موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور حکومتی اقدامات

یہ بات خوش آینداورحوصلہ افزاہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے والے اہم بین الاقوامی فورمزپر پاکستان کی آوازسنی جارہی ہے۔


Editorial October 15, 2021
یہ بات خوش آینداورحوصلہ افزاہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے والے اہم بین الاقوامی فورمزپر پاکستان کی آوازسنی جارہی ہے۔ (فوٹو: فائل)

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دنیا موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کی مدد کرے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے پاکستان کے حقیقت پسندانہ اورٹھوس اقدامات کو دنیا سراہا رہی ہے ،یہ بات انھوں قومی موسمیاتی تبدیلی پالیسی 2021کی اصولی منظوری دیتے ہوئے کہی ۔

یہ بات خوش آیند اور حوصلہ افزا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے والے اہم بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی آواز سنی جا رہی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی وجہ سے جی ڈی پی کے بھاری نقصانات کا سامنا ہے۔پاکستان کاربن کے اخراج میں غیر معمولی شراکت کے باوجود موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کر رہا ہے اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے۔

حکومت پاکستان گرین سلوشنز پر سختی سے عمل پیرا ہے جس میں جنگلات اور مینگرووز کا سائز بڑھانا، جنگلات کے لیے محفوظ علاقے شامل کرنا اور سال 2030 تک گرین ریسورسز کے ذریعے 30 فیصد توانائی کا ہدف حاصل کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے چھٹا انتہائی غیرمحفوظ ملک ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے فوری اثرات ملک میں مختلف حوالے سے دیکھے جا سکتے ہیں، جیسا کہ پانی کی قلت، کم زرعی پیداوار، سیلاب، جنگلات کا رقبہ کم ہونا، مون سون نظام میں تغیر، گلیشئر زکا تیزی سے پگھلنا، غذائی قلت اور دوسرے مسائل شامل ہیں۔

بڑھتے درجہ حرارت کا ایک بڑا اثر برفانی جھیلوںکا بننا ہے جن کے پھٹنے سے انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچتا ہے اور انسانی زندگی متاثر ہوتی ہیں۔ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک کی طرف سے ''کلائمیٹ رسک کنٹری پروفائل ''کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے باعث سالانہ 3 ارب 80 کروڑ ڈالر کے معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس رپورٹ میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے متعلق بعض دیگر اہم انکشافات بھی کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے لیے درجہ حرارت میں اوسط اضافہ عالمی سطح پر ہونے والے اضافے سے زائد ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقعے پر اپنی تقاریر میں ماحولیاتی خطرے کو پُرزور انداز سے اجاگر کر چکے ہیں۔ ملک میں شجرکاری کا منصوبہ بھی اس حوالے سے قابل ذکر ہے۔ اس منصوبے نے ملک میں ماحولیاتی خطرے کو گفتگو کا موضوع بنایا ہے، اس طرح امید پیدا ہوئی ہے کہ عوام کے ذہنوں میں اس حوالے سے تبدیلی واقع ہوگی۔

دراصل یہی مثبت تبدیلی ہے جو ماحولیاتی تحفظ کے لیے کوئی بڑا کام کرسکتی ہے۔ بائیس کروڑ آبادی کا یہ ملک ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے شدید متاثر ہے۔ کبھی بارشوں کی زیادتی، کبھی طویل دورانیے کی خشک سالی اور اس کے اثرات ماحولیات کا سنجیدہ مطالعہ کرنے والوں سے اوجھل نہیں۔ گلیشئر پگھلنے کا عمل ہمارے ماحول کے لیے دوسرا بڑا خطرہ ہے، جس سے دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہورہی ہے ،سیلاب کے خطرات بڑھ چکے ہیں اور یہ صورتحال سمندروں میں سطح آب کی بلندی کی صورت میں پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے۔

لازمی تھا کہ ان وسیع پیمانے کے خطرات کو سیاست کی عینک سے دیکھنے کے بجائے حقیقت کی نظر سے دیکھا جاتا۔ اس باب میں صدر جو بائیڈن سے امید تھی کہ وہ اپنے پیشرو کی کوتاہائیوں کا ازالہ کریں گے اور موسمیاتی اور ماحولیاتی خطرات کے حوالے سے حقیقت پسندی کا ثبوت دیں گے ، مگر مایوسی ہوئی۔

پاکستان گلوبل وارمنگ یا عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بننے والی گرین ہاؤس گیسوں کے عالمی سطح پر اخراج کا صرف ایک فیصد کا حصے دار ہے، تاہم اس کے باوجود موسمیاتی تبدیلیوں و درجہ حرارت میں اضافے سے پاکستان کی دو سو ملین سے زائد آبادی کو سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں میں شدت آتی جا رہی ہے اور اچانک رونما ہونے والے موسمی اثرات کی وجہ سے فصلوں کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔متعدد زرعی ماہرین کے مطابق کلائمٹ چینج کے اثرات سے پاکستانی فصلیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں ،مکئی، کپاس اور چاول کی پیداوار خطر ناک حد تک کم ہوئی ہے، موسم گرما میں گرمی زیادہ پڑنے اور آندھیوں اور بے وقت کی بارشوں کی وجہ سے کپاس کی پیدوار میں کئی ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔پاکستان میں بھی موسمیاتی تبدیلیوں کے نئے نئے عنصر نمودار ہو رہے ہیں جیسے کہ مون سون بارشوں کے سلسلے میں تبدیلی۔گلیشیئرز پگھلنے کے باعث پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں سیلاب آسکتا ہے۔

