مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی

پاکستان کا مطالبہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو رسائی دی جائے


Editorial October 07, 2021
مادر وطن کے دفاع اور استحکام کے لیے پاک فوج شاندار کردار ادا کررہی ہے فوٹو : فائل

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ بھارتی فوج کا بے بنیاد پروپیگنڈا ان کی مایوسی کا عکاس ہے، بھارتی فوج کی ہرزہ سرائی داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث داخلی تضادات کا شکار ہے، قربانیوں سے حاصل امن وامان کو تباہ کرنے کی سازش ناکام بنا دیں گے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کی زیر صدارت جی ایچ کیو میں244ویں کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی۔کانفرنس میں پاکستان کے اندرونی بیرونی چیلنجز، علاقائی سیکیورٹی، بارڈرمینجمنٹ کا جائزہ لیا گیا، کانفرنس میں خطے کی تیزی سے بدلتی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی گئی،کانفرنس میں افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال اور انسانی بحران پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

مادر وطن کے دفاع اور استحکام کے لیے پاک فوج شاندار کردار ادا کررہی ہے ، اور اس کے سپہ سالار ہر محاذ پر ہمہ وقت متحرک اور فعال ہیں، کورکمانڈرز کانفرنس سے دوران خطاب آرمی چیف نے جن صائب خیالات کا اظہار کیا ہے وہ عالمی برادری کی توجہ خطے کی مجموعی صورتحال اور بالخصوص مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب مبذول کرانے کی بہترین اور اعلیٰ کاوش ہے۔

درحقیقت جمہوریت کے سب سے بڑ ے دعویداراور خطے کی بڑی فوجی طاقت بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے اورعالمی اداروں کی طرف سے بھارت کو اقلیتوں سمیت بہت سے طبقات کے لیے خطرناک ملک قرار دیاجاچکا ہے۔

بھارتی منفی پروپیگنڈے کے باعث ہی نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم اچانک واپس لوٹ گئی جب کہ انگلینڈ نے آنے سے انکار کردیا۔ ہماری حکومت کو سوشل، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے بھی ایسی مناسب حکمت عملی مرتب کرنی چاہیے، جس سے کشمیری مسلمانوں کی آزادی کی آواز کو پوری دنیا میں پھیلایا جا سکے اور بھارت کا اصلی مکروہ چہرہ بھی دنیا کے سامنے لایا جا سکے، پاکستانی فوج کے سپہ سالار نے اسی جانب قوم کی توجہ دلائی ہے ۔

اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ انسانی حقوق کی پامالی میں متشدد ہندو تنظیمیں اور بھارت سرکار تو براہ راست ملوث ہیں، تاہم اس میں بھارتی میڈیا بھی ملوث ہے جو حقائق سے انحراف کرکے گمراہ کن اطلاعات فراہم کر تا ہے۔ بھارتی میڈیا اقلیتوں پر ہونے والے مظالم اور ان کے بنیادی حقوق کی پامالی کو ہمیشہ فسادات کا نام دیتا ہے، حالانکہ فسادات کا مطلب فریقین کا ایک جیسی طاقت کا حامل ہونا اور ایک جیسے ہتھیاروں سے مسلح ہونا ہے، جب کہ مسلمان اوردیگر اقلیتیں تو بالکل نہتی اور بے بس ہیں۔آر ایس ایس اور دیگر ہندوتنظیمیں ان پر حملے کر تی ہیں، راہ چلتے لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے۔

ان سے انتہائی بنیادی حق یعنی زندہ رہنے کا حق ہی چھین لیا جاتا ہے اور میڈیا کی طرف سے اسے فسادات کانام دیاجاتا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں سمیت اقلیتوں پر زندگی اجیرن کردی گئی ہے۔اگست 2019میں مقبوضہ کشمیر کے عوام پر ظلم و جبر کے ایک انتہائی سیاہ دور کا آغاز اس وقت ہوا تھا، جب بھارتی راجیا سبھا (ایوان بالا) میں آئین کے آرٹیکل370کا خاتمہ کر کے کشمیر کو دی گئی خصوصی ریاستی حیثیت ختم کر دی گئی۔

