فیٹف زراعت اور عالمی مہنگائی

پاکستان کو ایف اے ٹی ایف اور ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی) کی دہری نگرانی کا سامنا ہے۔


Editorial October 23, 2021
پاکستان کو ایف اے ٹی ایف اور ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی) کی دہری نگرانی کا سامنا ہے- فوٹو:فائل

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کو چار ماہ کے لیے گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اگلا جائزہ اجلاس فروری 2022 میں ہوگا۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق فیٹف نے19اکتوبر سے 21 اکتوبر تک اپنے اجلاس میں پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور فیٹف نکات پر پاکستان کی نمایاں پیش رفت کو سراہا۔

پاکستان نے2021 کے ایکشن پلان کے سات میں چار نکات پر مقررہ مدت سے پہلے عملدرآمد کرلیا۔ باقی تین نکات میں بھی پاکستان نے مقررہ مدت سے پہلے ہی خاطر خواہ پیش رفت کی ہے، باقی نکات پر جلد عمل کر لیا جائے گا۔ فیٹف پاکستان کا اگلا ریویو فروری2022 میں کرے گا۔ اجلاس میں پاکستانی وفد کی سربراہی وزیر توانائی محمد حماد اظہر نے کی۔

فیٹف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ ایک لٹکتی تلوار کی طرح رکھا ہے، فیٹف کے صدر نے پاکستان کے معاونتی کردار کی تعریف کی ہے اور اس کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔

صدر نے کہا کہ پاکستان کو بلیک لسٹ نہیں کیا ہے، اس نے اپنے اہداف کو پورا کیا ہے، لیکن جن نادیدہ حریف قوتوں نے پاکستان کو اس کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں اعصاب شکن صورتحال سے نکلنے کا موقعہ پھر سے موخر کردیا، وہ عناصر ضرور خوش ہونگے لیکن پاکستان نے عزم کر رکھا ہے کہ وہ فیٹف کے چیلنج کو بھی دیگر چیلنجز کی طرح منطقی انجام تک پہنچا دیگا اور ملک کو اقتصادی ٹاسک میں سرخرو کر ہی دم لے گا۔ وزارت خزانہ نے کہا پاکستان دونوں ایکشن پلانز کے مکمل اہداف کے حصول کے لیے پر عزم ہے۔

ایف اے ٹی ایف نے تمام ایکشن پلانز پر پاکستان کے عملدرآمد پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اجلاس میں2018 کے ایکشن پلان میں 27 نکات کے آخری نکتے پر عملدرآمد میں پیش رفت کو بھی سراہا گیا۔ فیٹف کو ایکشن پلانز کے بارے میں جامع رپورٹ پیش کر دی گئی۔ پیرس میں ہونیوالے فیٹف اجلاس کی صدارت جرمنی نے کی، عالمی نیٹ ورک اور مبصر تنظیموں کے 205 ارکان کے وفود نے فیٹف پلینری کے ہائبرڈ اجلاس میں حصہ لیا۔

پاکستان کو ایف اے ٹی ایف اور ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی) کی دہری نگرانی کا سامنا ہے اور پاکستان دونوں محاذوں پر کام کر رہا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے پہلے ایکشن پلان کا ہدف دہشت گردوں کی مالی اعانت کو روکنا تھا جب کہ نئے دیے گئے ایکشن پلان میں توجہ منی لانڈرنگ کے تدارک پر ہے۔ ایکشن پلان کے تحت پاکستان سے کہا گیا تھا کہ منی لانڈرنگ کے قوانین میں ترمیم کرکے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیا جائے یہ بھی کہا گیا تھا کہ ثابت کیا جائے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے نامزد افراد کے خلاف بین الاقوامی تعاون لیا جا رہا ہے۔

ملک میں غیر مالیاتی کاروبار اور پروفیشنل افراد جیسے ریئل اسٹیٹ ایجنٹس، جواہرات کے ڈیلرز، وکلا، اکاؤنٹنٹس اور دیگر کے حوالے سے لاحق خطرات کا جائزہ لینے کے لیے ایسے افراد کی نگرانی اور ان کے خلاف ایکشن کا طریق کار موجود ہے۔

