طالبان واحد آپشن

اسٹیک ہولڈرز کو افغانستان کے سقوط یا انسانی بحران کے حوالے سے حقائق پر سنجیدگی سے سوچ بچارکرنے کی ضرورت ہے۔


Editorial October 13, 2021
اسٹیک ہولڈرز کو افغانستان کے سقوط یا انسانی بحران کے حوالے سے حقائق پر سنجیدگی سے سوچ بچارکرنے کی ضرورت ہے۔ فوٹو: فائل

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں مضبوط طالبان حکومت دہشت گرد تنظیموں سے نمٹ سکتی ہے۔ داعش سے چھٹکارا پانے کے لیے طالبان واحد اور بہترین آپشن ہیں، دنیا کو افغانستان کے ساتھ ہر صورت بات چیت کرنی چاہیے ، ورنہ افغانستان داعش کا گڑھ بن جائے گا۔

افغانستان میں صورتحال کشیدہ ہوئی تو اثرات بہت دور تک جائیں گے، طالبان نے خواتین کے تعلیم سے انکار نہیں کیا بلکہ شرعی طریقے سے حصول کی بات کی، پاکستان چاہتا ہے دنیا کے دیگر ممالک افغان عوام کو تنہا نہ چھوڑیں، امریکیوں کو افغانستان کی اصل صورتحال سے گمراہ رکھا گیا، پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر سب سے بڑا حل طلب مسئلہ ہے، مقبوضہ کشمیر میں اکثریت کو اقلیت میں بدلا جارہا ہے، کشمیریوں کو ان کا جمہوری حق خود ارادیت دیا جائے،پاکستان اور بھارت نیوکلیئر فلیش پوائنٹ ہیں، دونوں کے درمیان 3جنگیں ہوچکی ہیں، بھارت میں نسل پرست حکومت ہے۔

مڈل ایسٹ آئی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ وسطی ایشیائی ممالک افغانستان کے راستے پاکستان اور بحر ہند تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ افغانستان داعش جیسے دہشت گردوں کے لیے ایک زرخیز زمین بن جائے گی جو ہم سب کے لیے پریشانی کا باعث بنے گی خاص طور پر پاکستان کے لیے، سب کچھ ضایع ہو جائے گا۔ کم از کم یہی تجزیہ بعض مبصرین کا ہے ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو کسی بھی دور میں افغانستان، پاکستان کا خیر خواہ نہیں رہا، بلکہ اس کے لیے ایک خطرہ ہی رہا۔

اس لیے اس نقطہ نظر کے حامل تجزیہ کار جب یہ سنتے ہیں کہ پاکستان افغانستان کے استحکام کے لیے سنجیدگی سے عالمی طاقتوں سے افغانستان کی مدد کرنے اسے انسانی بحران سے بچانے کی اپیل کررہا ہے اور دوسری طرف ارباب اختیار اور ہماری سلامتی کے ذمے داروں اور حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ قوم کو یہ بھی بتائیں کہ کیا پاکستان کو اب داعش کے خطرے کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ وزیراعظم کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان کو ہر صورت میں داعش سے نمٹنا ہوگا، اس کا مطلب یہ ہوا کہ افغانستان کی حکومت سازی اور اقتصادی معاملات کی طرف توجہ بھی ثانوی رہے گی۔

ارباب اختیار داعش کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے طالبان کو واحد آپشن قرار دے رہے ہیں، ماہرین نے صورتحال کو علاقائی تناظر میں دیکھنا شروع کیا ہے، مبصرین کا کہنا ہے کہ طالبان کو ابھی سیاسی، سماجی اور معاشی طاقت کے حصول کے مسائل کا سامنا ہے، طالبان سے داعش کے تصادم کے بعد اس خطے کی تزویراتی صورتحال میں جو تبدیلی آ سکتی ہے اسے ہر جہاں دیدہ شخص جان سکتا ہے، ظاہر ہے افغانستان عدم استحکام کا شکار ہوگا تو اس کے اثرات پاکستان اور دیگر پڑوسی ملکوں پر بھی پڑیں گے اور پاکستان نہیں چاہے گا کہ افغانستان کبھی بھی عدم استحکام کا شکار ہو۔

اس تناظر میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی سربراہان کی امریکی حکام سے بات چیت ہوئی ہے، ہمارے وزیر خارجہ کا بھی امریکی وزیر خارجہ سے رابطہ ہے، میری اپنی بات نہیں ہوئی تاہم امریکا سے رابطے میں ہیں، ہم یہ ساری باتیں امریکا کے ساتھ کر چکے ہیں، امریکا صدمے کی کیفیت میں ہے اسے یقین ہی نہیں آرہا، 3لاکھ افغان فوج نے بغیر لڑے ہتھیار ڈال دیے جس کی امریکا کو سمجھ نہیں آئی۔

تحریک طالبان افغانستان میں مقبول تحریک ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں اسی وجہ سے افغان فوج نے بغیر لڑے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ امریکا کا اتحادی بننے کی پاکستان نے بھاری قیمت ادا کی ہے، ہمارے 70ہزار سے زائد لوگ شہید ہوئے، اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا، ہمارا نائن الیون کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں تھا ہمیں صرف قربانی کا بکرا بنایا گیا تھا، امریکا کا ایسے افغانستان چھوڑنا بڑی ناکامی ہے۔ پاکستان اور چین کے مضبوط تعلقات ہیں ہم دیوالیہ ہونے والے تھے جب چین نے ہماری مدد کی، ہمیشہ مشکل میں کام آنے والے دوست کو یاد رکھا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کے حوالے سے من چاہی چیخ و پکار غیر اخلاقی ہے، کشمیر میں 9 لاکھ فوجیوںنے 8لاکھ کشمیریوں کو کھلی جیل میں قید کیا ہوا ہے، اب تک لاکھوں کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ سمیت کوئی بھی بھارت پر تنقید نہیں کرتا، وزیراعظم نے کہا کہ کوئی بھی مذہب دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا لیکن نائن الیون کے بعد دہشت گردی کو اسلام کے ساتھ جوڑا گیا۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے کسی بھی عرب ملک نے دباؤ نہیں ڈالا۔ فرانسیسی صدر میکرون کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ وہاں مسلم آبادی کے ساتھ کیسے چلنا ہے۔

