افغانستان کا ایشو

جب تک دنیا کے طاقت ور اور خوشحال ممالک اس تبدیلی کو قبول نہیں کرتے، پاکستان کے لیے چیلنجز میں کمی نہیں آئے گی۔


Editorial October 03, 2021
جب تک دنیا کے طاقت ور اور خوشحال ممالک اس تبدیلی کو قبول نہیں کرتے، پاکستان کے لیے چیلنجز میں کمی نہیں آئے گی۔ فوٹو: فائل

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر پاکستانی طالبان ہتھیار ڈال دیں تو انھیں معاف کر دیں گے، ٹی ٹی پی کے کچھ گروپ امن کے لیے بات چیت کرنا چاہتے ہیں، افغانستان میں ان سے بات چیت چل رہی ہے، افغان طالبان اس میں مصالحتی کردار ادا کر رہے ہیں، مذاکرات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔

ہم مسئلے کے عسکری حل پر یقین نہیں رکھتے، ٹی ٹی پی کے جنگجو ہتھیار ڈال کر ملک میں عام شہری کی طرح رہ سکتے ہیں۔ گزشتہ روز ترک چینل ٹی آر ٹی ورلڈ کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی مختلف گروپوں پر مشتمل ہے اور ہم ان میں سے چند کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی نے وزیر اعظم کے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے مذاکرات سے متعلق بیان پر شدید تشویش اور تحفظات کا اظہار کرنے کے ساتھ اسے انتہائی حساس معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت فوری طور پر پارلیمان کا اجلاس بلاکر مذاکرات سے متعلق اعتماد میں لے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اس معاملے میں مدد کر رہے ہیں۔ ہم امن کے لیے بات چیت پر یقین رکھتے ہیں، سیاست دان ہونے کے ناطے میں سیاسی مذاکرات کو ہی آگے کا راستہ سمجھتا ہوں، جیسا کہ افغانستان کے بارے میں بھی میرا ہمیشہ سے مؤقف رہا ہے کہ اس مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں۔ مذاکرات کے باوجود سیکیورٹی فورسز پر ٹی ٹی پی کے حملوں کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم بات چیت کر رہے ہیں جو نتیجہ خیز ہوتی ہے یا نہیں اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔

ٹی ٹی پی سے مفاہمت اور اسے معافی دینے کا سوال در حقیقت سیاسی تاریخ کے اہم سوالوں میں سے ہے، ملکوں کے درمیان اختلافات اور خوں ریز جنگوں کے بعد بٹوارے کا سوال جب آتا ہے ملک ٹوٹ کر دو نیم ہو جاتے ہیں پھر ان کی خیر اندیش، مفاہمت پسند اور سنجیدہ قیادت، ان ملکوں کو دوبارہ ایک کرنے کے سیاسی مسئلے پر مذاکرات کرتی ہیں، ان مذاکرات پر دنیا بھر کے مدبرین، مورخین اور صحافیوں نے درجنوں کتابیں لکھی ہیں۔

سچ یہی ہے کہ ٹی ٹی پی نے ملک میں دہشت گردی کی معنوی اعتبار سے بنیاد رکھی، پی پی کا وہ بیانیہ بالکل درست ہے کہ جس تنظیم نے کل ہمارے سیکیورٹی اداروں ، عوام کو بم دھماکوں، اور خوفناک حملوں کا نشانہ بنایا، پاکستان کی سالمیت، خود مختاری اور بقا بلکہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا، اس سے بات چیت پارلیمنٹ میں ہونی چاہیے، جو ملک کا سب سے اہم ادارہ ہے، ٹی ٹی پی کو معافی دینے کا معاملہ قومی نوعیت کا ہے، ٹی ٹی پی سے افغانستان میں طالبان کے ذریعے بات ہو رہی ہے۔

یہی بات چیت اصل میں پاکستان کے عوام، اس کے سیاست دانوں اور سول سوسائٹی سے ہونی چاہیے، ذرا باریک بینی سے جائزہ لیں تو اس معافی میں مصالحت، مفاہمت، عفو و درگزر اور خیر اندیشی کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے، حکومت امن و امان اور ملکی سلامتی و بقا کے بڑے اہداف پر نظر رکھے ہوئے ہے، لیکن پیپلز پارٹی کے سوالات بھی کم اہمیت کے حامل نہیں، حکومت اور تحریک طالبان پاکستان میں کوئی مفاہمت ہوتی ہے تو اس کا فورم افغانستان نہیں پاکستان کی سیاسی قیادت، عوام اور سول سوسائٹی کے پاس ہے، ابھی تک ٹی ٹی پی کی قیادت نے اپنا نقطہ نظر صاف طور پر پاکستانی قوم کے سامنے پیش نہیں کیا۔