اسی طرح بے نامی جائیدادوں کے خاتمے کے لیے ایسے افراد کے خلاف کارروائی کا نظام وضع کرنے کا کہا گیا تھا۔ ایف بی آر کی طرف سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اس نے ڈی این ایف بی پیز بالخصوص رئیل اسٹیٹ ایجنٹس اور قیمتی دھاتوں اور پتھروں کے ڈیلرز سے متعلق فیٹف اقدامات پر عمل درآمد پہلے رپورٹنگ پیریڈ میں حتمی تاریخ ستمبر 2022سے ایک سال قبل مکمل کر لیا ہے۔

ادھر برطانوی جریدے دی اکنامسٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا کے 42 ممالک میں مہنگائی کی فہرست میں پاکستان کا چوتھا نمبر ہے۔ جب کہ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ اکنامسٹ نے اپنی رپورٹ میں پاکستان جیسے ممالک بیلا روس، جارجیا، گیانا، کرغزستان، آرمینیا، شام، لبنان وغیرہ سے تقابل نہیں کیا ہے۔

جب کہ وزارت خزانہ کے جاری ٹیبل میں مہنگائی کی فہرست والے ممالک میں پاکستان 30 ویں نمبر پر آتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، دی اکنامسٹ میگزین نے اپنی حالیہ اشاعت میں 42 ممالک اور یورپی خطے میں مہنگائی کا جائزہ لیا ہے، جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ارجنٹینا میں مہنگائی کا تناسب سب سے زیادہ 51.4 فیصد ہے، جس کے بعد ترکی میں 19.6 فیصد، جب کہ تیسرے نمبر پر برازیل جہاں مہنگائی کا تناسب 10.2 فیصد ہے، اس کے بعد پاکستان چوتھے نمبر پر ہے جہاں مہنگائی کا تناسب 9 فیصد ہے۔

دی اکنامسٹ نے جن ممالک میں مہنگائی کا جائزہ لیا ہے ان میں امریکا، چین، جاپان، برطانیہ، کینیڈا، یورو ایریا، آسٹریا، بیلجیئم، فرانس، جرمنی، یونان، اٹلی، نیدرلینڈ، اسپین، چیک ریپبلک، ڈنمارک، ناروے، پولینڈ، روس، سویڈن، سوئٹزرلینڈ، ترکی، آسٹریلیا، ہانگ کانگ، بھارت، انڈونیشیا، ملائیشیا، پاکستان، فلپائن، سنگاپور، جنوبی کوریا، تائیوان، تھائی لینڈ، ارجنٹینا، برازیل، چلی، میکسیکو، پیرو، مصر، اسرائیل، سعودی عرب اور جنوبی افریقا شامل ہیں۔ جب کہ وزارت خزانہ کے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دی اکنامسٹ نے پاکستان کا تقابل ہیٹی، گھانا، بیلاروس، منگولیا، آرمینیا، مالاوی، ساؤ ٹوم، پرنسپے، بوٹسوانا، ڈومینیک ریپبلک، گیانا، جارجیا، کرغستان، زیمبیا، زمبابوے، سورینام، شام، لبنان، سوڈان اور دیگر شامل ہیں، جیسے ممالک سے نہیں کیا۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ دی اکنامسٹ کی رپورٹ جس میں دنیا میں مہنگائی کے حوالے سے پاکستان کو چوتھے نمبر پر رکھا گیا ہے، اس میں پاکستان کا یکساں معیشتوں سے تقابل شامل نہیں ہے۔ اکنامسٹ شیٹ میں سی پی آئی میں مذکور مہینے ایک جیسے نہیں ہیں (اگست اور ستمبر)۔ وزارت نے ٹیبل بھی منسلک کیا ہے جس میں مہنگائی کے اعداد و شمار بھی موجود ہیں جس کے مطابق پاکستان 30 ویں نمبر پر آتا ہے۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت نے گندم کو 1950 روپے من دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جب کہ ملک بھر میں شکر کی قیمت 90 روپے کلو مقرر کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت حکومت نے 1 کروڑ 48 لاکھ افراد میں 179.3 ارب روپے فی کس 12000 روپے کے حساب سے تقسیم کیے ہیں۔ 2018 میں بی آئی ایس پی کے تحت مختص رقم 121 ارب روپے تھی، جسے بڑھا کر 2022 میں 260 ارب روپے کیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ عالمی صورت حال کو بھی مدنظر رکھا جائے جہاں چین میں پیداواری قیمت گرانی 26 برس کی بلند ترین سطح پر ہے جب کہ کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر کی حکومتوں کے لیے مہنگی غذائی اجناس سب سے بڑا چیلنج ہیں۔

