مہنگائی اور ملکی معیشت

آٹا، گھی اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے عوامی معاشی مسائل میں اضافہ کر دیا ہے


Editorial October 18, 2021
آٹا، گھی اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے عوامی معاشی مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔ (فوٹو: فائل)

سست روی اور بحرانوں میں گھری ملکی معیشت کا دائرہ ترقی اور خوشحالی کے تمام تر دعوؤں کے برعکس مزید سکڑتا جا رہا ہے۔ معاشی استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کے بجائے اب بھی خواب کی صورت لیے ہوئے ہے۔غربت اور بے روزگاری میں مسلسل اضافہ،پبلک ڈیلنگ والے سرکاری اداروں کی ناقص کارکردگی ، روز مرہ اور دیگر یوٹیلٹیز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے سفید پوش مڈل کلاس کے لیے سانس لینا بھی دشوار بنا دیا ہے۔ابھی بجلی، گیس کی قیمتوں میں اضافے پر عوام پریشان تھے کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بھی توقع سے زیادہ بڑھا دیے گئے ہیں۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 12روپے44 پیسے فی لٹر تک اضافہ کردیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ کے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول10.49روپے، ہائی اسپیڈ ڈیزل 12.44 روپے، مٹی کا تیل10.95روپے اور لائٹ ڈیزل8.44 روپے فی لٹر مہنگا کیا گیا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کا اطلاق ہفتے کے روز سے ہوگیا ہے۔ نئی قیمتیں آیندہ پندرہ روز تک لاگو رہیں گی۔

وزارت خزانہ کے اعلامیہ میں جواز پیش کیا گیا ہے کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو دیکھتے ہوئے حکومت کم سے کم ٹیکس لاگو کر رہی ہے تاکہ ان کی قیمتوں میں کم سے کم اضافہ ہو۔ شہریوں کو یاد دلایا گیا ہے کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بنگلہ دیش، سری لنکا، بھارت اور خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے کم ہیں۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ سوا آٹھ فیصد ہوا ہے جب کہ گزشتہ پندرہ دنوں میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں10سے15فیصد بڑھی ہیں، روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ کی وجہ سے بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

عوام کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ بات درست نہیں کہ حکومت نے اوگرا کی سفارشات سے ہٹ کر زیادہ قیمتیں بڑھائی ہیں، حکومت نے اوگرا کی سفارش کے مطابق قیمتوں میں اضافہ کیا۔ حکومت 30روپے پٹرولیم لیوی کے بجائے5.62 روپے پٹرولیم لیوی کی مد میں چارج کر رہی ہے۔ حکومت17فیصد سیلز ٹیکس کے بجائے اس وقت6.84فیصد ٹیکس وصول کر رہی ہے۔ ترجمان کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام آئل کی قیمتوں میں اضافے نے پوری دنیا میں بحران پیدا کر دیا ہے۔

حکومت کو پورا احساس ہے کہ موجودہ صورتحال میں عوام کو کس طریقے سے ریلیف فراہم کرنا ہے تاکہ کم سے کم اضافہ انھیں منتقل کیا جائے۔ آنے والے وقت میں بھی حکومت کی یہی کوشش ہوگی کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو کم سے کم اضافہ عوام کو منتقل کیا جائے۔ وزیر خزانہ کے ترجمان نے ایک ٹویٹ میں کہا، بلا شبہ بڑھتی ہوئی پٹرول کی قیمت حکومت اور عوام دونوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں کم کریں۔ ایف بی آر کو ہدایت کی گئی ہے کہ کھانے کے تیل پر ٹیکس کم کریں۔

حکومتی عمال کی نقطہ بینی اور حقائق شناسی سے ملک کا پتہ پتہ بوٹا بوٹا واقف ہے لیکن اس کا کریں صاحب کہ منڈی میں قیمتوں میں کمی تو دور کی بات ان میں ٹھہراؤ ہی نہیں آ رہا ہے، روزانہ کی بنیاد پر نہ سہی ہفتہ پندرھواڑہ اشیاء ضروریہ کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ آٹا،گھی اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں حیرت انگیز اضافے نے عوام کے معاشی مسائل میں اضافہ کر دیا ہے اس پر مستزاد یہ کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ریکارڈ اضافے کے بعد پبلک اور گڈزٹرانسپورٹرز نے بھی کرائے بڑھانے میں ذرا تامل نہیں کیا ،شہروں کے اندر چلنے والی ویگنوں کے کرائے میں10سے15فیصد تک اضافہ کر دیا گیا ہے جب کہ لوڈر گاڑیوں نے بھی اسی تناسب سے کرائے بڑھا دیے ہیں، اضلاع اورصوبوں کے درمیان چلنے والی ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھانے کے لیے بھی ٹرانسپورٹرز نے مشاورت شروع کر دی ہے۔

