ملکی ترقی میں بلدیاتی اداروں کا اہم کردار

بلدیاتی نظام در اصل سیاست کی نرسری ہوتا ہے اور اس نظام سے اچھے اورقابل مقامی قیادت میسر آئے گی۔


Editorial October 21, 2021
بلدیاتی نظام در اصل سیاست کی نرسری ہوتا ہے اور اس نظام سے اچھے اورقابل مقامی قیادت میسر آئے گی۔ فوٹو: فائل

پنجاب حکومت نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے بلدیاتی ادارے بحال کردیے ہیں، لاہور سمیت پنجاب بھر میں 58 ہزار منتخب نمایندے دوبارہ اپنے عہدوں کا چارج سنبھال رہے ہیں ، تحلیل کیے گئے بلدیاتی ادارے تقریبا 25 ماہ بعد بحال ہوئے ہیں ،سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود حکومت پنجاب بلدیاتی اداروں کی بحالی کے حوالے سے سنجیدہ نظر نہیں آئی جس پر منتخب بلدیاتی نمایندوں نے عدالت کا رخ کیا تھا۔

دوسری جانب چند روز پیشتر الیکشن کمیشن نے سندھ میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے سندھ حکومت سے ایک ماہ میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ سے متعلق تمام ترامیم کا نوٹی فکیشن اور حلقہ بندیوں کے لیے مطلوبہ ڈیٹا طلب کرلیا ہے، مزید یہ کہ الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں اگلے سال بلدیاتی انتخابات کی تجویز مسترد کر تے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی مارچ 2022 میں الیکشن کے انعقاد کی تجویز ناقابل قبول ہے۔

دراصل کسی بھی جمہوری نظام میں مقامی حکومت کو نچلی سطح پر حکمرانی کا ایک اہم ڈھانچہ تصور کیا جاتا ہے،عوام کو جمہوری عمل میں شامل کرنے کے لیے بلدیاتی اداروں کا مکمل اختیارات اور فنڈز کے ساتھ فعال رہنا انتہائی ضروری ہے۔

بدقسمتی سے جمہوری حکومتوں کے دور میں کوشش کی جاتی رہی ہے کہ اختیارات کو وفاقی اور صوبائی سطح پر مرتکز رکھا جائے اور مختلف حیلوں بہانوں سے بلدیاتی اداروں کو غیر فعال رکھا جاتا ہے۔پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت نے بھی بلدیاتی اداروں کے اختیارات کو انتہائی محدود رکھنے کے لیے باقاعدہ پلاننگ کے تحت اس کے کئی محکمے چھین کر خود مختار اتھارٹیز قائم کر دی ہیں،جو درحقیقت مقامی حکومت کے دائر ہ اختیار میں آتے ہیں ،اسی طرح سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔

پی ٹی آئی کی حکومت نے پنجاب میں لولے لنگڑے بلدیاتی اداروں کو بھی معطل کردیاجسے عدالت عظمیٰ کے احکامات کے تحت اب جاکر بحالی نصیب ہوئی ہے ،یعنی جمہوریت کا راگ الاپنے والی سیاسی جماعتیں انتہائی تنگ نظر اور محدود سوچ کی حامل ہیں کہ وہ بنیادی مسائل کے حل کا اختیار کسی بھی طور پر مقامی حکومت کو دینا نہیں چاہتی ہیں۔اس کے برعکس آمرانہ ادوار میں بلدیاتی ادارے خاصی حد تک بااختیار رہے۔ انھی بلدیاتی اداروں کے ذریعے نئی قیادت سامنے آتی رہی۔

ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ اختیارات کو اپنے ہاتھوں میں رکھنے کی وجہ سے ملک ہمیشہ جمہوری حکومتوں کے دور میں بلدیاتی نظام سے محروم رہا۔آج بھی وزیراعظم عمران خان کے دعوؤں کے باوجود ملک ایک فعال اور متحرک بلد یاتی نظام سے محروم ہے، جو بلدیاتی نظام سابقہ حکومت نے قائم کیا تھا وہ بھی اس حکومت نے ایک آرڈینس کے ذریعے ختم کر دیاتھا۔اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس بے پناہ اختیار آگئے ہیں، انھی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے صوبے بلدیاتی انتخابات کرانے میں ٹال مٹول کر رہے ہیں۔

