کراچی کی تقدیر کب بدلے گی

بھی باتیں دل کو بہت اچھی لگتی تھی آج بھی بہت شاندار خیالات پیش کیے گئے مگر کراچی کے عوام اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔


Editorial September 29, 2021
بھی باتیں دل کو بہت اچھی لگتی تھی آج بھی بہت شاندار خیالات پیش کیے گئے مگر کراچی کے عوام اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ فوٹو: فائل

کراچی کی نشاۃ ثانیہ اور اس کے گمبھیر مسائل کے حل کے لیے وزیراعظم عمران خان کراچی آئے ہیں۔ مشہور شاعر اسرار الحق مجاز نے ایک بار کہا تھا کہ

یوںتوآنے کو کئی بار ادھر آیا ہوں

اب کے اے دوست بہ انداز دگر آیا ہوں

خدا کرے کراچی کی حالت بدلے ، وزیراعظم کا بہ انداز دگر آنا ایک نیک شگون ہوں، وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے وفاق اور سندھ کو سیاسی اختلافات کے باوجود مل کر چلنا ہوگا۔ ٹرانسپورٹ اور پانی کراچی کے بڑے مسائل ہیں، ترقی یافتہ ملک دیکھیں تو وہاں کوئی ایک شہر ملک کو لے کر چلتا ہے، کراچی کی اہمیت کا اندازہ پوری طرح سے نہیں لگایا گیا، ہم جانتے ہیں 70کی دہائی میں کراچی کیا تھا،80 میں ترقی کرنے لگا تو شورش شروع ہوگئی۔

کراچی سارے پاکستان کے لیے سرمایہ کاری لا سکتا ہے، وزیر اعلیٰ سندھ سے کہوں گا بنڈل آئی لینڈ منصوبے پر غور کریں۔ وہ پیر کو کراچی سرکلر ریلوے کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد تقریب سے خطاب کر رہے تھے، اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی موجود تھے۔ عمران خان نے کہا کہ سرکلر ریلوے صرف کراچی کے لیے نہیں ہے بلکہ اس سے سارے ملک کو فائدہ ہوگا۔ وزیر اعظم نے بنیادی سچ بیان کیا ہے، اور جو لوگ کراچی کا بیانیہ سنتے آئے ہیں۔

انھیں اندازہ ہے کہ بے شمار سیاستدان، وزرائے اعظم، صدور اور شہری ماہرین جب بھی کراچی کے شہر آشوب پر بولے ہیں ان کے الفاظ ہمیشہ دل کی گہرائیوں سے نکلے ہیں لیکن بیورو کریسی، سندھ کی سیاست، جمہوری رویے، تعصبات اور پاور پالیٹکس نے ہر سچ کو جھٹلایا، ہر حکومت وقت پر اپنا نقطہ نظر پیش کرکے چلی گئی، ہر بار دانشوروں نے کراچی میں نالیوں، برساتی نالوں، غلاظت و کچرے، شکستہ سڑکوں، نشیبی علاقوں میں گندے پانی کے جوہڑوں کا رونا رویا اور اس سینہ کوبی کے بعد کئی بار سیاسی رہنماؤں نے کراچی کی تقدیر بدلنے کے دعوے کیے۔

ان سیاست دانوں کے نام گنوانے کی ضرورت نہیں، وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی شرح نمو میں ایک شہر ان کی قیادت کرتا ہے، انگلینڈ میں لندن، امریکا میں نیویارک اور پاکستان کے لیے کراچی وہ اہم شہر ہے۔ کراچی کی ترقی میں سارے پاکستان کی ترقی ہے تاہم یہاں80 کی دہائی میں پیدا ہونے والے مسائل نے پورے ملک کو متاثر کیا۔ شہر کے ٹرانسپورٹ نظام پر اس طرح سے سرمایہ کاری نہیں ہوئی جیسے ہونی چاہیے تھی۔ یہ حقیقت ان حکمرانوں کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔

سب کو سوچنا چاہیے کہ اسی کی دہائی میں کیا کراچی میں سیاستدان اور ادارے موجود نہیں تھے، یہ شہر بے امان تھا، اس کے باسی اور مکین اپنے مسائل کے حل کے لیے مقامی، صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے مطالبات نہیں کرتے رہے، یہ گونگے بہروں کا شہر نہ تھا، یہاں بولنے والے بھی تھے، اس شہر نے نامور مقررین، اعلیٰ پائے کے سیاسی خطیب اور بے شمار اہل قلم اور دانشور پیدا کیے، لیکن ان ہی اعلیٰ پائے کے دماغوں نے بارہا غالب کو اس شعر میں یاد کیا تھا کہ

ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے

بے سبب ہوا غالب دشمن آسماں اپنا

اہل کراچی وزیر اعظم کو یاد دلانا چاہیں گے کہ کراچی کا دشمن کون تھا ، یہ کیسی سیاست تھی جو ایشیا کے سب سے حسین شہر قائد کو برباد ہوتا دیکھتی ہی رہی، یہ کیسے سیاسی لوگ تھے ، کراچی کی تباہی کے ہر دور میں تبدیلی اور ترقی، جدت اور ٹیکنالوجی کے سفر سے کراچی کو روکا گیا۔

اس تضاد کو پی ٹی آئی حکومت محسوس کرے، اس بات پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہیے کہ کراچی کی ترقی کن دستانے پہنے ہاتھوں نے روکی، سیاست دانوں نے یہ ظلم کیا تو ان کے ہاتھ کیوں نہیں روکے گئے، لوگ اپنے شہر کو برباد ہوتے دیکھتے رہے، یہ سانحہ کیوں ہوا ؟ کیا لب بستگی کا کوئی سحر پھونکا گیا تھا، اپنے شہر کو بچانے کے لیے عوام ایک اجتماعی خاموشی کیوں اختیار کرتے ہیں، جو حکومت کام نہیں کرتی، نالے، نالیاں صاف نہیں کرتی، سڑکوں کی مرمت اور تعمیر میں نااہلیت کے جھنڈے گاڑتی ہے۔

جمہوریت کو بے آبرو کرنے کی مہلت اسے کیسے ملتی ہیں۔ ایک کمزور جمہوری اور کرپٹ نظام ایک بڑے مگر بیمار شہر کی حفاظت کیسے کرسکتا ہے، کیا کسی شہر کو ایک حکومت ایک بہتر حکمت عملی سے ترقی نہیں دے سکتی، دنیا کے جن ممالک نے اپنے ملکوں کے بڑے شہروں کو کس طرح سنوارا ہے، کیا ان کی اربن ترقی کوئی جادو گری تھی، کیا ان ملکوں نے شہری ترقی کا کوئی راز ہم سے چھپا کر رکھا ہے۔ کیا بات ہے کہ کراچی کچرے، برساتی پانی، نکاسی آب کے ناقص نظام کا رونا رہتا ہے، کراچی میں ہر بارش زحمت بن جاتی ہے۔

ادارے موجود ہیں، کروڑوں کی تنخواہیں لیتے ہیں، لیکن شہر قائد کی تقدیر بدلنے کی کسی کے پاس کوئی پالیسی نہیں ہے، وزیراعظم صاحب آپ نے درست کہا کہ کے سی آر، گرین لائن کراچی کے لیے بہت بڑا قدم ہے اور جس تیزی سے کراچی پھیل رہا ہے، ہمیں مزید کام کرنا ہو گا۔ سرکلر ریلوے سارے شہر سے گزرے گی، ٹریفک کا دباؤ کم کرے گا۔

کراچی میں پانی کے مسئلے پر چیئرمین واپڈا نے بتایا کہ2 سال میں کراچی کو کے4 منصوبے کے ذریعے پانی پہنچا دیا جائے گا اور پانی کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ کراچی ٹرانسفارمیشن پلان پر عملدرآمد خوش آیند ہے، یہ معیشت کے حوالے سے اہم شہر ہے۔ کراچی میں انتشار کے بعد اس کی ترقی تیزی سے گرنا شروع ہو گئی۔

کراچی پھیلتا جا رہا ہے جس کے باعث مسائل بڑھ جاتے ہیں، لاہور بھی پھیل رہا ہے جس کی وجہ سے شہروں پر دباؤ بڑھ جاتاہے اور وسائل کم ہوجاتے ہیں۔ کراچی کے مسائل بروقت حل نہ کیے گئے تو کنٹرول کرنا مشکل ہوجائے گا، مگر یہ انتباہ آپ کسے دے رہے ہیں، وہ تو کسی کی نہیں سنتے، کراچی کو جدید ترین شہر بن کر دنیا میں اپنی انفرادیت دکھانی تھی، اس شہر میں بہت صلاحیت، اہلیت اور جمہوری طاقت ہے، آپ نے درست کہا کہ کراچی کی ترقی کے لیے بنیادی انفرا اسٹرکچر کی ضرورت ہے۔

