کورونا چوتھی لہر کی شدت میں کمی مگر…

پاکستان میں حکومت کی مثبت اور بروقت حکمت عملی کی وجہ سے چوتھی لہر کی شدت میں کمی ہے۔


Editorial October 01, 2021
پاکستان میں حکومت کی مثبت اور بروقت حکمت عملی کی وجہ سے چوتھی لہر کی شدت میں کمی ہے۔فوٹو: فائل

ملک بھر میں کورونا وائرس سے مزید 52 اموات ہوئیں، یوں مثبت کیسز کی یومیہ شرح 3.19 فی صد رہی ،کورونا کیسز کی شرح میں کمی کے پیش نظر این سی اوسی نے آٹھ شہروں میں پابندیاں نرم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

سرابرہ این سی او سی وفاقی وزیر اسد عمر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا سمجھ چکی ہے کہ کورونا کا مقابلہ صرف ویکسین سے ممکن ہے۔ این سی او سی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چالیس فیصد والے ویکسی نیشن والے شہروں میں پابندیاں نرم کی جائیں گی۔

یہ بات خوش آیند ہے کہ پاکستان میں حکومت کی مثبت اور بروقت حکمت عملی کی وجہ سے چوتھی لہر کی شدت میں کمی ہے ، بتدریج کاروبار زندگی ملک میں بحال ہورہا ہے ، جس سے معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے امکانات روشن ہوئے ہیں ۔

ہمارے ہاں کی نسبتاً بہتر صورت حال کا ذکر عالمی سطح پر بھی ہوا اور بعض جگہوں پر ہمیں بطور مثال بھی پیش کیا گیا،لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکومتی سطح پر ایسے اقدامات کی مزید ضرورت ہے جو وائرس کے پھیلاؤکو روک سکیں یا اس عمل کو مزید سست کر سکیں۔

پاکستان اس معاملے میں ماضی کے اپنے ہی تجربات سے بہت کچھ دہرا سکتا ہے یعنی یہ کہ دوٹوک بندشیں مسئلے کا حل نہیں'مگر کورونا کے وائرس سے ہوشیاری اور عقل مندی سے خود کو بچایا جاسکتا ہے' ماضی میں بھی پاکستان کی حکمت عملی یہی رہی اور امید ہے کہ موجودہ حالات میں بھی اسی طرح کیا جائے گا۔

عوامی سطح پر آگاہی کو پھیلانے کی زبردست ضرورت ہے کہ ہر فرد اپنی اور اپنے متعلقین کی صحت و سلامتی کا ضامن ہے۔ وائرس جیسی غیر مرئی شے سے خود کو بچانے کا مطلب یہ ہے کہ ایک فرد نے اپنے ساتھ لگی کئی زندگیوں کو بچانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔بنیادی احتیاطی تدابیر پر عمل اس معاملے میں بہت اہم کردار ادا کرسکتا ہے اور اس میں ماسک پہننے اور ہاتھ دھونے کی عادت بنیادی طور پر اہم ہے۔

وائرس کی موجودہ شکل چونکہ زیادہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے اس لیے سماجی فاصلے کے اصول کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ حکومت کی جانب سے جن پابندیوں کو نئے سرے سے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اگر ان پر عمل یقینی بنایا جائے تو وبا کے کیسز میں ضرورکمی آنی چاہیے؛چنانچہ اس وقت بنیادی سوال یہی ہونا چاہیے کہ کیا ان احتیاطی تدابیر پر عمل ممکن بنایا جاسکے گا؟

حکومت کی نافذ کردہ پابندیاں اپنی افادیت کے باوجود اپنی جگہ مگر وبا کی یقینی روک تھام کا ذریعہ ویکسی نیشن ہی ہے اس لیے پابندیاں از سر نو لگانے یا بڑھانے کے باوجود ویکسی نیشن کی مہم کو تیز کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

سائنسی مطالعات میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ویکسین نے کورونا کے پھیلاؤکو 80فیصد سے زیادہ حد تک کم کیا،اگرچہ ڈیلٹا ویری اینٹ کے ساتھ نئے خدشات ابھر رہے ہیں؛ تاہم سائنسی تحقیقات میں یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ ویکسین کی دو خوراکیں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے خطرے کو 78 فیصد تک کم کر دیتی ہیں؛چنانچہ کسی بھی سوسائٹی میں کورونا وبا کی نئی لہرسے بچاؤ کا کلیدی انحصار ویکسین پر ہے اس لیے ویکسین کی مہم میں اب کوئی لمحہ ضایع کیے بغیر اقدامات کی ضرورت ہے۔