اس وقت بلدیاتی اداروں کو شدید مالی اور انتظامی مشکلات کا سامنا ہے ، کیونکہ نہ تو ان کے پاس اختیارات ہیں اور نہ ہی فنڈز، صر ف فائلوں میں بلدیاتی ادارے قائم ہیں،اس وقت وفاق اورچاروں صوبائی حکومتوں نے بلدیاتی اداروں کے اختیارات سلب کر رکھے ہیں ۔اراکین اسمبلی کی خواہش ہوتی ہے کہ انتظامی اور مالی اختیارات ان کے ہاتھ میں رہیں،ایک تو وہ اس سے مالی فائدے اٹھاتے ہیں کیونکہ چھوٹے چھوٹے ترقیاتی کاموں کے لیے بھی انھیں ہی فنڈز ملتے ہیں اور پھر عوام کو یہ بھی بتاتے ہیں کہ ہم نے گلیوں اور نالیوں کی مرمت کے ''کارنامے'' سر انجام دیے ہیں۔

حالانکہ نالیوں اور گلیوں کی مرمت وغیرہ بلدیاتی اداروں کی ذمے داری ہوتی ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان حکومت میں آنے کے بعد ترقیاتی فنڈز کے زور پر انتخابات جیتنے کی طرف توجہ دیتے ہیں ، الیکشن جیتنے کے لیے فنڈز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر قومی و صوبائی اسمبلیوں کی ذمے داری تو قانون سازی، اہم ملکی معاملات، بین الاقوامی معاملات پر قومی نقطہ نظر اور خارجہ پالیسی پر کام کرنا ہوتا ہے لیکن یہاں یہ پہلو نظر انداز ہوتا ہے۔ سب کی نظریں ترقیاتی فنڈز اور ملازمتوں کے کوٹے پر ہوتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ سب جان بوجھ کر بلدیاتی نظام کو نظر انداز کرتے ہیں۔

اگر میئر اورڈسٹرکٹ ، تحصیل اور یونین کونسلز کے کونسلر آ گئے تو ترقیاتی کام تو نچلی سطح پر ہونا شروع ہو جائیں گے، پھر ایم این اے اور ایم پی اے کو کوئی نہیں پوچھے گا۔ لوگ اپنے مسائل کے لیے اپنے میئر، چیئرمین یا کونسلر کے پاس جائیں گے تو اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی اہمیت ختم ہو جائے گی جب کہ وہ تو کروڑوں روپے لگا کر انتخابات میں حصہ ہی اس لیے لیتے ہیں کہ انھوں نے علاقے میں اپنی دھاک بٹھانا ہوتی ہے،دوسرا فنڈز کے ساتھ کچھ نہ کچھ کرنا ہوتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بلدیاتی نظام پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے یا پھر وہ اسے خودکشی سمجھتے ہیں۔

لہٰذا وہ اسے روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس نظام کی مخالفت کرتے ہیں۔ اب پاکستان تحریکِ انصاف بھی اسی پر راہ پر چل رہی ہے۔ مسلم لیگ (نواز )نے بھی سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد ہی بادل نخواستہ بلدیاتی الیکشن کرائے۔ دو ہزار سترہ میں ضلع کونسلیں بھی بن گئیں مگر ان کو فعال طریقے سے کام کرنا نصیب نہیں ہوا کیونکہ ایم پی اے ایم این اے حضرات فنڈز اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے تھے۔

مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی جنرل پرویز مشرف کے قدرے بااختیار ضلعی نظام کی سخت مخالف ہیں لیکن جب وہ اقتدار میں آئیں تو ضلعی نظام کو لولہ لنگڑا کرکے بحال کیا گیا ، پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تو اس سے یہ کمزور نظام بھی برداشت نہیں ہوا۔سندھ میں بلدیاتی نظام کے فعال نہ ہونے کے سبب کراچی سمیت سندھ بھر میں بنیادی مسائل میں گونا گوں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ۔