ایسی صورتحال سے نکلنے کے لیے آپس میں اتفاق رائے سے کام لینا ہو گا، سب کو مل جل کر رہنا چاہیے۔ بھارت عالمی کرکٹ کو کنٹرول کرتا ہے کوئی بھارت کے خلاف نہیں جا سکتا، ہمیں یہ توقع نہیں تھی کہ انگلینڈ یکطرفہ طور پر بغیر مشورہ کیے فیصلہ کرے گا، ہمارے پاس دنیا کی بہترین انٹیلی جنس ایجنسیز ہیں، ہم نے ہر طرح سے نیوزی لینڈ ٹیم کو تحفظ دیا، نیوزی لینڈ والے بھی ڈر گئے تھے اور ملک چھوڑ کر چلے گئے، نیوزی لینڈ نے ہمیں مایوس کیا، انگلینڈ نے بھی بغیر مشورہ کیے قدم اٹھایا، بھارتی کرکٹ بورڈ دنیا کا امیر ترین بورڈ ہے اور وہی ساری کرکٹ کو کنٹرول کرتا ہے۔

وزیر اعظم کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کے جن لوگوں سے صلح ہو سکتی ہے ان سے بات چیت کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسرائیل نے سیکیورٹی کا اتنا مضبوط حصار قائم کیا ہوا ہے اور وہ ہر چیز کو تہس نہس کر دیتے ہیں، وہ دوسرے ملک میں اپنے لوگ بھیجتے ہیں اور قتل و غارت کرتے ہیں۔

انھیں مکمل طور پر استثنیٰ حاصل ہے کیونکہ یو این جنرل اسمبلی کچھ بھی کہے انھیں سلامتی کونسل میں امریکا کی ویٹو کی طاقت پر مکمل اعتماد ہے اس لیے وہ ہر صورتحال سے بچ نکلتے ہیں۔ چونکہ اس وقت بھارت کو چین کے خلاف مزاحمتی قوت سمجھا جاتا ہے، یہ بھی ایسے ہی ہے کہ بھارت بھی کسی بھی صورتحال سے بچ نکلے گا۔

عمران خان نے کہا ٹی ٹی پی سرحد کے پاکستانی جانب کے پشتون ہیں، طالبان پشتونوں کی تحریک ہے، افغانستان میں 45 سے 50 فیصد پشتون آباد ہیں، اب ہم نے سرحد پر باڑ لگا دی، جب امریکا افغانستان پر حملہ آور ہوا انھوں نے طالبان کو نکال باہر کیا تو اس طرف کے پشتونوں کو افغانستان کے پشتونوں سے مکمل ہمدردی ہو گئی، اس ہمدردی کی وجہ مذہبی نظریات نہیں تھے بلکہ پشتون عصبیت اور قومیت تھی جو بہت مضبوط ہے۔

دریں اثنا امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت واضح اور پیشہ ورانہ نوعیت کی رہی۔ مزید یہ کہ بات چیت میں امن و امان اور دہشت گردی کے معاملات پر توجہ مرکوز تھی۔ اس سے قبل اسلام آباد میں امریکی خاتون نائب وزیر خارجہ وینڈی شیرمن اور پاکستانی ذمے داران کے بیچ بات چیت کا دشوار مرحلہ گزرا۔ بات چیت میں افغانستان کا معاملہ توجہ کر مرکز رہا۔

پاکستانی ذمے داران نے امریکا پر زور دیا کہ وہ افغانستان کے نئے حکمرانوں کے ساتھ رابطہ رکھے اور بین الاقوامی رقوم سے اربوں ڈالر آزاد کرے تا کہ افغانستان کو اقتصادی طور پر ڈھیر ہونے سے بچایا جا سکے۔ اسی طرح پاکستان نے افغان طالبان کو بھیجے گئے ایک پیغام میں زور دیا ہے کہ انسانی حقوق اور نسلی و مذہبی اقلیتوں کے حقوق پر پوری توجہ دی جائے۔

افغانستان کی اقتصادی، معاشی اور انسانی معاونت ناگزیر سہی لیکن یہ بات پیش نظر رہے کہ افغانستان نے بیس سال تک دنیا کی سب سے طاقتور عفریتی قوت کو شکست سے دوچار کیا ، اسے دنیا کے سامنے بھیک مانگنے والی قوم بنا کر پیش کرنا درست نہیں، اس سے یہ مطلب نکالا جاسکتا ہے کہ امریکا کو ہرانے والی ناقابل تسخیر قوت اصل میں اپنا سویلین سیٹ اپ لانے سے معذور اور انسانی آبادی کو بحران سے بچا نہیں سکتی۔ اسٹیک ہولڈرز کو افغانستان کے سقوط یا انسانی بحران کے حوالے سے حقائق پر سنجیدگی سے سوچ بچارکرنے کی ضرورت ہے۔

مقبول خبریں