بلوچستان میں زلزلہ کی تباہ کاریاں
بلوچستان کی محرومیوں،غربت، بدانتظامی اور سیاسی چپقلش کی داستان تو سیاسی سسٹم کی درد انگیزیوں کا مستقل حصہ بن چکی ہیں
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے نے تباہی مچا دی، فوٹو: فائل
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے نے تباہی مچا دی، جس کے باعث 20 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوگئے، ہرنائی میں سیکڑوں مکانات منہدم ہوگئے، رات گئے آنے والے زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں۔
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب3بجکر2منٹ پر آیا جس کی شدت 5.9 اورگہرائی 15کلومیٹر، مرکز ہرنائی کے قریب تھا۔کوئٹہ ، سبی، چمن، زیارت، قلعہ عبداللہ، ژوب، لورالائی، پشین، مسلم باغ اور دکی سمیت دیگر علاقوں میں بھی زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، تاہم زلزلے کے باعث سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان ہرنائی میں ہوا جہاں سیکڑوں مکانات کی دیواریں اور چھتیں گر گئیں اور سرکاری عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔
بلوچستان کی محرومیوں، بیگانگی، غربت، بدانتظامی اور سیاسی چپقلش کی داستان تو سیاسی سسٹم کی درد انگیزیوں کا مستقل حصہ بن چکی ہیں، دکھ کا کوئی سیاسی حوالہ ہو وہ بلوچستان کا ذکرکیے بغیر مکمل نہیں ہوگا، قدرتی آفت ہو، سانحہ ہو یا سیاسی واقعہ ہو، بلوچستان کے غم وآلام کبھی کم ہوتے نظر نہیں آتے، نہ غربت کم ہوئی، نہ پائیدار سیاسی امن عوام کو نصیب ہوا، علیحدگی کی تحریکوں اور شورش کا ایک تسلسل ہے کہ ختم ہونے میں نہیں آتا، اس وقت بھی جب کہ قوم ہرنائی کے زلزلہ متاثرین کے دکھ میں شریک ہے۔
بدقسمتی سے صوبے کی سیاست میں بگولے اٹھ رہے ہیں، فضا دشت پیما ہے، سیاسی رہنما ایک دوسرے سے دست و گریباں ہیں، حکومت کے خاتمے کے لیے اپوزیشن کمربستہ ہے جب کہ وزیر اعلیٰ مورچے میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ اپوزیشن رہنما ظہور بلیدی حکومت سے سخت خفا ہیں، عدم اعتماد کی تحریک کا شور ہے، سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک زلزلہ وہ ہے جو صوبے کے مختلف علاقوں میں آیا ہے لیکن ان سیاسی، سماجی اور انسانی زیر زمین زلزلوں پر کوئی بات نہیں ہوتی، برسہا برس گزر گئے۔
بلوچستان کے حالات امن کو ترستے رہے، کوئی حکومت عوام کو مکمل آسودگی، نہیں دے سکی، لوگ لاپتہ ہوگئے، سیاسی کشمکش، کشیدگی اور محرومی کا بلوچستان کی تقدیر کے ساتھ کھلواڑ ہی رہا۔ جمہوری امن، معاشی اور سماجی تبدیلی کا آج بھی بلوچستان منتظر ہے، بلوچ عوام کے دکھ اور عوام کی مجبوریاں بدستور قائم ہیں، اداسی بلوچستان کے در و دیوار پر آج بھی بال کھولے سو رہی ہے۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ وہ دانشور، ادیب اور محققین کہاں چلے گئے جو بلوچستان کے سماج، رسم و رواج، زبان اور تہذیب پر تحقیق کے لے آتے تھے۔ کیا بلوچستان میں علمی سرگرمیاں بند ہوچکی ہیں، کوئی دوسرا عطا شاد، سید ہاشمی اور چاکر رند جنم کیوں نہیں لیتا؟ کیسا قحط الرجال ہے؟
زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں، پاک فوج، فرنٹیرکور، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، محکمہ روڈ، صحت، ضلع انتظامیہ اور دیگر ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ ہرنائی اورکوئٹہ کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ اس وقت علاقے میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہے۔
پاک فوج، ایف سی، لیویز اور پولیس کے اہلکار لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے سرگرم ہیں۔ ہرنائی سنجاوی روڈ پر پہاڑی تودے گرنے سے سڑک بند ہونے سے امدادی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ ادھر سیکیورٹی فورسز کے جوان بھی ہرنائی کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے، آئی ایس پی آر کے مطابق فورسز کے جوانوں نے امدادی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے، متاثرہ علاقوں میں ضروری خوراک اور امدادی سامان بھی پہنچادیا گیا، آرمی ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف ضروری ادویات لے کر متاثرہ علاقوں میں پہنچ چکے ہیں۔
شدید زخمی9افراد کو آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کیا گیا، آئی جی ایف سی بلوچستان نارتھ بھی ہرنائی پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ زلزلے کے نقصانات اور امدادی کاموں کا خود جائزہ لے رہے ہیں۔ راولپنڈی سے اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کو متاثرہ علاقے میں بھیجا جارہا ہے، یہ ٹیم ریسکیو کے کاموں کی رفتار کو تیز بنائے گی۔ اسلام آباد سے جنرل رپورٹر کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے بلوچستان کے زلزلہ متاثرین کے لیے امدادی سامان روانہ کردیا گیا ہے جس میں 150 خیمے،150ترپال،750مچھردانیاںاورکمبل سمیت1000راشن بیگ بھی شامل ہیں۔
گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا، وزیر اعلیٰ جام کمال خان، صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو و دیگر اراکین اسمبلی نے زلزلے سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ گورنر نے امدادی ٹیموں کو ہدایت کی کہ بحالی کی سرگرمیوں میں تیزی لائیں۔
