حکومت پہلے بتادیتی کہ طالبان کمیٹی میں اپنا رکن ڈالیں پروفیسر ابراہیم

مذاکرات اوپن ہونے چاہئیں، عارف علوی، وسیم اختر، عباس آفریدی کی کل تک میں گفتگو


Monitoring Desk February 05, 2014
ہم طالبان کو براہ راست سننا چاہتے ہیں کیونکہ صرف ٹیلی فونک رابطہ کافی نہیں۔ فوٹو: فائل

طالبان کی طرف سے مذاکراتی کمیٹی کے نامزد رکن اور جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر ابراہیم نے کہا ہے کہ حکومت کو چار دن پہلے کہہ دینا چاہیے تھا کہ طالبان اپنی کمیٹی میں اپنی شوریٰ کا رکن بھی ڈالیں تاہم مذاکرات میں ابھی ڈیڈلاک نہیں آیا، تھوڑی سی رکاوٹ آئی ہے اور مزید بھی آئیں گی، جنھیں عبورکرلیں گے۔

انھوں نے ایکسپریس نیوز کے پروگرام کل تک میں میزبان جاوید چوہدری سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ہم طالبان کو براہ راست سننا چاہتے ہیں کیونکہ صرف ٹیلی فونک رابطہ کافی نہیں، ان سے ملاقات شمالی وزیرستان کے علاوہ کہیں بھی ہوسکتی ہے۔ پروفیسر ابراہیم نے مزید کہا کہ پشاوردھماکا افسوسناک اور قابل مذمت ہے، ان حملوں کی روک تھام ہونی چاہیے، حکومت، طالبان اور فوج تحمل وبرداشت سے کام لیں۔ تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی نے کہا کہ طالبان سے مذاکرات میں کوئی مشکل درپیش ہوئی تو نوازشریف کی طرح عمران خان بھی اس میں شامل ہوسکتے ہیں تاہم ابھی اس کا مرحلہ نہیں آیا۔

 photo 2_zpsc816d7d0.jpg

انھوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ مذاکرات اوپن ہونا چاہئیں، انھیں کم مدتی سمجھا جارہاہے تاہم یہ طویل ہونگے، دھچکے بھی لگیں گے۔ سینیٹر عباس آفریدی نے کہا مذاکرات کی ناکامی کی کوشش کرنے والے بیرونی ہاتھ دھماکے کرارہے ہیں، ہمیں وہ ہاتھ ڈھونڈھنا چاہئیں کیونکہ پہلے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے والے اب کہہ رہے ہیں کہ وہ یہ دھماکے نہیں کرا رہے۔ ایم کیوایم کے رہنما وسیم اخترنے کہا عمران خان کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ اگر مذاکرات کیلیے کوئی تیار نہیں ہے تو مجھے کرنے دیں، طالبان نے انھیں مذاکرات کیلیے نامزد کیا ہے تو وہ سیاست چھوڑ کر ملک وقوم کیلیے یہ فرض ادا کریں۔