مہنگائی

وزیراعظم حقیقت حال اگرخود قوم کوبتائیں تو بہترہوگا، اعتبار اوربے اعتباری میں اب وزیراعظم کی حق گوئی ہی مسئلہ کاحل ہے۔


Editorial October 27, 2021
وزیراعظم حقیقت حال اگرخود قوم کوبتائیں تو بہترہوگا، اعتبار اوربے اعتباری میں اب وزیراعظم کی حق گوئی ہی مسئلہ کاحل ہے۔(فوٹو:فائل)

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق گزشتہ 3 سال میں مہنگائی نے 70 سال کے ریکارڈ توڑ دیے۔ کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں دگنی ہوگئیں، گھی، تیل، چینی، آٹا، مرغی کا گوشت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر فروخت ہورہے ہیں۔

ادھر حکمرانوں نے مہنگائی کی حقیقت کو کبھی نہیں مانا، مارکیٹ کی حقیقت کو بھی کبھی تسلیم نہیں کیا، تقریباً تین سال کے بعد حکومت کے لب پر یہ بات آگئی اور بار بار آئی کہ عوام کی مشکلات اور مجبوری کا علم ہے، اس لیے اقدامات کررہے ہیں، انشااللہ جلد بہتری کی صورت نظر آجائے گی۔

وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے مہنگائی میں روز افزوں اضافے پر '' احساس'' کے اظہار تک محدود رہا ، جس سے مراد یہ تھی کہ حکومت کے پاس معاشی مسیحاؤں کا کوئی غیرمعمولی ذہانت رکھنے والا گروپ نہیں ، جو ملک اور عوام کو اس مہنگائی، افراط زر اوربے جا ٹیکسوں سے نجات دلانے کی کوئی نوید دے۔ آج بھی سب عوام کو یقین دلاتے رہتے ہیں کہ اچھے دن آرہے ہیں، گھبرانے کی بات نہیں، لیکن سیاسی صورتحال اب اقتصادی اور معاشی صورتحال کی مشترکہ ابتری کا اشارہ دے رہی ہے۔

مڈل کلاس اور نچلے طبقات کو مہنگائی نے ذہنی دباؤکے ساتھ ساتھ فکری اور اعصابی طور پر نڈھال کردیا ہے۔ روز مرہ استعمال کی اشیاء ضروریہ جس رفتار سے سرکاری نرخوں سے آزاد ہوگئی ہیں ، اس نے 70 سالہ ریکارڈ تین سال میں توڑ دیا ہے، ایسی صورتحال کیسے عوام کو قابل قبول ہوگی۔

خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والے تو غربت، بیروزگاری اور مہنگائی کے عذاب جھیلتے ہوئے جمہوری ثمرات کی امید میں جی رہے تھے لیکن حکمرانوں نے مہنگائی کو عارضی مسئلہ قرار دے کر یہ تسلیم کرلیا کہ اس بھاری پتھرکو روکنے کا ان کے پاس کوئی سائنسی فارمولہ، معاشی نسخہ اور اقتصادی چراغ بھی نہیں ہے کہ اسے گھس کر عوام کو دو وقت کی روٹی دی جائے۔

ملکی نظام ہوشربا چیلنجز کے انبار تلے آگیا ہے، ایسا قحط الرجال ہے کہ حکومت کو اپنے ماہرین میں ایسا کوئی جوہر قابل نہیں ملا جسے میدان معیشت میں اتارا جائے جو سنگاپور کے لی کوان یو اور ڈاکٹر محبوب الحق کا ہم پلہ ہو جو عوام دکھ درد کا علاج کرسکے، مشکل یہ ہے کہ حکومت کے پاس گفتار کے غازیوں کا بے ہنگم ہجوم تو ہے مگر معیشت کا قابل ڈاکٹر موجود نہیں اور جو موجود ہیں نہ ان میں اہلیت تھی نہ ہے اور نہ وقت، جو قیمتی وقت وزرا، مشیر اور دیگر حکام کو دستیاب تھا وہ الزام تراشی اور بلیم گیم کی نذر ہوتا رہا۔