مہنگائی کے گلوبل فینومینا اور مظہر کو پاکستان کی اپوزیشن سیاسی جماعتوں نے چیلنج کیا ہے، اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے عالمی اثرات سے ہر ملک نے اپنے معاشی حالات کے مطابق نمٹنے کا بندوبست کیا۔

دنیا میں کہیں بھی پاکستان جیسی صورتحال نہیں، ہمیں جو صورتحال در پیش ہے وہ چیلنجوں کی کثرت کے باعث پیش آئی ہے، حکمران حقائق تسلیم نہیں کرتے، علاوہ ازیں دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ زراعت بھی ایک اہم فیکٹر ہے، پاکستان کا چھوٹا کاشتکار مہنگائی اور استحصالی نظام کی چکی میں پس گیا ہے، اس کے مسائل کم نہیں ہوئے بلکہ چھوٹا کاشتکار مصائب کا بدترین شکار ہوا ہے، بڑے کاشتکار کے لیے کہا جاتا ہے کہ کاشتکاری میں وہ خود حصہ نہیں لیتے لیکن ان کی زرعی اراضی چھوٹے کاشتکاروں کے منافع اور فوائد کو بھی ظالمانہ طریقے سے ہڑپ کرلیتی ہے، اس زرعی مافیا کو کیفر کردار تک پہنچانا ضروری ہے۔

حکومت نے ماسوائے کسان کی برائے نام امداد و ترقی کے لیے زمین کی کایا پلٹنے کی کوئی فیصلہ کن کارروائی نہیں کی، نہ ایسا میکنزم متعارف کرایا جس سے بڑے لینڈ لارڈز اور طاقتور مافیائی اثرات کے حامل کاشتکاروں سے چھوٹے کاشتکاروں کو چیری دستیوں سے بچایا جاسکتا ہو۔ یہی صورت حال زرعی قرضوں، بیج و کھاد کی فراہمی سے لے کر کسان کی سماجی، تعلیمی اور روزمرہ کی زندگی میں تبدیلی کی کوئی نوید دینا ہوگی۔ کسان کو اس کی جائز محنت کا معاوضہ بھی ملے ایگریکلچر کی ہمہ گیر ترقی اور کسان کے لائف اسٹائل میں بنیادی تبدیلی نظر آنی چاہیے۔

کیا پاکستان غذائی خطرات اور خوراک کی خود کفالت کی حقیقی منزل کے لیے سرگرداں ہی رہے گا ؟ حکومت پر لازم ہے کہ وہ حکومت کو مہنگائی کی بے سمت گلوبل بحث میں زراعت اور اس کے اہم کردار ''کسان'' کے استحقاق اور حقوق کے تحفظ کا عہد پورا کرے۔

اینگرو انڈسٹری کے فروغ اور بارانی علاقوں میں درختوں کو زرعی معیشت سے وابستہ عوام کے لیے مفید سرمایہ کاری کے قابل بنانے کا راستہ بھی ترقی سے جڑا ہوا ہے۔ گلہ بانی پر توجہ دیجیے، مہنگائی کی روک تھام کے لیے ایک واضح راستہ زراعت کے انتخاب کا ہے۔ کسان کو اس کا حق دینا در حقیقت ملکی معیشت کو عدم استحکام سے بچانا ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ ایک ایٹمی، زرعی ملک کاسہ گدائی لے کے پھرے۔ در آمدی اشیا کی خریداری کے لیے دکانوں پر قطاریں لگائے، یہ کہاں کا انصاف ہے۔ حکمران اس حقیقت کی سچائی کو پرکھنے کے لیے زراعت کو فوکس کریں اور دیکھیں کہ کیا نتائج سامنے آتے ہیں۔

مقبول خبریں