پینڈورا پیپرزکا زلزلہ
شوکت ترین، فیصل واوڈا، شرجیل میمن،مونس الٰہی اور علی ڈار سمیت 700 سے زائد پاکستانیوں کی آف شور کمپنیاں سامنے آئی ہیں
جمہوری نظام پر آزمائشیں بڑھتی جارہی ہیں، فوٹو: فائل
دنیائے صحافت کی ایک عالمی تحقیق '' پینڈورا پیپرز'' کے نام سے جاری کی گئی ہے ، جس میں دنیا کی معروف اور طاقتور شخصیات کی آف شور کمپنیوں کی تفصیلات منظر عام پر لائی گئی ہیں۔ پینڈورا پیپرز میں وزیر خزانہ شوکت ترین، سینیٹر فیصل واوڈا، شرجیل میمن، مونس الٰہی اور علی ڈار سمیت 700 سے زائد پاکستانیوں کی آف شور کمپنیاں سامنے آگئیں۔
آئی سی آئی جے نے وضاحت کی ہے کہ رپورٹ میں شامل دستاویزات میں عمران خان کی اپنی ذاتی حیثیت میں کوئی کمپنی نہیں ہے۔ پینڈورا پیپرز میں دنیا بھر کے91 ممالک اور خطوں کے 35 موجودہ اور سابق سربراہان مملکت، 330 سیاست دانوں اور عوامی نمایندوں کی خفیہ مالیاتی دستاویزات شایع کی گئی ہیں۔
پینڈورا پیپرز میں پاکستان کے کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران، بعض بینکاروں، کاروباری شخصیات اور کچھ میڈیا مالکان کی آف شور کمپنیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ سابق صدر پرویز مشرف کے ملٹری سیکریٹری لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ شفاعت اللہ شاہ کے نام بھی آف شورکمپنی نکلی ہے۔ انھوں نے آف شور کمپنی کے ذریعے لندن میں ایک مہنگا اپارٹمنٹ خرید رکھا ہے۔
آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل برائے انسداد دہشت گردی میجر جنرل ریٹائرڈ نصرت نسیم کے نام بھی ایک آف شور کمپنی ہے۔ میجر جنرل (ر) نصرت نسیم نے 2009 میں اپنی ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد اپنے نام آف شورکمپنی رجسٹرڈ کرائی۔
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ افضل مظفر کے بیٹے کے نام بھی ایک آف شور کمپنی نکلی ہے۔ افضل مظفر پر اسٹاک مارکیٹ میں 4 ارب 30 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے الزام میں مقدمہ بھی چلا۔ لیفٹیننٹ جنرل(ر) علی قلی خان کی بہن نے آف شور کمپنی کے ذریعے برطانیہ میں جائیدادیں خریدیں۔ سابق ایئر چیف مارشل عباس خٹک کے دو بیٹوں احد خٹک، عمر خٹک کے نام بھی آف شور کمپنی نکلی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول کے داماد احسن لطیف اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) تنویر طاہر کی اہلیہ زہرا تنویر کے نام بھی آف شور کمپنی نکلی ہے۔
ایمبیسیڈر ایٹ لارج فار فارن انوسٹمنٹ علی جہانگیر، نیشنل انوسٹمنٹ ٹرسٹ کے ڈائریکٹر جنرل عدنان آفریدی، ابراج گروپ کے عارف نقوی، امپیریل شوگر ملز کے مالک نوید مغیث شیخ، تاجر بشیر داؤد، آس حفیظ(مرچنٹ) اور بزنس مین عارف شفیع، طارق سعید سہگل کے نام بھی کمپنیاں نکلی ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق اگر قانون کے مطابق آف شور کمپنی ڈکلیئر کی گئی ہو اور وہ کمپنی کسی غیر قانونی کام کے لیے استعمال نہ ہو تو آف شورکمپنی بنانا بذات خود کوئی غیر قانونی عمل نہیں ہے۔ پینڈورا پیپرز میں اردن کے شاہ عبداللہ، یوکرین، ایکواڈور، کینیا کے صدور، قطر کے حکمرانوں، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے نام بھی شامل ہیں۔ چیک ری پبلک اور لبنان کے وزرائے اعظم، روسی صدر پوٹن کے غیر سرکاری وزیر برائے پروپیگنڈا کونٹیسٹین ارنسٹ کی بھی آف شور کمپنی نکلی ہے۔
