کورونا اور عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت عالمی سطح پر نت نئی خبریں دے کر کورونا کے ماہرین کے صبر کو آزما رہا ہے۔


Editorial October 16, 2021
عالمی ادارہ صحت عالمی سطح پر نت نئی خبریں دے کر کورونا کے ماہرین کے صبر کو آزما رہا ہے۔ (فوٹو: فائل)

عوامی تاثر یہ ہے کہ کورونا وائرس جاتے جاتے بھی عوام کو پریشانیوں میں مبتلا کرنے سے باز نہیں آرہا، اس کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت نے اپنی تحقیقاتی سرگرمیوں کا دائرہ پھیلا لیا ہے، اور عالمی سطح پر نت نئی خبریں دے کر کورونا کے ماہرین کے صبر کو آزما رہا ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ ان تحقیقاتی اطلاعات سے کورونا کے وائرس کے حوالہ سے مفید معلومات میں اضافہ بھی ہوا ہے اور کورونا کے بارے میں حفاظتی حوالہ سے معلومات مل جاتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث فعال اور صحت مند زندگی گزارنے کے مواقع کم ہوگئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اپنے ایک بیان میں ڈبلیو ایچ او نے صحت، کھیل، تعلیم اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کے فیصلہ سازوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر جامع پروگرام اور خدمات کے لیے اقدامات اٹھائیں اور محفوظ ماحول پیدا کریں جس سے تمام برادریوں میں جسمانی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔

دوسری جانب نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق جمعرات کو ملک میں ایک ہزار 16 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے جب کہ 28 افراد انتقال کر گئے۔ ملک میں مثبت کورونا کیسز کی شرح 2.11 فیصد رہی اور وائرس سے متاثرہ 2 ہزار 195 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

ادھر وزارت قومی صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ امریکی ویکسین فائزر کی 96 لاکھ خوراکیں رواں ماہ کے اختتام میں آنے والی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 24 لاکھ خوراکوں پر مشتمل پہلی کھیپ رواں ہفتے کے اختتام میں پہنچے گی جب کہ امریکا کی فراہم کردہ ویکسین کوویکس پلیٹ فارم کے ذریعے آئے گی۔

کوویکس ایک بین الاقوامی اتحاد ہے جس کا عزم پاکستان کی 20 فیصد آبادی کو مفت ویکسین فراہم کرنا ہے۔ فائزر واحد ویکسین ہے جو 12 سے 18 سال کی عمر کے افراد کو لگائی جا رہی ہے اور پاکستان کو امریکی ویکسین کی بلاتعطل فراہمی کی ضرورت ہے تاکہ طلبا کو ویکسین لگائی جا سکے۔

ڈبلیو ایچ او کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سوزانہ جیکب کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ لوگوں کو فعال اور صحت مند زندگی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر بہتر سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے، لوگوں کے لیے آج جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا امکان ناہموار اور غیر منصفانہ ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ عدم مساوات کورونا وائرس کی وجہ سے بڑھ گئی ہے اس لیے ڈبلیو ایچ او، دنیا بھر میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ اقدامات اٹھا رہا ہے تاکہ لوگوں کی صحت مند اور فعال زندگی میں آنے والی مزاحمتوں کو روک کر ان سے نمٹا جاسکے۔

اگر عالمی آبادی صحت مند ہوتی تو 50 لاکھ اموات سے بچا جاسکتا تھا تاہم متعدد افراد تنگ جگہوں میں رہتے ہیں جہاں انھیں ایسی جگہ تک رسائی نہیں ہوتی جہاں وہ محفوظ چہل قدمی، دوڑ، سائیکل چلا سکیں یا کوئی اور جسمانی سرگرمیوں میں مصروف ہو سکیں۔ جہاں ایسی سہولیات موجود ہیں تو انھیں اس طرح تیار نہیں کیا گیا کہ وہ بزرگوں اور معذور افراد کی ضروریات پوری کر سکیں۔ ڈبلیو ایچ او کے اعداد و شمار کے مطابق ہر 4 میں سے ایک جوان اور 5 میں سے چار نوجوان فی الحال جسمانی سرگرمیاں نہیں کرتے۔

