پالیسی سازوں کے لیے لمحہ فکریہ

بھارتی کرونیکلز کی رپورٹ نے بھارتی پروپیگنڈے کے جال سے پردہ اٹھایا


Editorial October 04, 2021
سیاسی قیادت پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جرات و استقلال کامظاہرہ کرکے ایک متفقہ قومی لائحہ عمل اپنائے فوٹو: فائل

شمالی وزیرستان کے علاقے اسپن وام میں دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں فرنٹیئر کور کے چار اہلکار اور ایک لیویز سب انسپکٹر سمیت پانچ جوان شہید ہوگئے،جب کہ علاقے میں موجود دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

مادر وطن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے جوانوں کو قوم سلام پیش کرتی ہے ، جنھوں نے اپنا آج ہمارے کل کے لیے قربان کردیا ہے ۔گزرے چند ماہ سے دہشت گردوں کے فورسز پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ پاکستان کی دلیر فورسز دہشت گردی کے خلاف تاریخ کی طویل ترین جنگ لڑ رہی ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے جاری ہے ، گو اس کی شدت میں کافی کمی آچکی ہے ، لیکن ابھی تک یہ عفریت مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے ۔ دوسری جانب ترک ٹی وی کو وزیر اعظم عمران خان کے انٹرویو کی مزید تفصیلات اخبارات میں شایع ہوئی ہیں۔

جن کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہے امریکا کو جلد یا بدیر طالبان حکومت کو تسلیم کرنا پڑے گا،امریکی اب قربانی کے بکرے تلاش کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم یہ انکشاف بھی کرچکے ہیں کہ ان کی حکومت کالعدم تحریک ِ طالبان پاکستان میں شامل کچھ گروپوں سے بات چیت کر رہی ہے اور اگر وہ ہتھیار ڈال دیں تو انھیں معاف کیا جا سکتا ہے۔

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) پاکستان کی کارروائیاں تو چل رہی اور وہ ان کی ذمے داریاں بھی لے رہے ہیں، کیونکہ افغانستان کی جیلوں سے پاکستانی طالبان کی رہائی کے نتیجے میں ہمارے ہاں دہشت گردی کی نئی لہر اٹھ رہی ہے۔ گو افغان طالبان کی یقین دہانی موجود ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین کسی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، لیکن پاکستان میں فورسز پر حالیہ حملے اس یقین دہانی پر سوالیہ نشان ہیں۔ ادھر وزیراعظم کے پاکستانی طالبان سے مذاکرات کے انکشاف کے بعد اپوزیشن کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے ۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی جنگ ہی ایک خاص سخت گیر مذہبی نقطہ نظر کے خلاف تھی اور اگر ہم اسی طرح کے خیالات، نظریات کو دوبارہ سے ہوا دیں گے، تو اس کے اثرات نہ صرف پاکستانی معاشرے پر نظر آئیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو گا۔ اس ضمن میں پاکستان کا موقف یہی رہا ہے کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان پوری دنیا کے ساتھ مل کر اپنی پوزیشن لے گا، لیکن ارباب اختیار کی گفتگو میں ایسی باتیں سامنے آ رہی ہیں، جو عالمی سیاست میں پاکستان کا منفی تاثر پیدا کررہی ہیں۔پاکستانی طالبان سے مذاکرات کے ڈول تو ماضی کی حکومتوں نے بھی ڈالے تھے لیکن نتیجہ کچھ بھی نہ نکلا بلکہ مسائل پہلے سے بھی زیادہ ہوگئے۔