یمن کے بادشاہ، بھارتی کرکٹر سچن ٹنڈولکر، پاپ اسٹار شکیرا، سپر ماڈل کلاڈیا شیفر، بھارتی صنعت کار انیل امبانی بھی خفیہ اثاثے رکھنے میں ملوث ہیں۔ پینڈورا پیپرز کی اشاعت کے بعد بڑی دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی ہے، حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ عالمی سطح پر تحقیقاتی عمل کا ایک تسلسل ہے، خفیہ اثاثوں تک رسائی ایک اعلیٰ تحقیق ہے، ذرایع کے مطابق یہ دنیائے صحافت میں کی جانے والی اب تک کی سب سے بڑی تحقیق ہے، آئی سی آئی جے کے مطابق پینڈورا پیپرز دنیا کے ہر حصے سے تعلق رکھنے والی ایک کروڑ 19لاکھ سے زائد فائلز کے لیکڈ ڈیٹا بیس پر مشتمل ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ دنیا کے 117ممالک کے 150 میڈیا اداروں سے تعلق رکھنے والے 200 سے زائد رپورٹرز نے دو سال تک جاری رہنے والی تحقیق میں حصہ لیا ہے۔
اس تناظر میں تحقیق کا ایک نیا پہلو سامنے آیا ہے، عوام، ماہرین، سیاست دانوں، دانشوروں اور محققین کی نظریں تحقیق کے ٹھوس نتائج پر مرکوز ہوںگی، کیونکہ اصل مقصد وہی ہے، تحقیقات اور احتساب کا ہمارے جمہوری اور سیاسی شب و روز میں کرپشن کے خاتمہ پر بڑا زور ہے، چنانچہ اس وقت تو پینڈورا پیپرز کے حوالے سے سب کچھ سامنے آچکا ہے۔ کتنے پردہ نشینوں کے نام میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں، بے اصولی یہ ہے کہ ان لوگوں نے نہیں بتایا کہ ان کے نام سے آف شور کمپنیاں کہاں چھپائی گئی ہیں، جن لوگوں کے نام سامنے آئے ہیں، وہ بلاشبہ اپنے ملکی ٹیکس سسٹم اور احتساب کے سارے نظام اور اس کے نتائج و عملی صداقتوں سے واقف بھی ہوںگے، یہ بااثر لوگ سسٹم سے باہر نہیں ہوں گے۔
اگر ان کے نام آف شور کمپنیاں نکل آئی ہیں تو کیا ان کی آمدن کے حقیقی ذرایع اور گوشواروں میں یہ حقائق مندرج کیوں نہیں تھے، کیا انھوں نے ان آف شور کمپنیوں کے بارے میں ایف بی آر یا مطلوبہ ٹیکس اداروں کو آگاہ نہیں کیا تھا ، پھر سوال یہ بھی ہے کہ نیب، ایف آئی اے اور دیگر ادارے پینڈورا پیپرز جیسی تحقیقات نہیں کرسکے، وجہ کیا تھی، یہ تلخ حقائق ہمارے تحقیقاتی اداروں سے کیسے چھپے رہے، ظاہر ہے احتساب کا عمل شفافیت سے محروم تھا، یہی وجہ ہے کہ ہمارے خلاف یا بارے میں اکثر تحقیقاتی رپورٹیں عوام کو باہر کے تحقیقاتی اداروں سے ملتی ہیں۔
اس وقت بھی بعض غیر ملکی تحقیقی رپورٹیں زیر بحث ہیں جن میں انتہائی حساس حقائق موضوع بحث بنائی گئی ہیں، دوسری طرف پینڈورا پیپرز کے انکشافات کے دائرے میں وزیراعظم عمران خان کے بہت ہی قریبی رفقا کے نام بھی آئے ہیں، متعدد حکومتی شخصیات بھی ملوث بتائی جاتی ہیں، لیکن تحقیق ضروری ہے، حقیقت کیا ہے اس پر وزیراعظم مکمل شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائیں ورنہ دیگر بد عنوانیوں کی تحقیقات کے معاملات کی طرح اس اہم عالمی تحقیقات کا اصل مقصد بھی ''گرد پس کارواں '' ہوجائے گا۔ سب جانتے ہیں کہ ملک میں پی ٹی آئی نے تبدیلی کا نعرہ دیا تھا۔
