صحت کی دولت سے مالا مال نوجوان منہ کا کینسر’’خریدنے‘‘ لگے

عامر خان  جمعـء 15 اکتوبر 2021
ماوا کھانے والا روزانہ 100 روپے کا خرچہ کرتا ہے ، ماہانہ3ہزارروپے زہریلی اشیاکو کھانے میں خرچ کر دیتا ہے
۔ فوٹو: فائل

ماوا کھانے والا روزانہ 100 روپے کا خرچہ کرتا ہے ، ماہانہ3ہزارروپے زہریلی اشیاکو کھانے میں خرچ کر دیتا ہے ۔ فوٹو: فائل

 کراچی:  کورونا کے سبب خراب معاشی صورت حال کے باعث کراچی کے بیشتر لوگ مالی مشکلات میں مبتلا ہونے کے باوجود اپنی ماوا، گٹکا اور تمباکو والے پان کے استعمال کی عادت کو ترک نہیں کر سکے۔

حکومت کی جانب سے ماوے اور گٹکے کی فروخت پر پابندی کے بعد ان اشیا  کا استعمال کرنے والے لوگوں نے اس کا توڑ نکال لیا، لوگ ازخود ماوے کا استعمال کرنے لگے ہیں۔

طبی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ اگر لوگوں نے اس عادت کو ترک نہیں کیا تو شہر قائد میں خطرناک حد تک منہ کا کینسر پھیل سکتا ہے، ماوا استعمال کرنیوالا ایک شخص روزانہ 100 روپے کا خرچہ کرتا ہے اور ماہانہ 3  ہزار یا اس سے زائد روپے ان زہریلی اور نقصان دہ اشیاکو کھانے میں خرچ کر دیتا ہے، ایک جانب منہ کا کینسر تو دوسری اضافہ خرچہ لیکن لوگ اس عادت کو ترک کرنے کے لیے تیا رنہیں ہیں۔

حکومت سندھ نے واضح کیا ہے کہ ماوا اور گٹکا تیار کرنے والوں کے خلاف مزید سخت ایکشن لیا جائے گا، کورونا وبا  کے آنے، لاک ڈاون، بے روزگاری اور معاشی مسائل کے باوجود کراچی کے متوسط اور مضافاتی علاقوں میں رہائش پذیر زیادہ تر مرد حضرات اور نوجوانوں نے اپنے وقت کو گزارنے کے لیے مثبت سرگرمیوں میں حصہ لینے کے بجائے ماوا، پان اور گٹکا کھانے کی عادت کو اپنا لیا ہے۔

لوگوں کو اس بات کا پتہ ہے کہ ماوا گٹکا اور تمباکو والا پان مضر صحت ہے اور یہ منہ کے کینسر کا باعث بن رہا ہے تاہم اس کے باوجود لوگ اس عادت کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں، وہ کھانا کھائیں یا نہ کھائیں لیکن انھیں گٹکا، ماوا اور پان لازمی چاہیے۔

حکومت کی جانب سے سختی کے بعد ماوا اور گٹکا کھلے عام تو فروخت نہیں ہو رہا ہے تاہم کئی علاقوں میں گھریلو سطح پر یہ مضر صحت اشیاء تیار کرنے کے بعد مختلف سپلائی اور فروخت ہو رہا ہے یا پھر لوگ انھیں ازخود گھروں میں تیار کر رہے ہیں، کراچی میں اس وقت سب سے زیادہ مردوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد ماوے کا استعمال کر رہی ہے، جو ناقص چھالیا اور تمباکو اور چونے کے پانی سے تیار کیا جاتا ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون نے اس صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے مختلف افراد سے گفتگو کی تو اس حوالے سے پانی فروخت کرنے والے  نوجوان ذیشان بنگالی نے بتایا کہ جب کراچی میں کھلے عام ماوا اور گٹکا فروخت ہوتا تھا تو لوگوں کی بڑی تعداد ہمارے خریدار تھے اور اس کام میں بہت بچت ہوتی تھی۔

کورونا کے باعث لاک ڈاؤن کے بعد صورت حال تبدیل ہو گئی، لاک ڈاؤن کے دوران ماوا ملنا بالکل بند ہو گیا تھا، اس کی ایک بڑی وجہ اس کی فروخت پر پابندی بھی ہے، اس کا حل گٹکا اور ماوا کھانے والوں یہ نکالا کہ وہ خود اپنے طور پر اسے تیار کرنے لگے۔

اب بھی مختلف علاقوں جن میں لیاقت آباد ، سرجانی ٹاون ، نیو کراچی ، لائنز ایریا ، لانڈھی ، کورنگی ، شاہ فیصل ، کیماڑی ، اورنگی ٹاؤن ، گارڈن ، رنچھوڑ لائن کھارادر ، مچھر کالونی اور دیگر علاقے شامل ہیں ، وہاں گھریلو سطح پر ماوے تیار کیے جا رہے ہیں، یہ ماوے ناقص چھالیہ مختلف اقسام کے تمباکو ، چھونے اور کتھے کی مدد سے تیار کیے جاتے ہیں۔