پاکستان کے مشیر برائے قومی سیکیورٹی معید یوسف کہہ چکے ہیں کہ طالبان پاکستان کو دوبارہ منظم کرنے اور مستحکم کرنے کے لیے بھارت سرگرم ہے۔سچ تو یہ ہے کہ امریکا اپنی ناکامیوں کا تمام تر ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہتا ہے جب کہ بھارت کی پاکستان کے خلاف سازشیں جاری وساری ہیں ، بھارت کی پوری کوشش ہے کہ پاکستان کو دنیا میں تنہا کرتے ہوئے ایک دہشت گرد اسٹیٹ ڈیکلیئر کروایا جائے۔یہی وجہ ہے کہ بھارت بیتے پندرہ برس سے متعدد جعلی نیٹ ورک کے ذریعے پاکستان کے خلاف دنیا بھر خاص طورسے یورپ میں جھوٹ پرمبنی پروپیگنڈ ا کرتا رہا ہے، لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے میں بہت پہلے سے ہی اس قسم کی سازشوں میں مصروف ہے۔

بھارتی کرونیکلز کی رپورٹ نے بھارتی پروپیگنڈے کے جال سے پردہ اٹھایا، جس میں بتایا گیا کہ بین الاقوامی سطح پر بھارت پروپیگنڈے کے ذریعے اپنی ناکامیاں چھپا رہا ہے، دسمبر 2020 میں یورپین ڈس انفو لیب کی ایک رپورٹ بنام انڈین کرونیکلز میں انکشاف کیا گیا تھا کہ 750سے زائد ویب سائٹس کو دنیا کے 119ممالک میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا گیا جس میں سب سے زیادہ خطرناک بات یہ تھی کہ یہ تمام سائٹس بھارت سے آپریٹ کی جارہی تھیں۔

ان جعلی ویب سائٹس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ دنیا بھر میں پاکستان کو دہشت گردوں کا سرپرست ملک ڈکلئیر کیاجائے اورپاکستان کو منی لانڈرنگ کی جنت بھی قراردیا جائے، اس گھناؤنی سازش میں بھارت کسی حد تک کامیاب اس لیے دکھائی دیا کہ پاکستان پہلے ہی فیٹف کی گرے لسٹ میں شامل تھا،یعنی پاکستان کی ستائیس میں سے چھبیس نکات پر عمل در آمد کرنے کے باوجود بھی پاکستان فیٹف کی گرے لسٹ سے باہر نہ آ سکا، پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کرچکے ہیں کہ پچھلے دوسال کے دوران میں سوشل میڈیا پر جو خبریں اور ٹرینڈ چلے ہیں انھیں زیادہ افغانستان، بھارت اور حتی کہ اسرائیل سے آپریٹ کیا جارہا تھا جس کا مقصد پاکستان کو ایک دہشت گرد ملک قراردلوانا تھا۔

گزشتہ برس یورپی یونین میں بھارت کے پاکستان مخالف جعلی خبریں، جعلی میڈیا سائٹس اورپروپیگنڈا ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ بن چکاہے،کیونکہ بھارت سائبر اسپیس، انٹرنیٹ اور میڈیا کو پاکستان دشمنی کے لیے استعمال کر رہا ہے جس پر یورپی یونین کا تشویش زدہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے، پاکستان اپنے دفاع میں نا قابل تردید ثبوت اوردستاویزات پیش کر چکا ہے اور گاہے بگاہے میڈیا میں آکر بھارتی ہتھکنڈوں کو بے نقاب کرتارہتاہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے بھارت منظم منصوبہ بندی اور فنڈنگ کرتا رہا اور کر رہا ہے۔

پاکستان اس وقت معاشی ترقی کی جانب گامزن ہے اور چین پاکستان راہداری جتنی چین کے لیے اہم ہے اس سے اگر زیادہ نہیں تو اتنی ہی اہم پاکستان کے لیے ہے۔معاشی ترقی میں حائل رکاوٹوں میں سب سے بڑی رکاوٹ دہشت گردی ہے جو کہ بلوچستان اور قبائلی اضلاع میں اس وقت جاری ہے۔اس دہشت گردی کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ایسے اقدامات جنگی بنیادوں پر کرے جس سے دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام ہوسکے ۔

