معیشت کو بہتر بنانے کے لیے حکومتی اقدامات

پاکستانی معیشت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت بھرپور کوشش کررہی ہے۔


Editorial October 29, 2021
پاکستانی معیشت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت بھرپور کوشش کررہی ہے۔ فوٹو: فائل

سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو 3ارب ڈالر نقد اور 1.2ارب ڈالر کا تیل فراہم کرنے کے اعلان کے روپے کی قدر پر مثبت اثرات مرتب ہوئے اور پاکستانی کرنسی کی قدر بڑھ گئی۔

انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 2.49 روپے کا اضافہ ہوا اور ڈالر 172.78 روپے کی سطح پر آگیا، جب کہ تولہ سونے کے نرخ7800 روپے سے کم ہوکر 124200 روپے پر آگئے، جو ایک روز قبل 132000 روپے کی بلند ترین سطح پر تھے۔ پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں بھی تیزی کے اثرات غالب رہے۔

موجودہ صورت حال کے تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستانی معیشت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت بھرپور کوشش کررہی ہے ، وزیراعظم عمران خان کا دورہ سعودی عرب انتہائی کامیاب رہا ہے اور سعودی عرب نے ہمیشہ کی طرح اس مشکل گھڑی میں ہماری مالی معاونت کی ہے، جس کے مثبت اثرات آنے والوں دنوں میں پاکستانی معیشت پر مرتب ہوں گے ، اگر ملک میں معاشی ڈسپلن ہو جائے تو پاکستان میں کثیر بیرونی سرمایہ کاری ممکن ہے کیونکہ پاکستان 22کروڑ لوگوں کی مارکیٹ ہے اور یہاں منافع کمانے کے حد درجہ مواقعے موجود ہیں۔

عوام میں شعور پیدا کیا جائے کہ صرف ملک کی بنی ہوئی اشیا خریدیں۔ آج ملک میں تیار ہونے والی اشیاء کی لاگت اور قیمت درآمدی قیمت سے زیادہ ہے ، اس کی وجہ غیر ضروری ٹیکس اور توانائی کی قیمت ہے، اگر ہم بازاروں میں جائیں تو آپ کو فرنیچر، باتھ ٹائلز چاکلیٹ، بسکٹ، کپڑے اور نہ جانے کیا غیر ضروری اشیاء درآمد شدہ ملتی ہیں، اگر ان کو بند کردیا جائے تو نہ صرف زر ِمبادلہ کی بچت ہوتی ہے بلکہ ملک میں بھی ان کی پیداوار بڑھے گی۔ اس طرح ہماری جی ڈی پی میں اضافہ ہوگا۔ صدر ایوب خان کے دور میں کوئی ایسی شے بیرون ملک سے درآمد نہیں ہوتی تھی جو کہ ملک میں بنتی ہو۔

آج صورت حال یہ ہے کہ صرف وہی چیز ملک میں بنتی ہے جو کہ درآمد نہ ہوسکے۔ اس امپورٹڈ کلچر نے معیشت کا ستیا ناس کردیا ہے۔ افسوس کہ معاملات کو معاشی کے بجائے سیاسی طور پر لیا جا رہا ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط بھی کڑی ہیں، ان شرائط پر من و عن عمل کرنے کی صورت میں ملک کی جی ڈی پی مزید گرسکتی ہے اور قیمتیں بہت بڑھ جائیں گی۔ اس طرح لوگوں میں بھی بے چینی بڑھے گی۔ ہمیں اگر درآمدات میں کمی درکار ہے تو ان پر ویسے ہی پابندی لگا دی جائے یا اس پر بہت زیادہ درآمدی ڈیوٹی لگا دی جائے تو اس طرح ٹیکس کی شرح میں اضافہ ممکن ہوکر ملکی معیشت کے لیے سود مند ثابت ہوگا ۔

موجودہ معاشی چیلنج جو عام آدمی کو پریشان رکھتا ہے ، اس کی بنیادی وجہ تمام ضروری اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مارکیٹ فورسز کو یوٹیلٹیز' خصوصی طور پر ایندھن اور بجلی کی قیمتوں کی آڑ میں من مرضی سے قیمتیں بڑھانے کی مکمل آزادی ہے۔ عام سرکاری وضاحت یہ ہوتی ہے کہ ایندھن، پام آئل اور دیگر اشیا جو درآمد کی جاتی ہیں کی مقامی قیمتیں بین الاقوامی منڈیوں میں ان چیزوں کی قیمتوں پر مبنی ہوتی ہیں، جہاں یہ مصنوعات مہنگی ہو چکی ہیں۔ دوسری دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ ایندھن اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیا پاکستان میں پڑوسی ملکوں کے مقابلے میں اب بھی سستی ہیں۔

ان دلائل میں کچھ سچائی ہے' تاہم کسی ملک کی سیاست کے لیے جو چیز سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ دوسرے ممالک کی قیمتوں کی فہرستیں نہیں بلکہ قیمتوں میں اضافے کے اکثریتی آبادی پر سماجی و معاشی اثرات ہیں۔ آیا معاشی تفاوت بڑھا ہے یا لوگوں کے پاس قیمتوں میں اضافے کو برداشت کرنے کی مالی صلاحیت ہے؟ پاکستان جیسے ملک میں جہاں معاشی ناہمواری پہلے ہی بہت زیادہ ہے' قیمتوں میں اضافے نے اس عدم مساوات کو بڑھا دیا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کے تناسب سے لوگوں کی قوت خرید میں اضافہ نہیں ہوا' جس سے ملک میں غربت میں اضافہ ہوا ہے۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ اور صنعت کے وسعت اختیار نہ کرنے نے روزگار کے مواقعے کم کردیے ہیں۔ مختلف حکومتی فلاحی منصوبوں' جیسے احساس پروگرام اور قرضوں یا مراعات کے حصول کے لیے مختلف کارڈوں نے آبادی کے ایک حصے کو کچھ ریلیف فراہم کیا ہے، لیکن عام لوگوں کو جس مجموعی معاشی بحران کا سامنا ہے' یہ اس کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ غیر سرکاری سطح پر کچھ فلاحی سرگرمیوں نے آبادی کے غریب طبقے کو کچھ ریلیف فراہم کیا ہے' تاہم سرکاری اور غیر سرکاری خیراتوں پر انحصار کرنے والی معیشت' قابل اعتماد معیشت نہیں ہو سکتی۔ روزگار کے مواقعے بڑھانے اور نجی شعبے کے کاروبار اور صنعتی سرگرمیوں کے لیے ماحول بنانے کی ضرورت ہے۔

