بے رحم معاشی حقیقتیں اور مصر
سرمایہ دارانہ نظام کے معاشی بحرانوں نے مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں کو بھی ہراساں کردیا ہے
ISLAMABAD:
موجودہ دنیا اقتصادی مفادات، اقتصادی مشکلات کی دنیا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام کے معاشی بحرانوں نے مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں کو بھی ہراساں کردیا ہے۔ ان کی اوّلین ترجیح دنیا کی پھیلتی بڑھتی منڈیوں میں اپنا اثرورسوخ بڑھانا جس کا دوسرا مطلب اپنی برآمدات بڑھانا ہے۔ جب کسی ملک کی ترجیح معاشی مفادات کا حصول اور معاشی مشکلات پر قابو پانا بن جاتی ہے تو پھر نظریاتی اساس نظریاتی چپقلش ثانوی حیثیت اختیار کرلیتی ہیں۔
بدقسمتی سے ان بے رحم بلکہ سفّاک زمینی، معاشی، مادّی حقائق کو نظرانداز کرکے نظریاتی بالادستی کا پروپیگنڈا اس طرح کیا جارہا ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب دنیا کسی ایسے نظام کی طرف جارہی ہے جس کی بنیادیں مادّی نہیں بلکہ روحانی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں آنے والی تبدیلیوں کا پروپیگنڈا بھی اسی حوالے سے کیا جارہا ہے کہ اس خطے میں ایک ایسا نظریاتی انقلاب آگیا ہے جو بڑھتے بڑھتے ساری دنیا کو مغلوب کرلے گا۔ اس بے بنیاد پروپیگنڈے کو پاکستان میں پاکستان کے قلمی مجاہدین اس منظم انداز میں پھیلا رہے ہیں، جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بہت جلد پاکستان بھی مشرق وسطیٰ کی نئی حکومت یعنی اسلامسٹ ریاست بن جائے گا اور پھر یہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہنی شروع ہوجائیں گی۔
ان تصوراتی انقلابات کی مثال تیونس، لیبیا، ترکی اور مصر کے حوالے سے دی جاتی ہے، اب مشرق وسطیٰ کی ان اسلامسٹ ریاستوں کے وجود میں آنے کے بعد ملائیشیا اور انڈونیشیا وغیرہ کی معاشی ترقی کا ذکر پس منظر میں یوں چلا گیا ہے کہ ملائیشیا اور انڈونیشیا نے کبھی اپنی حکومتوں کی شناخت اسلامسٹ کی حیثیت سے نہیں کرائی تھی۔ مصر میں اخوان حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد مسلم دنیا خاص طور پر پاکستان میں مصر کو ایک اسلامسٹ رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جارہا ہے لیکن افسوس کہ ہمارے نظریاتی فلسفی، مفکرین اور قلمی مجاہدین یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آج کی دنیا کی پہلی ترجیح اقتصادیات ہے۔
اقتصادی مشکلات میں گِھرے ہوئے ملک نظریاتی پروپیگنڈے کو بالائے طاق رکھ کر اپنی اقتصادی ابتری سے نکلنے کے لیے اپنی ساری توانائیاں صرف کررہے ہیں اور اقتصادی بحرانوں سے دوچار ترقی یافتہ ملک بھی اپنے بحرانوں پر قابو پانے کے لیے اسلامسٹ ملکوں سے معاشی تعلقات استوار کرنے کے لیے ہاتھ پیر مار رہے ہیں۔
مصر کے حالیہ انتخابات میں اخوان کامیاب ہوئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں اخوان کی شناخت ایک انتہا پسند مذہبی جماعت کی حیثیت سے کرائی جاتی رہی ہے لیکن جب سے اخوان کے رہنما محمد مرسی نے عہدۂ صدارت سنبھالا ہے، وہ اپنے ملک کو اقتصادی مشکلات سے نکالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس حوالے سے وہ اس قدر آگے جارہے ہیں کہ دنیا میں مسلم ملکوں کے ''دو سب سے بڑے دشمن امریکا اور اسرائیل'' سے مدد حاصل کررہے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر اوباما نے مصر کو اقتصادی مشکلات سے نکالنے کے لیے ایک ارب ڈالر کی اقتصادی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔
اس امداد کے علاوہ مصر کی اخوانی حکومت آئی ایم ایف سے چار ارب 80 کروڑ ڈالر قرض حاصل کرنے کے لیے جو کوششیں کررہی ہے، اوباما انتظامیہ بھاری قرض کے حصول میں بھی مرسی حکومت کی بھرپور مدد کررہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ اوباما حکومت 50 امریکی کمپنیوں پر مشتمل ایک بہت بڑا تجارتی وفد مصر بھیج رہی ہے جو مصر میں 60 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہے۔ مصری صدر نے مشرق وسطیٰ کے بعد اپنا پہلا دورۂ چین کا اعلان کیا ہے۔ چینی حکومت نے مرسی حکومت کو 200 ملین ڈالر قرض کی پیشکش کے علاوہ مصر کے مختلف شعبوں زراعت اور کمیونیکیشن میں بڑی سرمایہ کاری کی پیشکش بھی کی ہے۔
محمد مرسی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اعلان کیا ہے کہ ان کی سب سے پہلی ترجیح ملک کو اقتصادی مشکلات سے نکالنا ہوگی۔ مصر میں اخوانی صدر کے منتخب ہونے کے بعد مصر میں اسلامسٹ حکومت کی نظریاتی کامیابی اور پاکستان میں مصری طرز حکومت کی پیش گوئیاں کرنے والے ہمارے محترم قلمی دوستوں کو مندرجہ بالا بے رحم معاشی حقائق کے تناظر میں اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ آج کی دنیا کی اوّلین ترجیح معاشی مفادات ہے۔ ہماری انفرادی زندگی سے لے کر قوموں کی زندگی تک موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں ہر رشتہ ہر دوستی ہر دشمنی معاشی مفادات سے شروع ہوتی ہے اور معاشی مفادات پر ختم ہوتی ہے۔ آج کی دنیا ایک انتہائی پیچیدہ اقتصادی نظام پر استوار ہے۔ یہ ماضی بعید کی قبائلی دنیا نہیں رہی، جہاں کی معیشت میں مالِ غنیمت بنیادی کردار ادا کرتا تھا۔
دنیا کے تمام ملکوں میں رہنے والے انسان اپنے مذاہب سے محبت کرتے ہیں اور ان کا احترام بھی کرتے ہیں لیکن انھوں نے اپنے مذہب کو اپنا اوڑھنا بچھونا نہیں بنایا۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے (پاکستان کی خاص طور پر) کہ ہم دنیا کی بے رحم معاشی حقیقتوں کو بھلا کر بے معنی انداز میں نہ صرف مذہب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا ہے بلکہ اس حوالے سے ساری دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔ زمینی تلخ حقائق کو نظرانداز کرکے ہم جن بھول بھلیوں میں الجھ گئے ہیں، اس کا منطقی نتیجہ ہماری سماجی، سیاسی اور اقتصادی پس ماندگی کی شکل میں نکل رہا ہے۔
یہ بات البتہ حوصلہ افزا ہے کہ مصر کی اخوان حکومت جذباتی نعرے بازی سے ہٹ کر اقتصادی حقائق کی طرف آرہی ہے اور انھیں اپنی پہلی ترجیح بھی قرار دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ مرسی حکومت ان مذہبی انتہا پسندوں کی قتل و غارت سے بچنے کے لیے جنھوں نے مصر کے سرحدی علاقے سینا میں سرکاری فوجوں کو قتل کرنا شروع کیا ہے، امریکا اور اسرائیل جیسے دشمن ملکوں سے مدد لینی شروع کردی ہے۔ مذہبی انتہا پسندی جس نے ساری دنیا کو خوف زدہ کردیا ہے، خود مسلم ملکوں میں ناپسندیدگی بنتی جارہی ہے۔ لیبیا کی مسلم حکومت کے ایک وزیر نے لیبیا میں مسجدوں، مقبروں اور قدیم آثار کو بموں سے اڑانے کے خلاف احتجاجاً استعفی دے دیا ہے۔ اس کا مطلب مشرق وسطیٰ کی نئی حکومتیں اعتدال کی راہ پر آرہی ہیں جو ایک اچھی علامت ہے۔