پاکستان کے پالیسی سازوں کو ٹی ٹی پی کے ساتھ روابط یا افغان طالبان کی مبینہ ثالثی کے معاملات استوار کرنے سے پہلے دہشت گردی کا نشانہ بننے والے شہدا کے لواحقین کے جذبات اور خیالات کو ضرور جانچنا چاہیے۔ایک مخصوص لابی اپنے نظریات یا معاشی مفادات کے لیے ریاست پر اثرانداز ہوکر ٹی ٹی پی کو معافی دلاتی یا کوئی سمجھوتہ کرتی ہے تو اس کے منفی اثرات عالمی سطح پر ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں محسوس کیے جائیں گے۔

پاکستان میں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر اقتدار میں آنے والی پارٹی اور حکومت اپنی مرضی اور خواہش سے تنہا ایسا فیصلہ نہیں کر سکتی۔ ماضی میں بھی حکومت پاکستان اور طالبان پاکستان کے درمیان تین بار باضابطہ معاہدے ہوئے جن کا نتیجہ صفر بٹا صفر رہا۔ اس وقت افغان طالبان اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں اپنا کنٹرول مستحکم کرنے اور دنیا کے ساتھ انگیج کرنے کے مراحل میں ہیں،دنیا خصوصاً امیر عرب ممالک، امریکا، برطانیہ اور یورپی دنیا افغان طالبان کے عمل کو واچ کررہی ہیں، کسی بھی حکومت کو تسلیم کرنے کا ایک پراسس ہوتا ہے، دنیا بشمول پاکستان افغانستان کی طالبان حکومت کے ساتھ انگیج کر رہی ہے۔ پاکستان انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغانستان کے عوام کی مدد بھی کر رہا ہے تاکہ ان کی مشکلات کم سے کم کی جاسکیں۔

افغانستان کے اثاثے منجمد ہونے سے عوام کے لیے شدید مشکلات پیدا ہور رہی ہیں توہم دنیا اور خصوصاً امریکا کے ساتھ بھی بات چیت کررہے ہیں۔ افغانستان ایک خودمختار ملک ہے اور اس کی حکومت کو تسلیم کرنے کا انحصار اس کے فیصلوں اور ان کی روشنی میں عالمی پالیسی پر ہے۔ افغانستان کی عالمی تنہائی کی قیمت اس ملک کے بے گناہ اور نہتے عوام گزشتہ تیس چالیس برس سے ادا کرتے چلے آرہے ہیں ۔ لہٰذا پاکستان کو افغان حکومت کے ساتھ مسلسل رابطہ بھی رکھنا ہوگا اور اپنے ملک اور عوام کے مفادات کا تحفظ بھی کرنا ہے۔

پاکستان کے اردگرد سازشوں کے جال بنے جاچکے ہیں، عالمی طاقتیں اپنے مقاصد کے لیے کچھ بھی کرسکتی ہیں۔لب لباب یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہماری افواج اور عوام نے ایک طویل جنگ لڑی ہے، ہزاروں جانوں کی قربانیاں بھی دی ہیں۔ سری لنکا نے تامل باغیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا، ہمارے پالیسی ساز اس سے بخوبی آگاہ ہیں۔لہٰذا حکومتی سطح پر جو بھی فیصلے کیے جائیں، ان میں سب سے پہلے پاکستان اور اس میں بسنے والے عوام کے مفادات کو مقدم رکھا جائے، تاریخ کے اس نازک ترین موڑ پر ہماری سیاسی قیادت پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جرات و استقلال کامظاہرہ کرکے ایک متفقہ قومی لائحہ عمل اپنائے تاکہ ہمارے ملک میںدہشت گردی، انتہاپسندی اور اس کے سہولت کاروں کا جڑ سے خاتمہ ممکن ہوسکے اورہم خوشحالی اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوکر ترقی یافتہ ممالک کے لیے مثال بن سکیں۔

مقبول خبریں