ان کے رفقا کے پینڈورا پیپرز میں نام آئے ہیں، انھیں اپنے نام ، کاروبار ، سیاست اور ساکھ کو بچانا ہے تو اس تحقیقات کا سامنا کرنا چاہیے، ملکی سیاسی صورتحال سخت دباؤ میں ہے، احتسابی عمل بھی جاری ہے جس میں پینڈورا پیپرزکی اشاعت کے بعد مختلف سیاسی ، کاروباری اور بزنس شخصیات کے خلاف تحقیقات کے نتائج کے حوالے سے ان شخصیات اور حکومت پر دباؤ مزید بڑھ جائیگا۔
معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ وزیرِ اعظم کی کوئی آف شور کمپنی نہیں ہے نہ ہی وہ ایسے کام کرتے ہیں، بیرونِ ملک کمپنی رجسٹر کرانے والے کا تعلق عمران خان سے جوڑنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کسی وزیر کی غلطی کے جوابدہ وزیراعظم نہیں، زمان پارک لاہور میں دو گھروں کا ایک ہی ایڈریس مگر دونوں گھر ایک دوسرے سے آدھا کلومیٹر دور ہیں اس لیے جن صاحب کے نام آف شور کمپنیاں ہیں وہ خود جواب دیں گے۔
انھوں نے کہا ہماری حکومت آئی تو (ن) لیگ دور میں لیا گیا ہر سال11ارب ڈالر کا قرض اتارنا پڑ رہا ہے، عمران خان عوام کے پیسے اور قومی خزانے کا کسٹوڈین ہے، ایک ایک پیسے کا حساب دیگا، دوسروں سے ایک ایک پیسے کا حساب لے گا، جس جس نے لوٹ مار کی اسے پینڈورا کی فکر کرنی چاہیے۔
ادھر وفاقی حکومت نے پینڈورا پیپرز لیکس میں نامزد کیے جانے والے تمام شہریوں سے متعلق تحقیقات کے لیے مختلف آپشنز پر غور شروع کردیا ہے، ان آپشنز میں سپریم کورٹ سے رجوع کرکے تحقیقاتی کمیشن کے قیام کی درخواست، ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں آزادانہ اعلیٰ اختیاراتی کمیشن کے قیام یا اعلیٰ اختیاراتی تحقیقاتی کمیٹی کے قیام پر غور جاری ہے۔
وفاقی حکومت کے اعلیٰ ترین ذرایع سے معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے پینڈورا پیپرز لیکس میں نامزد کیے جانے والے تمام شہریوں سے متعلق تحقیقات کے لیے متعلقہ فورم کے قیام کے حوالے سے اہم رفقا سے ابتدائی مشاورت شروع کردی ہے۔ اس معاملے میں شامل تمام افراد کے اثاثوں کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں گی۔ اس معاملے پر وفاقی کابینہ کی مشاورت سے فیصلہ کیا جائے گا۔ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے جو کمیشن یا کمیٹی قائم ہوگی اس کو وسیع تر اختیارات تفویض کیے جائیں گے۔ یہ ممکنہ کمیشن یا کمیٹی تحقیقات کے بعد جو رپورٹ مرتب کرے گی اس رپورٹ کی روشنی میں ان افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ملکی سیاست کو جن چیلنجز کا سامنا ہے قوم کو ان سے نجات دلائی جائے، جمہوری نظام پر آزمائشیں بڑھتی جارہی ہیں، عوام جمہوری ثمرات سے محروم ہیں اور ملک ایک سے بڑھ کے ایک نئے امتحان میں ڈالا جا رہا ہے۔ کرپشن کے خاتمے کے دعوے میں حکومت کو تین سال لگے لیکن ملکی سیاست بدانتظامی، لوٹ کھسوٹ، کشیدگی، بلیم گیم سے نجات نہیں دے سکی، اب سوال پینڈورا پیپرز سے نمٹنے کا ہے۔ یہ ایک نئی بلا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے بچاؤ کا راستہ شفاف اور منصفانہ تحقیقات ہی ہے۔ ایسی تحقیقات جو بے رحم اور احتساب کے آفاقی اصولوں پر قائم ہو جس سے ملک کی ناانصافی، بد انتظامی اور کرپشن سے جان چھوٹ جائے ۔