ایسے میں عوام کدھر جائیں،حکومت کے ترجمانوں اور پالیسی سازوں کو انھیں ضرور گائیڈ کرنا چاہیے۔ یہ کہنا تو آسان ہے کہ مہنگائی عارضی ہے اور حکومت جلد اس پر قابو پا لے گی، مگر حقائق اس کے برعکس ہیں،خوشحالی کے حکومتی دعوؤں پر عوام کا اعتماد متزلزل ہو چکا ،اب ایسا ہر دعویٰ انھیں مذاق معلوم ہوتا ہے۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پٹرول کی قیمت ملکی تاریخ کی بلندترین سطح تک پہنچ گئی ہے جس پر عوام اور اپوزیشن کی جانب سے حکومت پر شدید تنقید کی جارہی ہے ،حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کے تناظر میں پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں چند دنوں بعد ایک بار پھر مزید اضافے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا ۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بھی نئی بلندیوں کو چھونے لگی ہے اور غریب عوام پر عرصۂ حیات مزید تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ادھر آٹا، چینی، دالیں، پھل، سبزیوں اور ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ تعمیراتی میٹریل کے نرخ بھی بڑھا دیے گئے ہیں۔

اینٹیں، سیمنٹ، سریا، ٹائل، ماربل، بجری، ریت، سینٹری کے سامان سمیت سب کچھ مہنگا ہوگیا۔ مہنگائی نے عام آدمی کے لیے گھر بنانا مشکل کردیا، ایک ہزار اینٹ کا ریٹ تیرہ ہزار سے بڑھا کر ساڑھے تیرہ ہزار روپے ہوگیا، سیمنٹ کی بوری ساڑھے پانچ سو روپے سے بڑھ کر 720 روپے کی ہوگئی ہے۔

پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ تعمیراتی شعبہ سے منسلک افراد کے روزگار پر بری طرح اثر انداز ہوا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی سے انکا کاروبار ٹھپ ہو گیا،قیمتوں میں اضافہ سے محدود آمدنی کے حامل لوگوں نے گھروں کی تعمیر روک دی ہے۔ تعمیراتی شعبہ سے متعلق تمام چیز یں مہنگی ہونے سے عام آدمی کے لیے گھر بنانا مشکل ہوگیا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے رواں مالی سال 2021-22 کی پہلی سہ ماہی(جولائی تا ستمبر) کے دوران مجموعی طور پر 388 ارب 51 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی اشیائے خورونوش درآمد کی گئی ہیں جو کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں103 ارب 17کروڑ روپے زیادہ ہیں۔

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران مجموعی طور پر388 ارب 51 کروڑ روپے سے زائد کی اشیائے خورونوش درآمد کی گئی ہیں اور گزشتہ مالی سال اسی عرصے میں 285 ارب 34 کروڑ روپے کی خوراک کی اشیاء کی درآمد ہوئی جب کہ پہلے تین ماہ میں 3 ہزار ارب روپے سے زائد کی مجموعی درآمدات کی گئی ہیں جو کہ گزشتہ مالی سال اسی عرصے میں 18 سو 88 ارب روپے سے زائد تھیں، جولائی تا ستمبر 146 ارب روپے سے زائد کا پام آئل اور 16 ارب 63 روپے سے زائد کی گندم درآمد کی گئی جب کہ 15 ارب روپے سے زائد کی چینی درآمد کی گئی۔ تین ماہ میں پاکستانی 24 ارب 80 کروڑ روپے کی چائے پی گئے۔11 ارب روپے سے زائد کے مصالحہ جات درآمد کیے گئے جب کہ جولائی تا ستمبر 36 ارب 57 کروڑ روپے سے زائد کی دالیں درآمد کی گئیں۔

ادھر یہ خبر بھی شائع ہوئی ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف ایک بار پھر معیاری فریم ورک پر اختلافات اور معیشت کے مستقبل کے روڈ میپ پر غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے مقررہ وقت پر اسٹاف سطح پر معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔ایک ارب ڈالر کے قرض کی اگلی قسط جاری کرنے اور بہتر معاشی صورتحال کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے 4 سے 15 اکتوبر تک مذاکرات کا نیا دور بے نتیجہ رہا۔ پاکستان کی جانب سے بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی پیشگی شرط قبول کیے جانے کے باوجود مذاکرات ناکام ہوئے۔

تاہم فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے،مذاکرات کے مثبت خاتمے کی کوششوں میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹلینا جارجیوا اور امریکی معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیا ڈونلڈ لو سے الگ الگ ملاقات کی۔

تاہم ایسا لگتا ہے کہ یہ دونوں ملاقاتیں بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئیں،پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی سبکدوش ہونے والی نمایندہ ٹریسا ڈابن سانچیز نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ آئی ایم ایف ٹیم پاکستانی وفد کے ساتھ مذاکرات میں ہمارے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مصروف کار ہے اور ہم پاکستانی حکام کے ساتھ پالیسیوں اور اصلاحات پر مذاکرات کے تسلسل کے منتظر ہیں جو 6 ویں جائزے کی تکمیل کی بنیاد بن سکتے ہیں، یہ دوسری بار ہوا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف 'چھٹے جائزے کی تکمیل کی بنیاد' تک نہیں پہنچ سکے۔

یہ کوشش بے سود رہی تھی، پاکستان اور آئی ایم ایف اب تک معاشی اور مالیاتی پالیسیوں کی یادداشت (ایم ای ایف پی) پر متفق ہونے میں ناکام رہے ہیں ، جو بیل آؤٹ پروگرام کی بنیاد بنتا ہے۔ وزیر خزانہ شوکت ترین نے واشنگٹن میں نیوز کانفرنس میں بتایا کہ آئی ایم ایف حکام ان اعدادو شمار کا جائزہ لے رہے ہیں اس حوالے سے وہ ہمیں آگاہ کریں گے۔

مقبول خبریں