خواتین، مردوں کے مقابلے میں کم فعال ہیں اور عالمی سطح پر ان کی شرح میں 8 فیصد فرق ہے، معاشی طور پر مستحکم ممالک میں 32 فیصد مردوں کے مقابلے میں 23 فیصد خواتین جسمانی سرگرمیوں میں غیر فعال ہیں۔ زیادہ آمدن والے ممالک زیادہ غیر فعال ہیں جن کی شرح 37 فیصد ہے، درمیانی آمدنی والے ممالک کی شرح 26 فیصد اور کم آمدنی والے ممالک کی شرح 16 فیصد ہے۔

ایک اور معلوماتی کتابچہ میں بتایا گیا ہے کہ بچے کووڈ 19 سے زیادہ بیمار نہیں ہوتے مگر وہ اس بیماری کو آگے بالغ افراد کی طرح ہی پھیلا سکتے ہیں۔ یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ میساچوسٹس جنرل ہاسپٹل، برمنگھم اینڈ ویمنز ہاسپٹل اور ریگن انسٹیٹیوٹ کی تحقیق میں سابقہ نتائج کی تصدیق کی گئی کہ نومولود بچے، چھوٹے اور بڑے بچوں کے نظام تنفس میں کورونا وائرس کی تعداد بالغ افراد جتنی ہی ہوتی ہے اور ان کے جسموں میں اسی شرح سے وائرس کی نقول بنتی ہیں۔

اس تحقیق میں میساچوسٹس جنرل ہاسپٹل یا ارجنٹ کیئر کلینکس میں 2 ہفتے سے 21 سال کی عمر کے 110 بچوں کا جائزہ لیا گیا تھا جن میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی تھی۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہر عمر کے بچوں میں چاہے ان میں بیماری کی علامات موجود ہوں یا نہ ہوں، وائرل لوڈ کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔

محققین کے مطابق یہ سوال پہلے سے موجود تھا کہ بچوں میں زیادہ وائرل لوڈ اور زندہ وائرس کے درمیان تعلق موجود ہے یا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم اب ٹھوس جواب دینے کے قابل ہوگئے ہیں کہ یہ زیادہ وائرل لوڈ متعدی ہوتا ہے یعنی بچے بہت آسانی سے کووڈ 19 کو اپنے اردگرد پھیلا سکتے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ بچوں میں زیادہ وائرل لوڈ اور بیماری کی شدت میں کوئی تعلق نہیں ہوتا، مگر بچے اس وائرس کو جسم میں لے کر پھر سکتے ہیں اور دیگر افراد کو متاثر کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبعلم اور اساتذہ اب اسکول لوٹ رہے ہیں مگر اب بھی بچوں میں کووڈ 19 کے اثرات کے حوالے سے متعدد سوالات کے جوابات تلاش کرنا باقی ہے، جیسے بیشتر بچوں میں بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں یا معمولی علامات کا سامنا ہوتا ہے، جس سے یہ غلط خیال پیدا ہوا کہ بچوں سے اس بیماری کے پھیلنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ کووڈ 19 سے متاثر بچوں میں کورونا وائرس کے وائرل فیچرز کی جانچ پڑتال سے زیادہ بہتر پالیسیوں کو تشکیل دینے میں مدد مل سکے گی۔

تحقیق کے مطابق کورونا کی نئی اقسام ابھرنے سے متاثرہ بچے نئی اقسام بننے کا باعث بن سکتے ہیں جب کہ وہ موجودہ اقسام کو پھیلانے کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ محققین نے بتایا کہ کووڈ 19 سے متاثر بچے چاہے ان میں علامات ظاہر نہ بھی ہوں، اسے آگے پھیلا سکتے ہیں اور کورونا کی اقسام کو ذخیرہ کرسکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وائرس کی اقسام میں بیماری کی شدت اور ویکسینز کی افادیت متاثر کرنے کی صلاحیت ہوسکتی ہے جیسا ہم نے ڈیلٹا قسم میں دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے بچوں میں فیس ماسک کے استعمال کی اہمیت کا اعادہ ہوتا ہے جب کہ دیگر احتیاطی تدابیر نہ صرف بالغ افراد بلکہ بچوں کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف انفیکشنز ڈیزیز میں شایع ہوئے۔