تین سال میں حکمراں یہ بھی فیصلہ نہ کرسکے کہ ان کا اصل معاشی دشمن کون ہے، مافیاز کہاں چھپے ہوئے ہیں، حکومت کی دوسری مشکل یہ ہے کہ فیصلے ہو جاتے ہیں لیکن ادھورے فیصلے کسی کام نہیں آتے، سیکڑوں فیصلہ کن مرحلے بیکار چلے جاتے ہیں، مشکل فیصلے ہوتے ہیں تب بھی عوام کی تقدیر بدلنے کی کوئی نوید نہیں لاتے۔ افلاطون نے کہا تھا کہ حکمرانی ایک آرٹ ہے، کسی کو اگر 22 کروڑ عوام کی زندگی بدلنا ہے تو وہ سیاسی تجربات، دانش و حکمت اور سیاسی بصیرت سے کام لے سکتا ہے۔

چین کا ذکر تو ہمارے اہل ہنر بہت شد و مد سے کرتے ہیں لیکن چینی حکمت عملی کا ایک باب بھی کسی نے نہیں کھولا، غربت ہی کو لیتے اسے ہی ختم کرنے توجہ صرف کرلیتے ، لیکن ''اس کو چھوڑ، اس کو پکڑ '' کی پالیسی میں کوئی کام نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا، یہ المیہ ہے کہ سونامیوں کی یلغارکا شور ہے، عوام بے حد مجبور ہوگئے ہیں، فاقوں تک نوبت آگئی ہے، کوئی مرکزی طاقت مارکیٹ میں اپنی کنٹرولنگ اتھارٹی قائم نہیں کرسکی، ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو between the devil and the deep sea جیسے سیناریو کا سامنا ہے۔

بڑی دھوپ پڑ رہی ہے، کوئی سائبان نہیں ہے جیسی صورتحال ہے،لہٰذا دور اندیشی کا تقاضہ ہے کہ وزیراعظم بلا تاخیر زمینی حقائق کا جائزہ لیں اور جن نظروں پہ ان کا سوز حکیمانہ کھلے، ان سے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی مشاورت کریں، اگر محبت اور جنگ میں ہر چیز جائز ہے تو سیاست میں بھی ذاتی دشمنی نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی، یہ ملک ہم سب کا ہے، مملکت خداداد کو جو مسائل درپیش ہیں اہل سیاست کے سامنے رکھیں اور ملک کو اس ہیجانی وبحرانی کیفیت اور مہنگائی کے سب سے بڑے چیلنج سے نکالیں۔

سیاسی صورتحال کی بہتری کا سوال حل کرتے ہوئے حکمرانوں کو ریاستی سسٹم کی خرابیوں کو پیش نظر رکھنا ہوگا ، ملک میں جمہوری حکومتیں بھی آئیں، ان میں کچھ بے ضرر حکومتیں بھی تھیں جن کو خانہ پری کے لیے لایا گیا لیکن ان کے وزراء اعظم نے مہنگائی اور بیروزگاری کے مسائل کو سنگین لیول تک نہیں پہنچایا، موجودہ حکومت نے اول تو عوام کی توقعات کے پہاڑ کھڑے کر دیے، ووٹرز کے لاشعور میں یہ بات بٹھا دی گئی کہ سابقہ رہنما سب چور اور لٹیرے تھے، اور اس بار جو حکومت آئے گی وہ پاک دامنی میں اول نمبر لے جائے گی۔