یہاں پر اگر ہم تقابلی جائزہ لیں تو بنگلہ دیش اور بھارت کی کرنسی ہم سے زیادہ مضبوط ہے، ان کی برآمدات میں ہر سال 10سے 15 فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ دراصل برآمدات بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ پیداوار بڑھائیں اور پیداواری لاگت میں کمی کریں تاکہ یہ بیرون ملک مقابلہ کرسکیں۔ اسی طرح آپ کی مارکیٹنگ صلاحیتیں بھی بہتر ہونی چاہئیں۔ بیرون ملک سفارت کاروں کو برآمدی ٹارگٹ دیے جائیں۔ آج کے دور میں سفارت کاری کاروبار سے منسلک ہے۔ ملک کے اندر صنعتوں کو فروغ دیا جائے اور بہتر حالات پیدا کیے جائیں۔ اسی طرح ملک سست رفتاری سے باہر آسکے گا۔

اگر ہم ڈیمز، خوراک اور توانائی کو سستی اور وافر مقدار میں ہم اپنے ملک میں پیدا کریں اور عوام کو یہ حسب ضرورت ، سستی اور بغیر کسی مشکل کے ملیں تو معاشی بحران پر آسانی سے قابو پانا ممکن ہوسکے گا اور عام آدمی کو ریلیف بھی مل سکے گا۔ ملک میں ڈیمز بننے سے زمین سیراب ہوگی تو کئی دیہات آباد ہو جائیں گے اور بے روزگاری کا بھی خاتمہ ہو جائے گا اورپانی کی کمی نہ صرف دور ہوجائے گی بلکہ ماہرین کے مطابق تقریباً 2کروڑ ایکڑ زمین آسانی سے آباد ہو سکتی ہے جس سے خوراک وافرمقدار میں پیدا ہوگی۔ پیداواری لاگت انتہائی کم ہوگی کیونکہ اس وقت تھرمل بجلی کئی گنا مہنگی ہے۔

عام لوگوں کے لیے معیشت کو بہتر بنانے کے کئی طریقے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مارکیٹ فورسز کو فی الوقت حاصل مکمل آزادی کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان فورسز میں کمرشل اشرافیہ، خاص طور پر مڈل مین اور بڑے کاروباروں کی تنظیمیں شامل ہیں جو قیمتوں اور مارکیٹ میں سامان کی فراہمی کو کنٹرول کرتی ہیں۔

اسی طرح مارکیٹ کمیٹیاں' جو بااثر کاروباری افراد پر مشتمل ہیں، قیمتوں پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ انھیں اپنی مرضی سے قیمتیں بڑھانے کی آزادی نہیں دی جانی چاہیے۔ اسی طرح کچھ تھوک فروش اور خوردہ فروش روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہیں اور بہانہ یہ بناتے ہیں کہ قیمتیں ان لوگوں نے بڑھائی ہیں جو انھیں یہ سامان سپلائی کرتے ہیں۔ صارفین کے پاس ان کے بیان کی سچائی کو چیک کرنے کا کوئی طریقہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مارکیٹ فورسز قیمتوں میں اضافے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتی ہیں کیونکہ سب کا مقصد منافع کمانا ہوتا ہے۔

ملک میں ایک اور بڑا مسئلہ سرکاری اداروں کا خسارہ ہے۔ افسوس ابھی تک کوئی پالیسی نہیں بنائی گئی۔ اسٹیل مل اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں خسارے میں ہیں۔ ان تمام اداروں کو منافع بخش بنانے کے لیے ضروری اقدامات کی ضرورت ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ خسارے میں چلنے والی تقسیم کار کمپنیوں کے بجائے منافع والی کمپنیوں کو نجی شعبے کو دیا جارہا ہے، اس طرح سے معاملات حل نہیں ہوسکتے۔ ملک میں جرات مندانہ اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ فوری طور پر ڈیم بنائے جائیں۔ خاص طور پر کالا باغ ڈیم جو کہ سب سے جلدی اور کم رقم میں بن سکتا ہے۔

معیشت ایک سنجیدہ مسئلہ ہے ، اسے سیاسی طریقے سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان ایک بہت ترقی پذیر معیشت رہا ہے لیکن صرف سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے آج تباہ حال معیشت کا حامل ہے ، اگر ہم نے اپنی معیشت کو سنجیدگی سے اور جرات مندی سے نہ چلایا تو حالات بگڑ سکتے ہیں، کوئی بھی ملک ایسے حالات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ آج بنگلہ دیش اور ویت نام بھی پاکستان سے آگے ہیں۔ کل اور بہت سے ممالک بھی ترقی کی دوڑ میں پاکستان کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں، اس لیے معاشی سنجیدگی کی اشد ضرورت ہے۔

مقبول خبریں