پاکستان میں 2010میں آنے والے سیلاب کو اقوامِ متحدہ نے تاریخ کا تباہ کن ترین سیلاب قرار دیا جس نے 2 ہزار افراد کی جان لے لی اور 2 کروڑ افراد شدید متاثر ہوئے اور ملکی معیشت کو 10 ارب ڈالرز کا نقصان پہنچا، اگر ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں اور گرین ہاؤس اثرات جیسے چیلنجز سے نمٹنا ہے توزیادہ سے زیادہ درخت لگانا ہوں گے، آلودگی پیدا کرنے والے ایندھن کی جگہ ماحول دوست ایندھن اور پٹرول سے چلنے والی ٹرانسپورٹ کی جگہ الیکٹرک وہیکلز کو دینا ہوگی۔پاکستان کا بلین ٹری سونامی منصوبہ آلودگی کے مسائل پر قابو پانے کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔

تاریخی اعتبار سے دیکھیں تو پاکستان کی تحقیق اور سائنسی صلاحیت کے درمیان موجود خلا سے زیادہ اس کی کارکردگی اور اعداد و شمار کے درمیان خلیج دنیا کا اعتماد حاصل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہیں۔ چونکہ ہمارے اعداد و شمار اور رپورٹنگ میں دانستہ یا نادانستہ طور پر بار بار غلطیاں ہوتی ہیں اس لیے تیسرے فریق کی توثیق سے ہم دنیا کا ہمیں دیکھنے کا نظریہ بدل سکتے ہیں۔ دیرینہ شکوک و شبہات کے خاتمے سے بدگمانیوں اور غیر ضروری عالمی تنہائی کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان تیس ممالک میں ہوتا ہے جہاں کے ماحولیاتی نظام کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ان ممالک میں ماحولیاتی نقصانات مقامی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں جو بڑے پیمانے پر لوگوں کی نقل مکانی اور مہاجرت کا سبب بن سکتے ہیں، اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ماحولیات سے متعلق عالمی میدان میں ہمارے ملک کو بھی شامل رکھے تو اس کے لیے پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے موافق ترقیاتی منصوبہ بندی پر عمل کا عزم ظاہر کرنا ہوگا جس کے تحت معیشت کو کاربن سے پاک کرنا ہوگا اور قابلِ جدید توانائی اور قابلِ استطاعت توانائی کے ذریعے اپنی مسابقت بڑھانی ہوگی۔

مادی اور انسانی سرمایے کو پائیدار بنانا ہوگا اورمعیشت کو ماحولیات سے متعلق فیصلوں سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے macro-fiscal sustainability کو بہتر کرنا ہوگا۔پاکستان ان اقدامات سے حاصل ہونے والی کامیابی کی کہانیاں دنیا کو سُنا کر موسمیاتی تبدیلی سے متعلق عالمی مذاکراتی عمل کا حصہ بن سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی نے خبردار کیا ہے کہ 2025 تک پاکستان میں پانی کی قلت ایک بحران کی شکل اختیار کرلے گی۔ پاکستان میں پانی کی قلت سے زیادہ''واٹر مینجمنٹ'' کا مسئلہ ہے کیونکہ پاکستان میں صرف نو فیصد سیلاب کا پانی محفوظ کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے وزیراعظم عمران خان ملک میں مزید ڈیم بنانے کی حمایت کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے مقصد کو عالمی مقصد کے ہم آہنگ بنانا ہوگا۔ پاکستان کو ان عالمی قوتوں کی صف میں شامل ہونے کی ضرورت ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کا کام تیزی سے انجام دینا چاہتی ہیں۔

اسی لیے پاکستان کو چاہیے کہ عالمی تپش کو 2 سیلسیس گریڈ کے بجائے 1.5 سیلسیس گریڈ تک محدود رکھنے صدی کے وسط تک خود کو کاربن نیوٹرل اور 2030 تک تقریباً زیرو کاربن اخراج رکھنے والا ملک بنانے اور کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کے خاتمے کی باضابطہ طور پر حمایت کرے۔

اقتصادی سروے2020-21کے مطابق ملک میں توانائی کا بڑا ذریعہ تھرمل پاور پلانٹس ہیں، جن سے انسٹھ اعشارعہ بیالیس فیصد بجلی پیدا کی جارہی ہے۔اسی طرح تیس اعشاریہ باون فیصد بجلی پن بجلی گھروں سے حاصل کی جاتی ہے جب کہ قابل تجدید توانائی کا حصہ صرف دو اعشاریہ تیئس فیصد ہے۔ قابل تجدید توانائی کے منصوبے بھاری سرمایہ کاری کے ساتھ فوری شروع کرنے کی ضرورت ہے پن بجلی یا قابل تجدید توانائی کے ذرایع لگانے کے لیے بھی تو بھاری سرمایہ درکار ہے جو پاکستان جیسا ملک برداشت نہیں کر سکتا،جس نے پہلے ہی قرضوں کی ادائیگی بھی کرنی ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان ماحول دوست پالیسیوں کے لیے موثر آواز ہے اور ہونا بھی چاہیے۔

موسمیاتی تبدیلی میں، ہم ایک اہم مقام کی طرف جا رہے ہیں اور ایک انسانی بحران پیدا ہو رہا ہے جس سے صورتحال کو فوری طور پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔ حیاتیاتی تنوع کی تباہی آب و ہوا کی تبدیلی کے اہم واقعات میں سے ایک ہے۔وعدوں کے بجائے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مربوط اقدامات درکار ہیں۔

میڈیا کی مدد سے پاکستانی عوام میں شعور بیدار کرنے کی کوشش ایک اہم ترین پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔پاکستان یقینا موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے کے درست سمت میں گامزن ہے ،تاہم ابھی اس حوالے سے مزید عملی اقدامات کی ضروت ہے۔

مقبول خبریں