’سرحد کی شب فتنہ ابھی باقی ہے‘

بھارتی کلچر کی یہ تبلیغ دیکھ کر صاف پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کی حکومت یہ سب کچھ خوشی سے کرا رہی ہے


Abdul Qadir Hassan September 11, 2012
[email protected]

بھارت کے وزیر خارجہ بڑے طمطراق کے ساتھ پاکستان کے دورے پر تشریف لائے اور تین دن اپنے اس انتہائی ناپسندیدہ بلکہ ناقابل برداشت ملک میں چاروناچار گزارنے کے بعد واپس دلی چلے گئے۔

میں نے اوپر جو الفاظ استعمال کیے ہیں ان کی نرمی پر معذرت خواہ ہوں ورنہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک بھارت نے اس ملک کو اپنی کسی سختی اور جارحیت سے معاف نہیں کیا۔ اس ملک کو توڑنے کے علاوہ اب باقی ماندہ کا پانی بھی بند کر رہا ہے، ہمارے سیاستدان اور حکومتیں جس طرح خاموش ہیں اس پر شروع میں تو محب وطن پاکستانیوں کو حیرت ہوتی تھی لیکن اب وہ حالات کو قبول کر کے بیٹھ گئے ہیں۔ ہمارے ہاں ٹی وی کے ہر پروگرام کے ساتھ بھارتی فلموں کے ٹریلر دکھائے جاتے ہیں۔

جب یہ سلسلہ شروع ہوا تھا تو اسے کسی ایک آدھ ٹی وی چینل کی ذاتی پسند اور پالیسی سمجھا گیا لیکن اب تو بعض اوقات یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ پاکستانی ٹی وی ہے یا بھارتی، اس وقت بھی اتوار کی شام کو پندرہ منٹ سے بھارت کے مہیش بھٹ صاحب ہمارے جاوید شیخ کے ساتھ گفتگو میں مصروف ہیں۔ بھارتی کلچر کی یہ تبلیغ دیکھ کر صاف پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کی حکومت یہ سب کچھ خوشی سے کرا رہی ہے۔ میں نے پہلے بھی ایک بار سونیا گاندھی کی یہ بات نقل کی تھی ''بھارت کو پاکستان کے خلاف کسی فوجی کارروائی کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے فلمی کلچر کی کارروائی ہی اس کے لیے کافی ہے''۔

معلوم ہوتا ہے ہمارے حکمران سونیا گاندھی کی یہ بات صدق دل سے تسلیم کر چکے ہیں چنانچہ انھوں نے ٹی وی چینلوں پر بھارت کی فلمی دنیا کو کھلا چھوڑ دیا ہے۔ سینمائوں میں تو بھارتی فلمیں چل ہی رہی ہیں، وہ وقت ہم سب دیکھیں گے جب ہمارے ٹی وی پر بھی بھارتی فلمیں چلیں گی۔ میں سوچتا ہوں کہ خواہ مخواہ کڑھتے رہنے اور خون جلانے کا کیا فائدہ ،یہ چند کمزور سی سطریں بھارت یا بھارت پسند پاکستانیوں کا کیا بگاڑ لیں گی، اس لیے بہتر یہی کہ جب زمین فتنہ و فساد سے بھر جائے تو جس حد تک ممکن ہو کنارہ کشی اختیار کر لی جائے۔ اپنے آپ کو اس سب سے لاتعلق کر لیا جائے۔ مجھے سرمد شہید کا یہ لافانی شعر یاد آ رہا ہے۔ کسی بڑی ہی کربناک کیفیت میں اس مجذوب صوفی کی زبان سے نکلنے والے آخری الفاظ یہی تھے۔

شورے شد واز خواب عدم چشم کشودیم
دیدیم کہ باقی ست شب فتنہ غنودیم

کچھ شور ہوا تو اس میں خواب عدم سے آنکھ ذرا سی کھلی لیکن جب کھلی تو دیکھا کہ شب فتنہ تو ابھی باقی ہے لہٰذا پھر سو گئے۔