حقیقت یہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے کورونا سے اپنے ہاتھ نہیں کھینچے بلکہ اس کی ذمے داری اور احساس فرائض کا یہ عالم ہے کہ وہ ابھی تک کورونا کے اثرات کی تحقیق سے دست کش نہیں ہوا اور اس کی کوشش ہے کہ اس وبا کی تباہ کاریوں سے انسانیت کو بچانے میں ہر شخص اپنی ذمے داری پوری کرے۔

کووڈ 19 سے بچاؤ کے لیے اگر آپ ویکسینیشن کراتے ہیں تو اس کا فائدہ صرف آپ کو ہی نہیں بلکہ گھر کے ایسے افراد کو بھی ہوتا ہے جن کی ویکسنیشن نہیں ہوتی۔ یہ بات سوئیڈن میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ اومیو یونیورسٹی کے گیریاٹرک میڈیسین یونٹ کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ویکسینز سے دور رہنے والے خاندان کا ایک فرد بھی اگر ویکسینیشن کرا لیتا ہے تو دیگر افراد میں کووڈ 19 سے متاثر ہونے یا اسپتال میں داخلے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ تحقیق کا پیغام عوامی صحت کے لیے بہت اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ جب آپ ویکسینیشن کراتے ہیں تو نہ صرف خود بلکہ اپنے پیاروں کو بھی تحفظ فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔ اس تحقیق میں سوئیڈن کے 8 لاکھ 14 ہزار 806 خاندانوں کے17 لاکھ 89 ہزار 728 افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔

ان سب افراد میں کووڈ 19 کے خلاف مدافعت بیماری کے باعث یا ویکسینیشن (موڈرنا، فائزر یا ایسٹرازینیکا ویکسینز) مکمل ہونے سے پیدا ہوئی تھی۔ ہر فرد میں بیماری کے خلاف پیدا ہونے والی مزاحمت کا موازنہ ایسے افراد کے خاندانوں سے کیا گیا جن میں بیماری کے خلاف مدافعت پیدا نہیں ہوئی تھی۔ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ خاندان میں ایک فرد کی ویکسینیشن سے گھر کے دیگر افراد میں کووڈ 19 سے متاثر ہونے کا خطرہ 45 سے 61فیصد تک کم ہوگیا۔

دوسری جانب ایک اچھی خبر یہ ہے کہ کورونا کی شدت اور کیسز میں مرحلہ وار کمی آرہی ہے، ہمارے فرنٹ لائن مسیحاؤں کی ٹیم نے بلاشبہ اپنے فرائض جنگی بنیادوں پر پورے کیے، پوری دنیا کورونا کے خلاف مزاحمتی جنگ میں جنگی جذبے کے تحت مصروف عمل رہنے پر پاکستان کو سراہتی ہے۔ ہمارے سرکاری اسپتالوں نے کورونا کے تمام مسائل حل تو نہیں کیے لیکن دستیاب وسائل کے ساتھ کورونا کو جس طرح شکست سے دوچار کیا ہے وہ عوام کی استقامت کا کھلا ثبوت ہیں۔

حکومت کے صحت مراکز روایتی تساہل اور سستی کا مظاہرہ ضرور کرتے رہے لیکن پیرا میڈیکل ٹیم، ڈاکٹروں ، نرسوں اور فرنٹ لائن کے کارکنوں نے کورونا سے نمٹنے میں شاندار کارکردگی دکھائی ہے، اس فرنٹ لائن اتحاد نے ملک گیر پیمانے پر جو خدمات سرانجام دی ہیں، وقت یہی ہے کہ اس ٹیم کو زبردست خراج تحسین پیش کیا جائے، اب ایک دوسرا مرحلہ ڈینگی کے خلاف جنگ کا ہے۔

قوم کو یقین ہے کہ اس چیلنج سے بھی وزارت صحت فرنٹ لائن پر اپنے عزائم میں کوئی کمی نہیں آنے دے گی۔ امید ہے وزارت صحت فرنٹ لائن مسیحاؤں کی دلجوئی اور خدمات کے لیے مناسب ایوارڈز کے اجرا پر سنجیدگی سے غور کریگی۔ وفاقی حکومت سے بھی قوم یہی توقع رکھتی ہے کہ وہ بھی کورونا سے نجات کی قومی مہم کو جوش وخروش سے منائے گی۔

مقبول خبریں