جمود شکن معاشی پیش قدمی

حکومت کو اس کا ادراک بھی ہے پھر کیوں حکومت بساط الٹنے والی اقتصادی تبدیلی کے ہدف تک نہیں پہنچ پائی۔


Editorial October 12, 2021
حکومت کو اس کا ادراک بھی ہے پھر کیوں حکومت بساط الٹنے والی اقتصادی تبدیلی کے ہدف تک نہیں پہنچ پائی۔ فوٹو : فائل

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ 1980 کی دہائی کے دوران افغان جنگ میں حصہ لینے اور نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں ملکی معیشت کو غیر مستحکم کیا گیا جو اب تک ان فیصلوں کے اثرات کا سامنا کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے قومی ترقی کے لیے مختصر ، درمیانی اور طویل المدتی منصوبے مرتب کیے ہیں۔ وفاقی وزیر پنجاب یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے سابق طلبہ ایسوسی ایشن کے سالانہ عشایے سے خطاب کر رہے تھے۔

افغان جنگ نے 80کی دہائی میں پاکستانی معیشت کی بنیادی ہلا دیں، ملکی اقتصادی صورتحال نے عمودی اور افقی ہر دو سطحوں پر جن مسائل کا سامنا کیا ، وزیر خزانہ نے ہو بہو وہی صورتحال مذکورہ تقریب میں بیان کی ہے، لیکن ملک کو جو اقتصادی اور معاشی نظام ملا ، اس میں بنیادی تبدیلیوں کے لیے کوئی نمایاں پیش رفت نظر نہیں آتی، اقتصادی حالات جس شدت کے ساتھ 80کی دہائی میں تھے وہ کسی طور حیران کن بریک تھرو نہ لاسکے۔

نہ تو ملک کے عوام کو ایسی معیشت نصیب ہوئی جو عوام دوست ہوتی، جاگیردارانہ و استحصالی مضمرات جونک کی طرح جمہوری نظام سے چمٹے رہے، چنانچہ حکومت کی ترجیحات سے عوام لاتعلق رہے ، غربت اور بیروزگاری کے خاتمہ کے لیے کوئی روڈ میپ سامنے نہیں لایا گیا ، ٹریکل ڈاؤن کی کوششیں بھی برائے نام رہیں ، یوں محسوس کیا گیا کہ معیشت نوآبادیاتی خطوط پر رواں دواں ہے جسے کسی بڑے معاشی فارمولے سے مربوط کرنے کی ضرورت حکومتی ترجیح ہی نہیں ہے۔

دوسری طرف پاکستان میں عوامی انداز نظر ہمیشہ اقتصادی تبدیلیوں کے حوالے سے سالانہ بجٹ کا منتظر رہا اور جسے ہر سال ایک لالی پاپ اور الفاظ کے افسوسناک گورکھ دھندے کے طور پر استعمال کیا گیا ، ان ہی غیر ملکی جعل سازیوں میں افغان جنگ ہوتی رہی، ملک کو دہشت گردی، انتہا پسندی اور معاشی مصائب بھنبھوڑتے رہے۔

عام آدمی کو نہ تو ملکی اقتصادی صورتحال سے کسی خیر کی توقع رہی اور نہ ہی پاکستانی معیشت اور اقتصادی صورتحال کا پانسہ پلٹا ، درجنوں اقدامات کیے گئے وہ سب ملک کو ایشین ٹائیگر بنانے کے دعوؤں تک محدود رہے، عوام کی حالت بد سے بد تر ہوتی چلی گئی، غربت اور بیروزگاری کا حوالہ مذاق بن گیا ، جس کے اطراف مالیاتی حکام محض حکمرانی کا جادو جگانے کی ترکیبیں کرتے رہے۔