خصوصی حیثیت کا خاتمہ درحقیقت کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق پر ڈاکا تھا۔ آرٹیکل35 اے کی موجودگی میں کوئی غیر ریاستی اور غیر کشمیری شہری، کشمیر میں نہ تو جائیداد خرید سکتا تھا، نہ ہی کاروبار کر سکتا تھا اور نہ ہی ملازمت کر سکتا تھا۔اب کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد کوئی بھی بھارتی شہری وہاں جائیداد خرید سکتا ہے، ملازمت کر سکتا ہے اور انڈسٹری بھی لگا سکتا ہے، گویا مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے بھارتی کوششیں تیزی سے جاری ہیں۔

آرٹیکل370 کو ختم کرنے کے بعد کشمیر میں کانسٹی ٹیوشن آرڈر2019 کا خصوصی آرٹیکل نافذ کردیا گیا جس کے تحت بھارتی حکومت مقبوضہ وادی کو وفاق کے زیر انتظام کرنے سمیت وہاں پر بھارتی قوانین کا مکمل نفاذ کرسکے گی۔ مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے وفاق کے زیر انتظام کرنے سے کشمیریوں کے بہت سے بنیادی حقوق غصب ہوئے ہیں۔

تاریخ کے طویل ترین لاک ڈاؤن کا شکار اس وقت کشمیری ہیں۔ بھارت عالمی مبصرین کو بھی وادی میں داخلے سے روکے ہوئے ہے۔ اس پر امریکا اور مغرب کی خاموشی بھی معنی خیز ہے۔ امریکی اور مغربی ممالک میں جہاں جانوروں کا بھی خیال کیا جاتا ہے اور ان کے بھی حقوق ہیں، وہی ممالک مقبوضہ کشمیر میں نہتے عوام پر مظالم کو دیکھ کر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ ''امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی ''کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر ہندو انتہاپسندوں کے مظالم میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔

انتہا پسندوں کی جانب سے کسی بھی شخص کو ''گاؤکُشی'' کے الزام میں قتل کیاجا سکتا ہے۔ اقلیتوں کو نشانہ بنایاجاتا ہے،غیر ہندوؤں کی آبادیوں پر حملے ہوتے ہیںاور اعلیٰ بھارتی حکا م خود انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث ہیں۔

ایک مستند جریدے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے '' انڈین ایڈمنسٹریٹوسروس (IAS)میں جتنے بھی امیدوار کامیاب ہوکر افسر بنتے ہیں ان میں ایک بڑی تعداد ہندو انتہاپسند تنظیم آر ایس ایس سے وابستہ ہوتی ہے اور یہ لوگ اقلیتوں کے حقوق پامال کرنے میں براہ راست ملوث ہیں۔'' یوورایشیا تنظیم نے مودی سرکار اور بی جے پی کے عسکری ونگ آر ایس ایس پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی پر عالمی برادری اور تنظیموں سے آواز بلند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کشمیریوں کی نسل کشی، اجتماعی قبریں، زیر حراست تشدد، کیمیکل ہتھیاروں کا استعمال، بچوں اور خواتین پر تشدد، جبری گمشدگیاں، پیلٹ گنز کا استعمال، اجتماعی سزائیں، کالے قوانین، فالس فلیگ آپریشنز اور جعلی پولیس مقابلے وہ انڈین جرائم ہیں جن کا ذکر دنیا بھر کی رپورٹس میں ملتا ہے۔

