پریگمیاکوممبئی نمائش سے10کروڑڈالرکے آرڈرزکی امید

’میڈان پاکستان‘ نمائش3اپریل سے ہوگی،دوطرفہ تجارت کوفروغ ملے گا،ارشد عزیز


Business Reporter February 04, 2014
کراچی: پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ارشدعزیز ممبئی میں منعقد کی جانے والی 3روزہ میڈان پاکستان ایکسپو 2014 کے حوالے سے پریس کانفرنس کر رہے ہیں ۔ فوٹو : محمد عظیم / ایکسپریس

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات معمول کے مطابق اور وزارت تجارت کا تعاون شامل ہو تو پریگمیا کے تحت بھارت کے شہر ممبئی میں دوسری ''میڈان پاکستان'' ایگزیبیشن کے ذریعے 10 کروڑڈالر مالیت کے برآمدی آرڈرز کا حصول ممکن ہے۔

یہ بات پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پریگمیا) کے چیئرمین ارشد عزیز نے پیر کو پریگمیا ہاؤس میں سابق چیئرمین اعجازکھوکھر، شیخ محمد شفیع، میر ناصر عباس ودیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی مصنوعات پرمشتمل 3 روزہ ایگزیبیشن ''میڈ ان پاکستان '' 3 اپریل2014 سے ممبئی کے ورلڈٹریڈ سینٹر میں منعقد ہوگی جو خالصتاً اپنی مدد آپ کے تحت کی جاری ہے جبکہ وزارت تجارت وٹیکسٹائل انڈسٹری نے اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، میڈ ان پاکستان ایگزیبیشن دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کے فروغ اورپاکستانی برآمدکنندگان کے کاروباری وسعت کے لیے ایک بھرپور موقع ثابت ہوگی، میڈ ان پاکستان کے لیے 45 فیصد اسٹالوں کی بکنگ ہوگئی، بکنگ 10 فروری تک جاری رہے گی، میڈ ان پاکستان نمائش سے پاکستانی ایکسپورٹرز کو اپنی مصنوعات کے لیے ایک بڑی مارکیٹ ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس نمائش میں پاکستانی ایکسپورٹرز ریڈی میڈ گارمنٹس، فیشن ملبوسات، ٹیکسٹائل، لون، میک اپ، سرجیکل آئٹم، اسپورٹس کا سامان، ہینڈی کرافٹ، فوڈ آئٹم، لیڈیز ویئر اور دیگر مصنوعات کے 100 سے زائد اسٹالز لگائیں گے۔



انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان زیادہ تر تجارت براستہ دبئی ہوتی ہے جس کا تخمینہ 4ارب ڈالر سے زائد ہے، اگر یہ تجارت براہ راست ہو تو پاکستان کو اس کا زیادہ فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ 3 سے 7 اپریل 2014 کو ممبئی میں ہونے والی میڈ ان پاکستان سنگل کنٹری نمائش دو پڑوسی ممالک میں باہمی تجارت کے لیے سنگ بنیاد ثابت ہو گی۔ اعجازکھوکھر نے کہا کہ دوطرفہ تجارتی سرگرمیوں کی وسعت کے لیے ضروری ہے کہ بھارت پاکستانیوں کو یکساں کاروباری مواقع فراہم کرے، بھارتی تاجرصرف ایک ویزے پر پورے پاکستان کا دورہ کرتے ہیں جبکہ بھارت میں پاکستانی تاجروں کو صرف ایک یا چند شہروں تک محدود کردیا جاتا ہے، اسی طرح دونوں ممالک کے سفارتخانوں میں ایک ایک کسٹمز افسر تعینات کرنے کی ضرورت ہے جو اپنے اپنے ملکوں کے تاجروں کے کنسائنمنٹس کی سہل کلیئرنس اور شپمنٹس میں معاونت کریں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ پاکستانی مصنوعات کے لیے اپنے کسٹمزڈیوٹی ٹیرف کو ریشنلائزڈ کرے، پاکستان میں بھارتی مصنوعات انتہائی کم شرح ڈیوٹی پر درآمد ہورہی ہیں جبکہ بھارت میں پاکستانی مصنوعات پر36 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد ہے۔