آج کے زمانے میں تو دن ہو یا رات فتنہ ہی فتنہ ہے اور میرے جیسے کمزور لوگ فتنہ و فساد کے اس دور میں نہ کچھ کر سکتے ہیں اور نہ کچھ اپنا بچا سکتے ہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ چھپتے پھرتے ہیں کہ شب فتنہ ابھی باقی ہے اور گہری ہوتی جا رہی ہے۔ اب بتائیے میں کیا کروں ،کوئی تین چار برس کی بچی ٹی وی پر اور پھر اخبار میں ہماری خاتون وزیر خارجہ اور بھارتی وزیر خارجہ کی تصویر دیکھ کر ماں سے پوچھنے لگی کہ یہ کون ہیں ۔کیا ہندو ہیں کیونکہ یہ جو پاکستانی ہے اس نے بہت آگے بڑھ کر اور ہاتھ بڑھا کر اس مرد کے ساتھ ملایا ہے۔

میں سچ عرض کرتا ہوں یہ بچی اسکول کی کسی ابتدائی کلاس میں ہے اور کسی نے اسے کوئی بات نہیں بتائی سوائے اس کے کہ یہ ایک اسلامی ذہن کے اسکول کی طالبہ ہے۔ میں نے بڑی مشکل کے ساتھ یہ اسکول تلاش کیا ہے اور بچی کی اس بات نے میری محنت اور اخراجات کو اداکر دیا ہے۔ ایک طرف ہمارے کچھ اسکولوں میں ایسے بچے ہیں دوسری طرف اسی شہر کے ایک اسکول میں حلیمہ کی بڑی بہن کو مجبور کیا گیا کہ وہ دوپٹہ نہ لیا کرے اس پر اس بے حد مہنگے اسکول سے میں نے بچی تو اٹھا لی لیکن یہ سوال اپنی جگہ پر کہ ہماری نئی نسل میں تعلیمی تفریق آیندہ کیا رنگ دکھائے گی۔ حیرت ہے کہ پہلی جماعت سے انگریزی پڑھائی جا رہی ہے۔ ہمارے وزیراعلیٰ اس قدر احساس کمتری کے شکار تو نہیں ہیں ان کا ایسا احمق مشیر کون ہے۔

بات بھارتی کلچر کی برتری اور حکمرانی کی ہو رہی تھی اور اس وقت جس فراخدلی کے ساتھ ویزے جاری کرنے کا اعلان ہوا ہے، اس سے تو بہتر ہے کہ بھارت اپنی دلی خواہش کے مطابق ویزے کا تکلف ہی ختم کر دے۔ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم ایک تھے، ایک ہیں۔ پتہ نہیں کن دشمنوں نے ہمیں جدا کر دیا ہے۔ ان دشمنوں کو ناکام بنانے کا یہ شاندار موقع ملا ہے، جب پاکستان کے اکثر سیاسی لوگ اور حکمران بھی کسی دوستی کی ضرورت کے اس قدر قائل ہو گئے ہیں، دن رات بھائی چارے کے گیت گا رہے ہیں۔

ہماری ایک پاکستانی لیڈر نے کہا تھا کہ صرف واہگہ ہی نہیں کئی راستے ہونے چاہئیں تاکہ دونوں ملکوں کے تاجر اور تماش بین آزادانہ آتے جاتے رہیں۔ بھارتی پیاز تو ہم مدت سے کھا رہے ہیں ،اب بھارت والے ہمارے ملک سے گزر کر افغانستان کا سفر کرنا چاہتے ہیں تاکہ عظیم بھارت کا عمل جلد از جلد شروع ہو سکے۔ امریکا بھارت کی پشت پر ہے اور بڑے جوش و خروش کے ساتھ ادھر پاکستان میں امریکا پسندوں کی بہت بڑی تعداد سرگرم ہے۔ فی الحال اس طرف اشارے ہی کافی ہیں، بات آگے بڑھے گی تو شب فتنہ میں گم ہمارے لیڈروں کی آنکھ بھی کھلے گی لیکن ہر کوئی صوفی مجذوب سرمد کہاں کہ شب فتنہ کا احساس کر سکے اور پھر اپنی آنکھ بند کر لے۔

دیدیم کہ باقی ست شب فتنہ غنودیم

مقبول خبریں