کشمیری مسلمان انڈیا اور پاکستان کے درمیان باہمی مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں مگر بھارتی بدنیتی کی وجہ سے ابھی تک انھیں ان مذاکرات کا باضابطہ حصہ نہیں بنایا گیا۔ ویسے بھی بھارت اپنے کمزور موقف کی وجہ سے ہمیشہ مذاکرات سے بھاگتا رہا ہے۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ اپنی ہٹ دھرمی کو ترک کر کے کشمیری عوام کو ان کی مرضی کے مطابق آزادانہ زندگی گزارنے دے جس کی اجازت انھیں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی قراردادیں بھی دیتی ہیں۔

کشمیر میں بھارتی جارحیت کے حوالے سے پاکستان کی پالیسی بڑی واضح ہے لیکن اسے مزید مستحکم کرنے کی اشد ضرورت ہے ہماری حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے ہر انٹرنیشنل فورم پر نہایت مضبوطی سے اپنا موقف پیش کریں اور انسانی حقوق کی اس کھلم کھلا خلاف ورزی اور بھارتی جارحیت کے خلاف ایسا عالمی دباؤ تخلیق کریں جس سے بھارت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے۔

ہمیں چاہیے کہ بہترین اور موثر پالیسی بنانے کے ساتھ ساتھ بھارت کی طرف سے کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے قیامت خیز تشدد کی طرف عالمی توجہ مبذول کروانے کے لیے بھی مناسب حکمت عملی وضع کریں اور اس کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام کو بھی یکجہتی کا ایسا پیغام دیتے رہنا چاہیے جس سے ان کے پائے استقامت کو مزید تقویت ملے اور حوصلہ افزائی کے اس تاثر سے ان کی تحریک آزادی میں جب ضرورت ہو نئی روح پھونکی جا سکے۔ بیرون ملک رہنے والے کشمیری مسلمانوں کی طرف سے بھی انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز بلند کرنا قابل ستائش ہے۔

کشمیری عوام کا واحد مطالبہ بھارتی جبر و استبداد سے آزادی ہے اور ان کا یہ حق ہے جو بزور طاقت نہیں چھینا جاسکتا۔دنیا میں امن کے ٹھیکیدار ممالک کو چاہیے تھا کہ وہ دنیا میں جہاں جہاں ظلم کی داستانیں رقم ہورہی ہیں اور جہاں جہاں انسانی حقوق غصب کیے جارہے ہیں، وہاں حقوق دلانے کے لیے کسی پلیٹ فارم پر نہ سہی، انفرادی طور پر ہی آواز اٹھاتے تاکہ یہ ثابت ہوتا کہ مہذب ممالک واقعتاً انسانی حقوق کی پامالی کو ایک جرم گردانتے ہیں اور اس کے خلاف ایکشن لینے کو تیار ہیں، تاہم بھارت نے ثابت کردیا کہ اس کا سیکولرازم سے دور کا واسطہ نہیں، بلکہ وہ کٹر ہندو متعصب ریاست میں تبدیل ہوچکی ہے۔ نریندرمودی بھارت کو ایک بندگلی میں لے جاچکے ہیں ۔

یورپی ممالک، انسانی حقوق کا علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بے گناہ کشمیریوں پر مظالم پر خاموش ہیں۔ انسانی حقوق کا تحفظ، بین الاقوامی اداروں کی ذمے داری ہے۔اقوام متحدہ سلامتی کونسل کو بھارت کی مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کا نوٹس لیتے ہوئے ان کی تحقیقات کرنی چاہیے۔

پاکستان کا مطالبہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو رسائی دی جائے، کیونکہ فاشسٹ پالیسیاں خطے کو شدید خطرات سے دو چار کر رہی ہیں ہمیں اس حوالے سے عالمی ضمیر کو جگانا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تنازعہ کشمیر پر اقوام عالم کی توجہ اس وقت تک مبذول کرواتے رہنا چاہیے جب تک کشمیریوں کو آزادی مل نہیں جاتی جو ان کا بنیادی حق ہے۔

مقبول خبریں