ڈاکٹر محبوب الحق سے عوام نے توقعات وابستہ کیں، ان کی شہرت بے داغ تھی، لیکن ان کے اقتصادی فلسفہ نے بھی ملکی معیشت کو پٹڑی پر ڈالنے میں کوئی پیش رفت نہیں کی ، پھر کئی نام دھڑا دھڑ آزمائے گئے، لیکن ملکی اقتصادی حکمت عملی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکی، ماہرین نے عملی طور پر ایک نئے معاشی فلسفہ کی طرف ذہن دوڑانے کا رسک نہیں لیا ، جو فرسودہ فارمولے اور پالیسیاں ملک میں چلتی رہیں اسی لکیرکے فقیر رہے جسے وزرائے خزانہ اور مشیروں نے فالو کیا۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے معاشی حوالے سے ماضی پر مبنی دو عشروں کا تجزیہ کیا ہے لیکن خود ان کے ساتھ بھی وقت نے وہی ستم آرائی کی ہے، وہ کئی مالیاتی اداروں اور وزارتوں کی سربراہی کرچکے، لیکن کوئی اس بات پر یقین نہیں کرتا کہ موجودہ وزیر خزانہ نے ملک کو کسی بہتر مالیاتی راستے پر چلنے کے قابل بنایا ہے، جب کہ سنگا پور کے سربراہ لی کوان نے جو مالیاتی فارمولے آزمائے ان کی دنیا نے تعریف کی۔

وزیر اعظم عمران خان نے وزیر خزانہ کو فری ہینڈ دیا ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ ان ہی خطوط اور پالیسیوں کو واضح کریں کہ ملک کو استحکام، ترقی و خوشحالی کی نشاۃ ثانیہ کی طرف لے جائیں۔ نوآبادیاتی نظام کی فرسودگی سے پاکستانی معیشت کو نجات ملے، کاسہ گدائی ہاتھ سے چھوٹے، مہنگائی کا گھناؤنا چکر ختم ہو، مافیاؤں کوکیفر کردار تک پہنچایا جائے، کرپشن، بد انتظامی اور لوٹ کھسوٹ کی روک تھام ہو، ایک شفاف اور فالٹ فری ٹیکس سسٹم کی بنیاد ڈالی جائے، عوام کو ٹیکس کلچر کا عادی بنایا جائے اور بار بار وزیر اعظم اس بات کا ذکر نہ کریں کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔

اس جنرلائزڈ انداز فکر کو ترک کیا جائے جس نے ٹیکس دینے والوں کی ٹیکس شراکت داری کو کسی قابل نہیں سمجھا ہے، ان ٹیکس دہندگان کی تو تعریف کی جانی چاہیے، بلکہ ماہرین کی تجاویزکی روشنی میں ٹیکس سسٹم میں مضمر خرابیوں کو دورکرنے کی ٹھوس کوششیں کی جائے۔

شوکت ترین نے کہا کہ ملک کو مجموعی اور پائیدار ترقی کی اشد ضرورت ہے ، جس میں زراعت سمیت پیداواری شعبوں کو فروغ دینے پر توجہ دینا ہوگا کیونکہ صرف پائیدار ترقی ہی ملک کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک کے پروگراموں سے بچنے میں مدد دے سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ 1960 کی دہائی میں پاکستان کی معیشت جنوبی کوریا کی نسبت بہت بہتر تھی ، تاہم اس وقت پاکستان میں فی کس آمدنی 1500 ڈالر ہے جب کہ جنوبی کوریا میں یہ 25 ہزار ڈالر ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان کو اپنی برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا اور کاروبار کو خوشحال اور سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہوگا۔

اس موقعے پر پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر نیاز احمد نے کہا کہ ان کی یونیورسٹی کی بین الاقوامی درجہ بندی صرف تین سالوں میں 16 فیصد بہتر ہوئی ہے اور 13 مضامین کو کیو ایس میں رینکنگ حاصل ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایلمنائی ایسوسی ایشن کو سابق طلبہ، شعبوں اور نئے طلبہ کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے کے لیے فعال کیا گیا ہے تاکہ صنعتوں اور اکیڈمیا کے روابط کو فروغ دیا جا سکے۔

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ان کی اور ان کے خاندان کی آف شور کمپنیاں جن کا نام پینڈورا پیپرز میں ہے دراصل اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی منظوری سے کھولی گئی تھیں جب وہ اپنے بینک کے لیے کسی غیر ملکی گروپ کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ شوکت ترین کی وضاحت انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) پینڈورا پیپرز میں شامل ہونے کے فوراً بعد سامنے آئی ہے۔