سندھ' جہاں ان دنوں کیسز کی تعداد سب سے زیادہ ہے وہاں ویکسین کی سہولت کو بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔ گزشتہ دنوں سند ھ میں کورونا ویکسین سینٹرز کے باہر ہجوم کی جو صورت نظر آئی وہ بذاتِ خود وبا کے پھیلاؤ کو دعوت دینے والا عمل تھا۔

حیرت ہے کہ صوبائی حکومتیں ان سادہ مگر اہم باتوں کو جانتے ہوئے بھی انتظامات میں ناکام رہتی ہیں۔ یہ کام این سی او سی کی سطح پر گائیڈ لائنز کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ویکسین کی مہم کو یقینی طور پر بڑھانے کے لیے گھر گھر مہم کا تجربہ کامیاب ثابت ہوا ہے۔

صوبہ پنجاب کے تجربے سے سیکھتے ہوئے دیگر صوبوں میں بھی اس پر عمل شروع کروانا چاہیے۔سندھ، بلوچستان' خیبر پختونخوا' آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے میں بھی ویکسین کی ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے کہ عوام کو جلد از جلد وائرس کے خطرے سے تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ویکسی نیشن کی شرح بڑھانے کے لیے دہری پالیسی پر عمل کیا جانا ضروری ہے۔

ایک طرف ویکسی نیشن مہم ایسی ہو کہ عوام کو رسائی میں دقت پیش نہ آئے جب کہ دوسری جانب ویکسین کو ہر شعبہ زندگی میں لازمی قرار دیا جائے تا کہ کوئی شہری جان بوجھ کر یا کسی افواہ کے زیراثر ویکسین سے انکار نہ کر سکے۔

اندرونِ ملک فضائی سفر کورونا ویکسین کے ساتھ مشروط کرنا ایک ضروری اور بروقت اقدام ہے' ریل گاڑیوں اور بین الاضلاعی اور بین الصوبائی بس سفر کے لیے بھی یہی قاعدہ نافذ ہو ناچاہیے' اسی طرح مارکیٹوں اور دفاتر کے ملازمین کے لیے بھی۔

عالمی ادارہ صحت کے ہیلتھ ایمرجنسیز کے سربراہ مائیکل ریان کا یہ کہنا قابلِ غور ہے کہ ڈیلٹا ویری اینٹ اس امر کی تنبیہ ہے کہ کورونا وائرس صورتیں بدل رہا ہے مگر یہ عمل کی تاکید بھی ہے، اس سے پہلے کہ کورونا وائرس اس سے بھی زیادہ خطرناک صورت اختیار کر لے۔

اگر چہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ باقی کی زندگی میں اب ہمیں کورونا کے ساتھ ہی جینا ہے، لیکن پھر بھی ہر لہر میں ہم اس کا جو شکار ہو رہے ہیں، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جب ہمارے ہاں صورت حال بہتری کی جانب گامزن ہوتی ہے، تو ہمیں ادارے، بازار، شادی ہال، ہوٹل وغیرہ کھولنے کی غیر ضروری جلدی پڑ جاتی ہے۔

لوگ تو پہلے ہی بے پروائی کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں۔ حکومتی ڈھیل ملتے ہی لوگ ضرورت سے زیادہ آزاد ہو جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ پھر وہی نکلتا ہے جو نکلنا چاہیے کہ جاتی جاتی وبا پھر لوٹ آتی ہے۔ حکومت پھر خبردار کرنا شروع کر دیتی ہے۔ لوگ اس معاملے میں مزید بہرے ہو جاتے ہیں۔

ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکالنے کے بجائے وہ بات کان میں گھسنے ہی نہیں دیتے۔ بیماری پھر زور پکڑتی ہے تو حکومت کو وہ سب کچھ پھر بند کرنا پڑ جاتا ہے جو غیر ضروری عجلت میں پہلے کھولا گیا تھا اور اس کی وجہ سے کورونا مریضوں کی تعداد میں اچانک اضافہ بتایا جا رہا ہے۔

