کورونا کے بعد ڈنگی کا حملہ

ڈنگی کی واپسی کو عوام نے صحت حکام کی غفلت، سے تعبیرکیا اور اسے روایتی طرز عمل قرار دیتے ہوئے خبردارکیا ہے۔


Editorial September 28, 2021
ڈنگی کی واپسی کو عوام نے صحت حکام کی غفلت، سے تعبیرکیا اور اسے روایتی طرز عمل قرار دیتے ہوئے خبردارکیا ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان میں کورونا وائرس کی چوتھی لہرکی شدت کم ہو رہی ہے، کورونا وائرس کے کیسز کے بعد اب اموات میں بھی کمی آنے لگی ہے، ملک کورونا مریضوں کے حوالے سے مرتب کی گئی فہرست میں ایک بار پھر 31 ویں نمبر پر آ گیا ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 1 ہزار 757 کیسز سامنے آئے ہیں، مزید 31 افراد اس موذی وبا کے سامنے زندگی کی بازی ہار گئے، مزید 1ہزار 765 مریض شفایاب ہو گئے، جب کہ مثبت کیسز کی شرح 3 اعشاریہ 60 فیصد ہوگئی۔

کورونا سے نمٹنے کی داستان درد انگیز ہے، عوام نے جس صبر و تحمل، بیمثال استقامت اور سخت جانی سے اس وائرس کی سختیاں جھیلی ہیں ، اس کا اعتراف تو دنیا بھی کرتی ہے،کورونا کے وارکثیر جہتی رہے، ایک طرف ہزارہا لوگ اپنے روزگار سے محروم ہوگئے۔

کاروباری لوگ شدید متاثر ہوئے، کارخانوں، فیکٹریوں میں کام کرنے والے دیہاڑی دار محنت کشوں کو بیروزگاری کے عذاب برداشت کرنا پڑے، دنیا بھر میں صنعتی یونٹس بند ہوگئے، معمولات زندگی درہم برہم ہوگئے، زندگی فاقوں تک آگئی، لیکن حکومت کے روایتی بیانات میں کوئی کمی نہیں آئی۔

ایک جمہوری سیٹ اپ میں کورونا سے نمٹنے کی جو صلاحیت ہونی چاہیے تھی وہ اس کی اسٹرٹیجیکل اور اقتصادی و معاشی سسٹم کا حصہ بن کر عوام کو ہر ممکن سہولت، مالی امداد ، انفرااسٹرکچر اور روزگارکی فراہمی میں غیر معمولی بریک تھروکا سدا بہار امکانات رکھنے کا در کھلا رکھتی تو جمہوری ثمرات کورونا کی شدت میں انسانی مصائب کوکم کرسکتے تھے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ لاک ڈاؤن، شٹ ڈاؤن اور اس کے مختلف انداز اور اثرات کو بھی عوام نے بڑی اسپورٹس مین شپ کے ساتھ قبول کیا، اموات ہوئیں، لوگ اسپتالوں، ٹیسٹ لیباریٹریز میں ادھر ادھر دھکے کھاتے رہے لیکن کورونا کو شکست دینے کے لیے جو کچھ ہوسکتا تھا لوگوں نے کیا۔ لوگ کہتے ہیں کہ کورونا کا مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا۔

بد قسمتی سے عوام کو مسائل سے نجات نہیں ملی، ایک کورونا سے جان چھوٹنے لگی تو ڈنگی نے سراٹھا لیا، اخباری اطلاع کے مطابق ملک بھر میں ڈنگی تشویشناک صورتحال اختیارکرتا جا رہا ہے، اسلام آباد میں مزید30 شہری جب کہ خیبر پختونخوا میں اب تک ڈنگی کے 919 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔

پنجاب میں ڈنگی کیسز میں مسلسل اضافہ جاری ہے، اسلام آباد میں ڈنگی سے مزید ایک شخص انتقال کرگیا ہے اور یہاں 24گھنٹوں میں مزید30 شہری ڈنگی سے متاثر ہوئے ہیں، ڈنگی کے حملوں نے عوام کی استقامت کو بھی چیلنج کیا ہے اور انتظامی مشینری اور صحت کے مجموعی نظام پر بھی سوال اٹھایا ہے۔