یہ وزیر اعظم کی صلح جوئی، امن اور خطے کی صورتحال کے حوالے سے بلاشبہ ایک پیش رفت کی خواہش ہے، اپنے باطن میں ایسی خواہش کا اظہار دنیا کے کئی سیاسی رہنما کرتے آئے ہیں، جنوبی افریقہ کی سیاسی تاریخ کے اہل پاکستان گواہ ہیں، سیاہ فام اور سفید فام اقوام جو کل ایک دوسرے کے خون کی پیاسی تھیں ایک لازوال سیاسی مفاہمت کی ڈور میں بندھ گئیں، یہ قیادت کی دور اندیشی تھی لیکن اس افہام و تفہیم اور نسلی کشیدگی کا خاتمہ عوام کی حمایت، پارلیمانی اداروں اور سیاسی پارٹیز کی جمہوری کوششوں سے ہوا۔

پاکستان کے عوام ہر اس کوشش کی حمایت کر سکتے ہیں جس کی پارلیمنٹ اجازت دے، ہمیں اپنے فیصلے پارلیمنٹ سے کرانے چاہئیں، جو قومی حمیت، سیاسی بالادستی کی نقیب اور قومی سلامتی و تائید سے ممکن ہو اور جو عوامی امنگوں کی آئینہ دار بھی ہو۔

وقت کا تقاضہ ہے کہ ٹی ٹی پی کے مسئلے کو مکمل سیاسی اتفاق رائے سے حل کیا جائے، وزیراعظم نے ٹی ٹی پی کے لیے جن جذبات کا اظہار کیا ہے کاش وہ ملکی سالمیت، جمہوری بریک تھرو اور سیاسی مفاہمت کے لیے دو قدم چل کر اپوزیشن کو بھی مفاہمت کی اسپیس دیں، یہ کسی کی ذاتی دشمنی نہیں جمہوریت کی بقا اور ملکی ترقی و عوام کی خوشحالی کا چیلنج ہے، بڑی قومی قیادت چھوٹے معاملات پر بھی در گزر، رواداری اور معافی دینے کی روایت قائم کرکے سیاسی درجہ حرارت کم کرسکتی ہے۔

ایک بات چیت اپوزیشن سے بھی ہونی چاہیے، بڑے فیصلوں کے لیے بڑے دل، سیاسی بصیرت اور دور اندیشی سے کام لینے کا وقت ہے، ایک عظیم تر سیاسی مفاہمت ہی ملک کو سیاسی انتشار سے بچا سکتی ہے، اور وہ وقت یہی ہے۔

پاکستان کو اس وقت معاشی بحالی کا چیلنج درپیش ہے۔ کورونا وباء نے معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اسی دوران افغانستان کا ایشو ایک نئے چیلنج کے ساتھ سامنے آیا ہے۔ پاکستان اب تک اپنے کارڈ درست انداز میں کھیل رہا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ پاکستان سب سے پہلے اپنے مفادات کو اولیت دے اور داخلہ، خارجہ اور معاشی پالیسیوں کا محور پاکستان کا مفاد ہونا چاہیے۔ افغانستان میں جو تبدیلی آئی ہے جب تک دنیا کے طاقت ور اور خوشحال ممالک اس تبدیلی کو قبول نہیں کرتے، پاکستان کے لیے چیلنجز میں کمی نہیں آئے گی۔

افغانستان میں اس وقت معیشت مکمل طور پر زمین بوس ہو چکی ہے۔ ان کے پاس خوراک ہے اور نہ ہی علاج ومعالجہ کے لیے ادویات موجود ہیں۔ پاکستان تنہا یہ بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ضروری یہ ہے کہ افغانستان میں قائم طالبان کی حکومت بھی اپنے آپ کو دنیا کے لیے قابل قبول بنائے۔

 

مقبول خبریں