اچانک نرمی اور پھر اچانک سختی کا یہ کھیل ہی ہمارے لیے نقصان کا باعث بنتا ہے۔ ہم کچھ اپنے اقدامات اور زیادہ تر اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد کے سبب وبا کا ''ہاتھی'' نکالنے کے قریب پہنچتے ہیں بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ صرف دم ہی باقی ہوتی ہے تو اچانک نرمی کا اعلان کر کے جاتے ہاتھی کو پھر واپس کھینچ لیتے ہیں۔ اس کے لیے ٹھوس طرز عمل کی ضرورت ہے۔

حالیہ دنوں میں یہ اچھی خبر بھی سننے کو ملی کہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹتے ممالک میں پاکستان دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ اس اچھی خبر کے پیچھے بھی ہماری بے پروائیوں کا عمل دخل نظر آ رہا ہے۔

اس درجہ بندی کا تعین کرتے وقت بازاروں میں معمول کی خریداری، سفر وغیرہ کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ اس کام میں تو ہم ماہر ہیں، اب جو صورت حال نظر آ رہی ہے یا حکومت وقت پیش کر رہی ہے، اس درجہ بندی میں بھی ہم بہت پیچھے جانے والے ہیں۔

معروضی حالات میں اب تعلیمی اداروں کو مزید بند رکھنا ممکن نہیں اس امر کا ادراک کرتے ہوئے ہی تمام صوبوں نے تعلیمی سرگرمیاں بحال رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں ایس او پیز کو سختی سے یقینی بنایا جائے گا۔سچ تو یہ ہے کہ کورونا کے باعث گزشتہ ڈیڑھ برس سے زائد عرصے سے ملک میں تعلیم کا سلسلہ معطل اور متاثر رہا ہے ۔

اب یہ امر ضروری ہو گیا ہے کہ بچوں کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے ان کی تعلیم و تربیت بارے سنجیدگی اختیار کی جائے جس طرح دیگر شعبوں میں احتیاطی تدابیر کو روندا جاتا ہے کوشش کی جائے کہ کم از کم تعلیمی اداروں میں اس کا خیال رکھا جائے اور احتیاطی تدابیر کی پابندی یقینی بنائی جائے تاکہ خدانخواستہ ایسے حالات سے بچا جا سکے جس کے نتیجے میں مجبوراً تعلیمی اداروں کو بند اور تعلیم کا عمل ایک مرتبہ پھر معطل کرنے کی نوبت آئے۔

متعددبار پہلے بھی ان سطور کے ذریعے حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی ہے کہ سوشل میڈیا پر کورونا وائرس کی ویکسین کے خلاف جو من گھڑت اور جھوٹا پروپیگنڈا جاری ہے ، اس کے خاتمے کے لیے فوری اور ضروری اقدامات کیے جائیں، کیونکہ جب تک وطن عزیز کے باسی بلاتامل ویکسین نہیں لگوائیں گے ، اس وقت تک کورونا کی ایک کے بعد ایک لہر آتی رہے گی ، اور ہماری مشکلات کم ہونے کے بجائے بڑھیں گی ۔

عوام کو حکومت سے تعاون کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنا نا چاہیے کہ حالات اس قدر نہ بگڑیں کہ حکومت کو تالا بندی کا فیصلہ کرنا پڑے۔ تالا بندی کی صورت میں سب سے زیادہ نقصان یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں اور چھوٹے اداروں میں کام کرنے والوں کا ہوتا ہے۔

علمائے کرام، اساتذہ اور لکھاریوں کو بھی چاہیے کہ وہ موجودہ حالات میں اپنا فرض سمجھتے ہوئے عوام کو اس وبا کے بارے میں نہ صرف آگاہی دیں بلکہ انھیں سمجھائیں کہ اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومتی ہدایات پر عمل کرنا کس حد تک ضروری ہے۔ ایس او پیز پر عمل کر کے عوام نہ صرف خود بلکہ دوسروں کو بھی محفوظ بنا سکتے ہیں، اس حوالے سے ویکسین لگوانا سب سے موثر ترین عمل اوراحتیاط ہے۔

مقبول خبریں