تحقیقات کے نتائج کے مطابق شوکت ترین اور ان کے خاندان کے افراد 4آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں۔ آئی سی آئی جے کی رپورٹ میں سابق مالیاتی مشیر طارق فواد ملک کا حوالے دے کر کہا گیا کہ یہ کمپنیاں شوکت ترین خاندان کے سعودی کاروبار والے بینک میں مطلوبہ سرمایہ کاری کے حصول کے لیے قائم کی گئیں۔

ایک نجی چینل کے ایک شو میں بات کرتے ہوئے شوکت ترین نے وضاحت کی کہ پینڈورا پیپرز میں ان کی آف شور کمپنیاں 2013 یا 2014 میں قائم کی گئیں جب وہ سلک بینک کے لیے سرمایہ جمع کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ وزارت خزانہ کی ویب سائٹ کے مطابق شوکت ترین مارچ 2008 سے مرکزی اسپانسر تھے۔

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ان کی آف شور کمپنیاں اس لیے بنائی گئیں کیونکہ طارق بن لادن کی کمپنی مڈل ایسٹ ڈیولپمنٹ سلک بینک میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی تھی، وفاقی وزیر کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) بھی شامل تھا اور غیر ملکی کمپنی کی سرمایہ کاری کی خواہش کے بارے میں آگاہ تھا۔ انھوں نے کہا کہ مرکزی بینک نے اصولی منظوری دی اور 4آف شور کمپنیاں '' فنڈ ریزنگ کے لیے'' بنائی گئیں لیکن کوئی اکاؤنٹ نہیں کھولا گیا اور نہ ہی کوئی لین دین ہوسکا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایک کمپنی نے کراچی میں بم دھماکے کے بعد دلچسپی نہیں لی تھی۔ شوکت ترین نے کہا کہ تو یہ سب ختم ہو گیا، یہ کمپنیاں ایک سال کے اندر بند ہو گئیں اور کوئی بینک کھاتہ نہیں کھولا گیا، ایک بھی سینیٹ کا کام نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں سمجھ سکے کہ کمپنیوں کو کیوں اجاگرکیا جا رہا ہے۔

شوکت ترین نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اسی بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ''کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں کھولا گیا، کوئی لین دین نہیں ہوا اور کمپنیاں بند رہیں'' جب ان سے پوچھا گیا کہ کمپنیاں ان کے اور ان کے خاندان کے اراکین کے نام پرکیوں کھولی گئیں تو انھوں نے کہا کہ وہ بینک کے پرنسپل مالک ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ ملکی اقتصادیات کو ایک پیرڈائم شفٹ کی ضرورت ہے، عوام آج تک اس بات کو نہیں سمجھ سکے کہ جب ملک ترقی یافتہ بینکنگ سسٹم میں ترقی کی منزلیں طے کررہا ہے، برآمدات میں اضافہ ہورہا ہے، غربت اور بیروزگاری و مہنگائی کے باوجود لوگوں کی آمدنی بڑھ رہی ہے اور مہنگائی بس عارضی ہے، اور حکومت کو اس کا ادراک بھی ہے پھر کیوں حکومت بساط الٹنے والی اقتصادی تبدیلی کے ہدف تک نہیں پہنچ پائی۔

روزگار کے دروازے بند ہیں، غربت کے خاتمہ کو احساس پروگرام اور مسافر خانوں اور عوام کو مفت کھانا کھلانے تک محدود رکھا گیا اور بھنگ کی کاشت سے سرمایہ کاری کی جارہی ہے، آخر ملک میں صنعتی ترقی کے لیے کارخانے ، فولاد سازی کی ملز اور فیکٹریاں قائم کیوں نہیں ہوتیں، زراعت کو مکمل ترقی کے لیے ترجیح ملنی چاہیے، ملک کو ایک منصفانہ اور ہمہ جہت سماجی اور صنعتی ترقی درکار ہے، ارباب اختیارکو اس جانب فوری توجہ دینی چاہیے۔

مقبول خبریں