جمعرات کو وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے ہرنائی سمیت زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا اس موقعے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ہرنائی میں ہنگامی بنیادوں پر امداد اور متاثرین کی بحالی کے لیے اقدامات کر رہی ہے پاک فوج، فرنٹیر کور، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، محکمہ روڈ، صحت، ضلع انتظامیہ اور دیگر ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ زلزلہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے دوسری جانب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بلوچستان زلزلے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
صدر مملکت نے اپنے بیان میں جاں بحق افراد کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انھوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ صوبائی اور قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز متاثرین کو فوری امداد فراہم کریں گی۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد، وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین، ن لیگ کے صدر و قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف، حمزہ شہباز شریف، مریم نواز شریف، چوہدری شجاعت حسین، پرویز الٰہی، مونس الٰہی، بلاول بھٹو زرداری و دیگر رہنماؤں نے بھی زلزلے کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں پوری قوم اپنے بلوچی بہنوں اور بھائیوں کے ساتھ ہے۔ انھوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔
گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا نے کہا کہ ہرنائی میں حکومت اور عوام کی مشترکہ امدادی کارروائیوں سے ہماری قوم نے ثابت کیا کہ آزمائش کی ہر گھڑی میں ہم ایک ہیں۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف مقامات پر بالخصوص ہرنائی میں تمام ضروری امدادی سامان اور مشینری کی دستیابی کو یقینی بنائیں۔
قبل ازیں گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا نے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء لانگو، این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز چیئرمین پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی ابرار الحق، پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل نصیر احمد ناصر اور ہلال احمر بلوچستان کے سربراہ عبدالباری بڑیچ سے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفونک رابطے کیے۔
انھوں نے حکومت پر زور دیا کہ ہرنائی میں زلزلہ کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف مقامات پر تمام ضروری امدادی سامان اور مشینری کی فوری دستیابی کو یقینی بنائیں، دریں اثناء گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے حالیہ زلزلہ کے حوالے سے ٹیلیفونک رابطے کرنے پر خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ زلزلہ سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات سے نہ صرف دونوں بخوبی آگاہ ہیں بلکہ زلزلہ متاثرین کی فوری امداد کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات بھی جاری کیں۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی خصوصی ہدایت پر سینیٹر و چیئرپرسن احساس پروگرام ڈاکٹر ثانیہ نشتر جمعے کو زلزلے سے متاثرہ ضلع ہرنائی کا دورہ کریں گی۔ جہاں پر وہ امدادی سرگرمیوں کا جائزہ بھی لیں گی۔
گورنر بلوچستان نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی توجہ ہونے والے نقصانات اور ان کی دوبارہ بحالی کی جانب مبذول کرائی جس پر وزیراعظم پاکستان نے متعلقہ اداروں سے کہا کہ تمام جانی اور مالی نقصانات کا سروے کرایا جائے تاکہ ہم بروقت زلزلہ متاثرین کا ازالہ کریں۔ گورنر بلوچستان سید ظہور احمد آغا نے زلزلے میں قیمتی جانوں کے ضیاع اور مالی نقصان پر اظہار یکجہتی پر شکریہ ادا کیا۔
وزیر اعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ میں نے ہرنائی کے زلزلہ متاثرین کی فوری امداد کی ہدایت کر دی ہے جب کہ زلزلے میں ہونے والے نقصانات کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ زلزلے میں جانی نقصان پر لواحقین سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔ زلزلے سے نقصانات اور موجودہ صورتحال کی ابتدائی رپورٹ وزیر اعظم آفس کو موصول ہو گئی۔ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے بھی بلوچستان زلزلے پر افسوس کا اظہارکیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق ہونے والوں کو جوار رحمت میں جگہ دے اور زخمی ہونے والوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہوں۔
ارباب اختیار بلوچستان میں غربت ختم کرنے کی بات کریں، سیاسی تبدیلی کے تماشے بند ہونے چاہئیں، عوام کو اکیسویں صدی کی جدید علمی روشنی چاہیے، وہ ایک بنیادی خرد افروز سماجی تبدیلی کے منتظر ہیں، وہ جب تک نہیں آئے گی بلوچستان کی سیاست اندھیروں میں گم رہے گی۔