یہ ماوے موٹر سائیکل سوار نوجوان مختلف طریقوں سے انھیں سپلائی کرتے ہیں، چار چار ، پانچ پانچ پڑیا رکھی جاتی ہیں ، جو سپلائی ہوتی ہیں تاہم یہ کام اب کھلے پیمانے پر نہیں ہو رہا، ماوا کھانے والوں کی بڑی تعداد اب گھروں میں اپنی ضرورت کے مطابق ماوا تیار کر رہی ہے۔

ایک اور پان فروش جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مجوزہ نام ( راشد ) نے بتایا کہ کراچی میں گٹکا کھانے کی عادت تقریبا ختم ہو گئی ہے، گٹکے زیادہ تر لیاری ، ملیر ، بلدیہ ٹاون اور دیگر علاقوں میں تیار اور کھائے جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ لوگوں کو ماوا کھانے کی عادت ہو گئی ہے، ماوے میں ناقص چھالیہ استعمال ہوتی ہے، کچھ لوگ چونے کے پانی یا مبینہ طور پر بیٹری کا پانی استعمال کرتے ہیں ، جس سے چھالیہ گل جاتی ہے لیکن زیادہ تر لوگ چونے کے پانی یا سادہ پانی میں چھالیہ گلاتے ہیں، پھر اس چھالیہ کو خشک کرکے اس میں مختلف اقسام کا تمباکو ڈالا جاتا ہے، پھر اس میں چونے کا پانی یا حسب ذائقہ کتھہ ملایا جاتا ہے ، جس کے بعد ماوا تیار ہوجاتا ہے۔

یہ ماوا 100 روپے سے 120 روپے تک فی پڑی فروخت ہوتا ہے یا 200 روپے میں لوگ اپنی ضرورت کے مطابق ایک دن کے لیے ماوا تیار کر لیتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ ادھیڑ عمر اور زائد عمر کے افراد مختلف اقسام کا پتی والا پان کھاتے ہیں، زیادہ تر پان کی دکانوں پر ایک پان 15 سے لے کر 30 روپے تک ہے، ہر علاقے میں پان الگ الگ قیمت پر فروخت ہوتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ماوا ہر عمر کے نوجوان اور مرد استعمال کر رہے ہیں، پڑھے لکھے لوگ بھی ماوے کا استعمال کرتے ہیں، سماجی رہنما حاجی محمد تسلیم نے بتایا کہ مارے کا استعمال لاک ڈاون میں خطرناک حد تک بڑھ گیا تھا، لوگوں کو اب اسے کھانے کی عادت ہو گئی ہے، لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم اسے نہیں کھائیں گے تو ہمیں سستی ہو جاتی ہے، چکر آتے ہیں اور دماغ کام نہیں کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو ماوا ، گٹکا اور دیگر اقسا م کے تمباکو والی اشیا  کی فروخت پر عائد پابندی پر عمل درآمد پر موثر اور سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔

طبی ماہرین پروفیسر عبدالحمید ڈوگر ، پروفیسر قیصر سجاد ، ڈاکٹر امتیاز اطہر صدیقی نے کہا کہ ماوا گٹکا چھالیہ اور تمباکو کا استعمال مضر صحت ہے ، جو منہ کے کینسر کا باعث بن رہا ہے، کراچی میں منہ کے کینسر میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، کینسر کا علاج بہت مہنگا ہے، لوگوں کو چاہیے کہ وہ ان اشیا کا استعمال ترک کر دیں اور اپنی صحت کا خیال کریں۔

سماجی کارکن ترنم ناز نے بتایا کہ مضافاتی علاقوں میں خواتین میں بھی ماوا کھانے کے رحجان میں اضافہ ہو اہے اور بہت سی خواتین گھروں میں تمباکو والے پان کا استعمال کرتی ہیں ، خواتین کو بھی ان عادات کو ترک کرنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ جو مرد حضرات گٹکے ، مارے اور پان کا استعمال کرتے ہیں ، ان کی آمدنی کا بیشتر حصہ ان کی خریداری یا تیاری پر خرچ ہو جاتا ہے، یہ فضول خرچی ہے، لوگوں کو خود بھی احتیاط کرنی چاہیے اور ان عادات کو چھوڑ دینا چاہیے۔

وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی وقار مہدی کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ کے موثر اقدامات کے باعث ماوا یا گٹکا کی فروخت پر مکمل پابندی عائد ہے، لوگوں کو اس عادت کو خود بھی ترک کرنا ہو گا، لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی صحت کا خود خیال کریں، ماوا اور گٹکا تیار کرنے والوں کے خلاف مزید سخت ایکشن لیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ اگر راہ چلتے ہوئے یا کھاتے ہوئے کوئی بھی شخص ماوا یا گٹکا یا نشہ آور چیز استعمال کرے گا یا رکھے گا تو پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔

ماوے کا استعمال کرنے والے مختلف افراد فیصل ، شاہ رخ علی ، ناظم ، شان سمیت دیگر نوجوانوں اور افراد سے جب پوچھا گیا کہ وہ اس عادت کو ختم کیوں نہیں کرتے تو ان کا کہنا تھا کہ ہم ماوے کے بغیر نہیں رہ سکتے، ماوا کھلے عام ملنا بہت مشکل ہے، اس لیے ہم اسے ازخود تیار کر لیتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