عوام نے یہ حقیقت بھلا دی کہ پورے سسٹم کی اوور ہالنگ کی ضرورت ہوگی، پاور اسٹرکچر کو دیکھنا ہوگا ، سیاست دانوں کی قلب ماہیت آسان نہیں ہوگی، فرشتے کہاں سے لائیں گے، لیکن عمران خان نے جنون پیدا کرکے حقیقی سیاسی بہتری کے لیے جو مہلت طلب کی وہ بھی بلیم گیم میں ضایع ہوگئی، کو یہ پارٹی کیڈر نہ بن سکا، احتساب اور بیوروکریسی اور انتظامی معاملات کسی بڑے شیک اپ کے بغیر جاری رہے، یعنی سسٹم کی تطہیر نہیں ہوسکی، یہیں سے خرابی نے سر اٹھایا۔ بات وہیں کی وہیں رہی۔

ایک کثیر جہتی اور ہمہ گیر تبدیلی جو حقیقت میں آنی تھی وہ تشنہ طلب رہی، ملکی سیاسی اور جمہوری نظام میں بہتری بھی ہنگامہ پروری کی نذر رہی، سارا وقت اپوزیشن اور حکومت کی کشمکش میں ضایع ہوگیا۔

جن قوموں نے ترقی کی انھوں نے اپنے معاشی پروگراموں کی تکمیل احتیاط سے کی، کیونکہ کسی سسٹم کی بنیاد رکھنے کے لیے بھی کسی فلاسفہ اور میکنزم کی ضرورت پڑتی ہے، لیکن عمران خان کو جو ٹیم ملی وہ بھی سکروٹنی کے ایک شفاف ڈھانچہ کی بنیاد ڈالنے میں کامیابی سے دوچار نہ ہوسکی۔

وہی خرابیاں آج بھی چل رہی ہیں ،کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آسکی۔ حزب اختلاف شہباز شریف آئی ایم ایف کی شرائط پارلیمنٹ میں لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ ڈالرکی قیمت میں مزید اور مسلسل اضافہ قومی معیشت کے لیے تباہ کن اور قومی سلامتی کے تصور کے لیے خطرناک ہے۔

روپے کی قیمت گر رہی ہے، ملک میں مہنگائی بڑھ رہی ہے، روپیہ 15 فیصد گر گیا ہے۔پاکستان کی تاریخ گواہ ہے ڈالر کی قیمت میں اضافے سے ہمیشہ مہنگائی بڑھی ہے۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے سے عوام کنگال ہورہے۔ سوال یہ بھی کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ ختم نہیں ہوا تو پھر کیا طے پایا ہے، اصولی طور پر تو اس حوالے سے حقائق پارلیمنٹ کو بتائے جائیں۔

دنیا بھر کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آج معیشت سب سے بڑی طاقت ہے، جو ملک معاشی اور اقتصادی طور پر مستحکم ہے، جیب اسی کی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اقتصادی معاملات اور معیشت کی حقیقی صورتحال عوام اور پارلیمنٹ کے سامنے لائے جائے ، تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے۔

وزیر اعظم حقیقت حال اگر خود قوم کو بتائیں تو بہتر ہوگا، اعتبار اور بے اعتباری میں اب وزیر اعظم کی حق گوئی ہی مسئلہ کا حل ہے، کیونکہ مہنگائی رکنے کا نام نہیں لے رہی۔ اب وقت ایک دوسرے پر الزام تراشی کا نہیں، بھوک غریبوں کے گھروں پر دستک دے رہی ہے۔

سفید پوش لوگ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے شرماتے ہیں لیکن یہی صورتحال رہی تو لوگ اپنی شرم وغیرت کو فراموش کریں گے، دو وقت کی روٹی انسان کو مجبور کر دیتی ہے، حکمران اس وقت سے ڈریں جب برصغیر کی جنگ اور غلامی کے قصے عوام نے صرف ادبی افسانوں اور شاعری میں پڑھے تھے، یہ بھی پڑھا تھا، آج حالات بدل چکے ہیں، غربت، بیروزگاری اور مہنگائی نے انسانی اخلاقیات کی دنیا الٹ کے رکھ دی ہے:

دیوانہ آدمی کو بناتی ہیں روٹیاں

خود ناچتی ہیں سب کو نچاتی ہیں روٹیاں

مقبول خبریں