کراچی سمیت ملک بھر کے بڑے شہروں کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ کراچی کے مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت پرعزم ہے، امید ہے سندھ حکومت بھی بھرپور کام کر ے گی۔ کئی چیزیں ایسی ہیں جو وفاقی حکومت، صوبائی حکومت کے بغیر نہیں کرسکتی۔

تو کس نے روکا ہے کہ وفاق اور سندھ مل کر کراچی کی قسمت بدلیں، باہمی کشیدگی کب ختم ہوگی، تصادم، بلیم گیم اور اختلافات کے تماشے کیوں ہیں میڈیا سے شہریوں کو اتحاد، یک جہتی، اتفاق رائے اور مروت وخیر سگالی کے پیغامات کی روایت کیوں ختم ہوگئی ہے، جمہوریت تو راستہ دیتی ہے، عوام کے کام کرنے کے امکانات پیدا کرتی ہے۔ بیروزگاری، غربت اور جرائم سے کون نجات دلائے گا، جمہوری نظام کو شہری ترقی پر آمادہ کرنے کی ذمے داری حکومت اور اپوزیشن سب پر ہے، بنڈل آئی لینڈ منصوبے سے سب کو فائدہ ہو گا، شہر پر دباؤ کم ہوگا، غیرملکی سرمایہ کاری آئیگی، بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی اس منصوبے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

بنڈل آئی لینڈ سے فائدہ سندھ کو ہے، اس پر وزیر اعلیٰ سے مزید بات کریں گے، اس منصوبے پر سندھ اور وفاق دونوں کو فائدہ ہوگا۔ بڑے منصوبے مشکل ہوتے ہیں، سیاسی عزم کا اظہار نہیں ہوتا، بڑھتی آبادی کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی کرنا ہوگی، وفاق اس منصوبے پر پرعزم ہے، امید ہے حکومت سندھ اس پر تعاون کرے گی۔

کراچی میں گزشتہ سال سیلاب سے جو مسئلے آئے تھے، خوشی ہے کہ ان پر کام کا آغاز ہوگیا ہے، 3 اہم نالوں کا کام بھی ہوگیا ہے۔ کے سی آر جیسے بڑے منصوبوں پر سندھ اور عوام کو پورا زور لگانا ہوگا۔ واضح رہے کہ کراچی سرکلر ریلوے پر ڈھائی سو ارب روپے لاگت آئے گی۔ ٹریک کی لمبائی 43 کلو میٹر ہو گی اور33 اسٹیشنز تعمیر کیے جائیں گے۔ منصوبہ اٹھارہ سے چوبیس ماہ میں مکمل ہوگا۔ سرکلر ریلوے دو ٹریکس پر چلے گی، ایک ٹریک سٹی اسٹیشن سے شہر کا چکر لگا کر کینٹ اسٹیشن، دوسرا سٹی اسٹیشن سے دھابیجی جائے گا۔

ہر چھ منٹ بعد ٹرین اسٹیشن پر آئے گی، ہر ٹرین میں چارکوچز ہوں گی۔ جن میں800 سے زائد مسافر سفر کرسکیں گے اور یومیہ تین سے پانچ لاکھ مسافروں کے مستفید ہونے کا امکان ہے الیکٹرک ٹرین زیادہ سے زیادہ ایک سو بیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑے گی۔ علماء کے وفد سے ملاقات میں وزیراعظم نے کہا معاشرتی اصلاح کے لیے علماء کرام کا خصوصی کردار ہے۔ معاشرے میں بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کی روک تھام اور سدباب کے لیے حکومت، اساتذہ اور علماء کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

وزیر اعظم کی باتوں میں گلوں کی خوشبو ہے لیکن جب تک اپوزیشن اور حکومت کے دل صاف نہیں ہونگے، اتفاق رائے، خیر اندیشی اور جمہوری جذبے سے کام کرتے ہوئے ایک مفاہمانہ فضا قائم نہیں ہوگی ساری باتوں کا حسن بے نتیجہ رہے گا۔ کل بھی باتیں دل کو بہت اچھی لگتی تھی آج بھی بہت شاندار خیالات پیش کیے گئے مگر کراچی کے عوام اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے کیا حل پیش کیا ہے، اہم سوال تو یہی ہے۔

مقبول خبریں