ڈنگی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے اس مرض کے انسداد کے لیے موثر، مناسب اقدامات کیے تھے جس سے مرض کی روک تھام میں مدد ملی تھی ، تاہم ماہرین اور ڈنگی کے متاثرین نے ڈنگی کے ''اسٹرائک بیک'' کو ہیلتھ سسٹم پر شب خون سے تعبیر کیا ہے، مریضوں کا کہنا ہے کہ جس تیزی سے ڈنگی پھیل رہا ہے اس سے یہی لگتا ہے کہ حکومت کے سارے اندازے، دعوے اور اقدامات بے نتیجہ ثابت ہوئے جو اس نے کورونا کے بعد وائرسز کی انسدادی مہم اور اسٹرٹیجی سے متعلق کیے تھے۔

ڈنگی کی واپسی کو عوام نے صحت حکام کی غفلت، سے تعبیرکیا اور اسے روایتی طرز عمل قرار دیتے ہوئے خبردارکیا ہے ڈنگی کے پھیلاؤ کو ہر گزکورونا کی جگہ نہیں لینا چاہیے، اس وقت مجموعی طور پر 207 مریض اس سے متاثر ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) کے مطابق ڈنگی سے انتقال کرنے والا شخص جی 12کا رہائشی تھا، انھوں نے مزید بتایا کہ ڈنگی سے گزشتہ 10 روز میں 3 شہری انتقال کرچکے ہیں۔ ڈی ایچ اونے بتایا کہ اسلام آباد میں گزشتہ 5 روز میں 155 شہری ڈنگی سے متاثر ہوئے ہیں۔ دوسری جانب لاہور میں بھی بڑی تعداد میں ڈنگی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے بھر سے 92 ڈنگی کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں لاہور کے 64 اور اسلام آباد کے 13 کیسز شامل ہیں۔ محکمہ صحت پنجاب کے مطابق رواں سال اب تک لاہور سے ڈنگی کے 687 کنفرم کیسز سامنے آئے ہیں، صوبے بھر کے اسپتالوں میں ڈنگی کے 58 جب کہ لاہور کے اسپتالوں میں ڈنگی کے 31 مریض داخل ہیں۔ راولپنڈی کے اسپتالوں میں ڈنگی کے 20 مریض، نشتر اسپتال ملتان، الائیڈ اسپتال فیصل آباد میں 1، 1مریض داخل ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال پنجاب بھر سے اب تک ڈنگی کے 828 کنفرم کیسز سامنے آئے ہیں۔ پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس ( ایچ ایم سی) انتظامیہ کے مطابق 136 مریضوں میں ڈنگی وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جب کہ 24 گھنٹوں کے دوران ڈنگی کے 528 ٹیسٹ کیے گئے۔ ایچ ایم سی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسپتال میں ڈنگی کے 10 مریض زیر علاج ہیں، خیبر ٹیچنگ اسپتال ( کے ٹی ایچ) میں 110 مریضوں میں ڈنگی وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اور وہاں ڈنگی کے 22 مریض زیر علاج ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ کورونا کے زوال کے ساتھ ہی قوم کو ایک خوشگوارکامیابی کی خبرکورونا کی ممکنہ رخصتی کی مل جانی چاہیے تھی، کیونکہ کورونا کے خلاف عوام کی کامیابی، سخت جانی اور استقامت کا ایک اہم تجربہ ہے، جس نے قوم کو یہ سبق دیا کہ حکومت فلاح وبہبود اور اقدامات و سروسز کے جو بھی دعوے کرتی رہی ہے، اس کے عملی ثمرات عوام تک نہیں پہنچے اور ملک ابھی تک ایک مربوط صحت سسٹم کے شفافیت سے محروم ہے۔ فرنٹ لائن ڈاکٹروں نے ڈنگی کی واپسی کو سوالیہ نشان قرار دیتے ہوئے حکومت کے صحت نظام میں خرابیوں کو دورکرنے کے لیے گراس روٹ لیول پر ایک بڑے آپریشن کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

