھا کیا چین کے بجلی منصوبوں کے ٹیرف پر بھی نظرثانی کی جائے گی، جس پر اسد عمر نے جواب دیا چین کے ساتھ خصوصی تعلقات ہیں، اس کے بجلی منصوبوں کو خصوصی طریقوں سے ڈیل کیا جائے گا۔ چین کے ساتھ دوستی سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے، سی پیک بڑے بڑے منصوبوں کی اسٹیج سے نکل رہا ہے، ایم ایل ون ریلویز کی ترقی کا اہم منصوبہ ہے، آپریشنل مسائل ہموار کرنے کے لیے اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔

دوسرے مرحلہ میں صنعتی اور زرعی شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے، چینی سرمایہ کاروں کے لیے سہولت مرکز قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ توانائی کے شعبے میں جامع اصلاحات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ چینی پاور پروڈیوسرز کو واجبات کی ادائیگی کے لیے راہیں ہموار کی جا سکیں، حکومت اس حوالے سے سخت فیصلے کرنے جا رہی ہے اور چینی آئی پی پیز کے نمایندوں کو یقین دلاتے ہیں معاملہ جلد حل کرلیا جائے گا۔

اس موقع پر معاون خصوصی خالد منصور نے کہا چین کو فوج اور بحریہ کی مدد سے جامع بریفنگ دی گئی دونوں فریق بلوچستان سولر پاور لائٹنگ آلات کی فراہمی اور طبی آلات اور مواد کی فراہمی کے معاہدوں پر دستخط کریں گے۔ جے سی سی گوادر ایکسپو سینٹر کے لیز ڈیڈ پر دستخط کریں گے، ننگبو بندرگاہ اور گوادر بندرگاہ کے مابین تعاون کے فریم ورک معاہدے اور کراچی کوسٹل ڈویلپمنٹ زون کے سی سی ڈی زیڈ پر مفاہمت کی یادداشت کا بھی اعلان کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بذریعہ وڈیو لنک خطاب میں کہا پاکستان کی ہر حکومت نے چین کے ساتھ اعتماد، عزت اور احترام کا تعلق مضبوط رکھا، پہاڑ سے مضبوط دوستی کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی، سی پیک چینی صدر شی جن پنگ(Xi Jhinping) اور صدر آصف علی زرداری کی مرہونِ منت ہے۔

تھرکول سے گیس اور گیس سے مایع منصوبہ شروع کرنے جا رہے ہیں، چاہتے ہیں تھر سے کوئلے کی کان دیگر شہروں کو پہنچائی جائے، کراچی کے عوام کے لیے کے سی آر کو سی پیک کے تحت بنایا جائے، اسپیشل اکنامک زون دھابیجی اگست2022تک مکمل ہو جائے گا، چین سے درخواست ہے لائیواسٹاک کی ترقی میں بھی صوبائی حکومت کی معاونت کرے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ سی پیک سے وابستہ کیے جانے والے تمام منصوبے قومی جذبے سے تکمیل پذیر ہونے چاہئیں، اس گیم چینجر منصوبہ کو مکمل کرنے کے لیے ملک میں سیاسی استحکام، امن و امان کی ضمانت اور دہشت گردی کی مکمل روک تھام یقینی ہونی چاہیے۔

مقبول خبریں