جنرل پرویز مشرف کے بااختیار بلدیاتی ضلعی حکومتوں کے نظام میں انگریز دورکا فرسودہ کمشنری نظام ختم کردیا گیا تھا۔ضلعی نظام میں منتخب ناظمین کو مکمل مالی و انتظامی اختیارات حاصل تھے اور کمشنر، صوبائی سیکریٹریز اور ڈپٹی کمشنروں کے عہدے تبدیل کرکے انھیں ملک بھر میں ضلعی حکومتوں میں ڈی سی او اور ای ڈی اوز اور اسسٹنٹ کمشنروں کو ٹی ایم او بنایا گیا تھا اور وہ منتخب ناظمین کے ماتحت تھے اور کہا نہ ماننے پر متعدد ناظمین نے ان کے تبادلے بھی کرادیے تھے ۔

بیوروکریسی منتخب ناظمین کے ماتحت تھی، جس سے عوام کے نچلی سطح پر بااختیار ہونے کا احساس اجاگر ہوا تھا اور ارکان اسمبلی ضلعی ناظمین کی بااختیاری کو اپنی ہتک سمجھتے تھے اور ان کی بلدیاتی مداخلت ختم ہوگئی تھی۔ ملک بھر کے ناظمین کو صوبائی و وفاقی وزارتوں کی بجائے قومی تعمیر نو بیورو کے ماتحت رکھا گیا تھا جس سے محکمہ بلدیات کی اہمیت ختم ہوکر رہ گئی تھی اور ناظمین اپنے حاصل اختیارات میں کھل کر آزادی سے کام کرتے تھے جس کی وجہ سے ارکان اسمبلی اور بیوروکریسی کو ضلعی نظام پسند نہیں تھا۔

حقیقت تو یہ ہے کہ بلدیاتی نظام کی فعالیت اور موثر ہونے کے بہت فوائد ہیں۔ سب سے زیادہ فائدہ یہ ہو گا کہ ہر سال جو ہمارا ترقیاتی بجٹ خرچ نہ ہونے کی وجہ سے ضایع ہو جاتا ہے، یا ترقیاتی کام صرف فائلوں کی حدتک ہوتے ہیں وہ زمین پر نظر آئیں گے۔ اس نظام کے تحت ہر علاقے کی عوام کو اس علاقے کے لیے مختص شدہ بجٹ کا علم ہو گا اور وہ اس بجٹ کے خرچ کے متعلق معلومات بھی رکھ سکیں گے۔بلدیاتی نظام بحال ہونے کی صورت میں ممبران قومی اور صوبائی اسمبلی اپنے اصل کام کی طرف توجہ دے سکیں گے اور اس طرح قومی سطح پر اچھی پالیسز مرتب کر سکیں گے اور خطہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔

بلدیاتی نظام کی وجہ عام سیاسی کارکنان کی بھی حکومتی معاملات میں شراکت ہوتی ہے اور وہ کارکنان جو دن رات اپنی سیاسی پارٹی کو مضبوط کرنے میں مصروف عمل رہتے ہیں ان کو ان کی محنت کا ثمر بھی مل جا تا ہے اور اس نظام کی بدولت سیاسی ورکرز کے متعلق عوام میں اعتماد بڑھے گا ،بلدیاتی نظام ہونے کی صورت میں عوام کو اپنے ووٹ کی اہمیت اور طاقت کا اندازہ ہو گا اور عوام بخوشی اپنے اس حق کا استعمال کریں گے۔

اس نظام کی بحالی کی صورت میں ہمیں اچھی اور باکردار قیادت مل سکے گی،چونکہ بلدیاتی نظام در اصل سیاست کی نرسری ہوتا ہے اور اس نظام سے اچھے اورقابل مقامی قیادت میسر آئے گی، چونکہ پہلے کوئی بھی ممبر لوکل سطح پر اپنی پالیسیزدے گا اور ان پالیسیز سے اس علاقے میں کیا ڈویلپمنٹ ہوئی ہے پھر اگر وہ ممبر لوکل باڈیز اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لینا چاہیے گا تو عوام علاقہ اس کی لوکل سطح کی کارگزاری کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے حق یا مخالفت میں با آسانی فیصلہ کر سکیں گے۔

ان سطور کے ذریعے پی ٹی آئی کی حکومت سے درد مندانہ اپیل ہے کہ وہ بلدیاتی نظام کو حقیقی معنوں میں کام کرنے کے مواقعے مہیا کرے تاکہ عوامی مسائل جلد ازجلد حل ہوسکیں۔

مقبول خبریں