نظام صحت کے سب سے بنیادی معاملات کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین کا ایک کمیشن بنا یا جائے، صحت نظام کے حوالہ سے مریضوں کو درپیش مشکلات کا حل تلاش کیا جائے اور غریب مریضوں کے علاج کے لیے انسان دوست سفارشات پیش کی جائے، پاکستان کے مسیحاؤں کے سامنے ماضی اور موجودہ نظام صحت کے میرٹس اور ڈی میرٹس کا تقابلی موازنہ پیش کیا جائے اور بتایا جائے کہ موجودہ حکومت نے صحت انشورنس، صحت کارڈ سمیت ہیلتھ سسٹم میں کیا انقلابی اقدامات کیے ہیں۔

بلیم گیم سے ہٹ کر صحت سسٹم کو آفاقی بنیادوں پر مستحکم کرنا چاہیے، جو لوگ یہ تاثر دیتے ہیں کہ ڈنگی کے حملوں کو کیوں نہ موجودہ صحت نظام کے خلاف ایک چارج شیٹ سمجھا جائے، ڈنگی نے نظام صحت پر شب خون مارا ہے، آخر کیسے ڈنگی نے اچانک پھیلنا شروع کیا، کیا اسے کورونا کے جانے کا انتظار تھا، یا پرانے سارے معالجین ڈنگی کے لیے دستیاب نہیں تھے، اتنے سارے مریض کس طرح خبروں میں آگئے، کیا سہولتیں موجود نہیں، ایک سابق وزیر صحت کا کہنا تھا کہ پرانی ساری مہارتیں جو مریض کے لیے آزمائی جا سکتی تھیں، فراموش کر دی گئیں، اب ہر چیز نئے سرے سے تیار کی جائے گی، صحت سسٹم کو تو انسٹینٹ ہونا چاہیے، ادھر ڈنگی ادھر علاج!

ارباب اختیار کو اس بات کا مکمل انتظام کرنا چاہیے کہ کسی قسم کی ایمرجنسی ہو مریض کے علاج میں کوئی تاخیر نہ ہو، اسے بلا معاوضہ بحالی صحت دلائی جائے، اس کی غربت علاج میں مانع نہ ہو، امیر لوگ اپنی مرضی کے اسپتالوں میں جائیں اور حکومت غریبوں کے لیے سرکاری اسپتالوں کو مکمل مسیحائی کا وسیلہ بنائے، کوئی شہری علاج سے محروم نہ ہو۔

بلاشبہ پاکستان میں علاج کے لیے بہترین ڈاکٹر موجود ہیں، مگر غریبوں کے پاس علاج کے پیسے نہیں، ادھر ایسے اسپتال بھی ہیں جن کا حوالہ سیاست دان اپنے مخالف سیاسی رہنماؤں کو بطور طعنہ دیتے ہیں کہ جب ملک میں اسپتال موجود ہیں تو اپنا علاج باہر سے کیوں کرواتے ہیں۔ اس بہتان کو اب اپنے سر لینے کا وقت نہیں، ہماری حکومت صحت گھروں کو غریب علاقوں میں دہلیز کے قریب لانے کی پالیسیاں بنائے، ان دور افتادہ علاقوں کے مریضوں کو علاج کی جدید ترین سہولتیں بھی میسر ہوں جنھیں ان کے عزیز چار پائیوں پر دور دراز کا دشوار گزار سفرکرکے اسپتال تک لاتے ہیں۔

بلاشبہ ڈنگی کی آمد خطرے کی گھنٹی ہے، یہ اس امر کا الارم ہے کہ وائرسز اورکوئی بھی مرض کسی بھی وقت دکھی انسانیت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ بس علاج کی سہولت میں دیر نہ لگے، تب ہی کہا جائے گا کہ پاکستان میں صحت سسٹم قابل اعتبار، انسان دوست ہے۔ ملک میں مسیحائی سے وابستہ اہل درد اس بات سے لاعلم نہیں کہ ان حادثات نے اسپتالوں کو کتنا اہم اور حساس بنا دیا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انسانی جان کی قدر وقیمت کا ادراک و احساس کم ہوگیا ہے۔

انسانیت کو ایک مثالی اخلاقیات کی ضرورت ہے، دردمندی، رحمدلی کے فقدان نے ہمیں انسان سے حیوان بنا دیا ہے، مسیحاؤں کا کردار بہت اہم ہوگیا ہے، فوری علاج، سستی دواؤں اور ہمدردانہ چارہ گری وقت کا تقاضہ ہے۔

مقبول خبریں