بلین ڈالر سوال

آدھی رات میں صرف ایک منٹ باقی ہے اور ہمیں فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے‘۔


Editorial November 03, 2021
آدھی رات میں صرف ایک منٹ باقی ہے اور ہمیں فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے‘۔ فوٹو: سوشل میڈیا

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ عالمی رہنماؤں کو 'انسانیت کو بچانے' کے لیے کام کرنا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی تاریخی دو روزہ سربراہی اجلاس ماحولیاتی سمٹ سی او پی 26 کے لیے 120 سے زائد سربراہان مملکت اور حکومتیں گلاسگو میں اکٹھی ہو رہی ہیں جس کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ تباہ کن گلوبل وارمنگ سے انسانیت کے راستے کو علیحدہ کرنے کے لیے بہت اہم ہے۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا کہ 'آدھی رات میں صرف ایک منٹ باقی ہے اور ہمیں فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے'۔ سی او پی 26 کو پیرس معاہدے کی مسلسل عملداری کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے جس پر ممالک نے 2015 میں عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو دو ڈگری سیلسیس تک محدود کرنے اور محفوظ 1.5 ڈگری کیپ کے لیے کام کرنے کا عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔

صنعتی انقلاب کے بعد سے گرمی میں 1 ڈگری تک گرمی میں اضافے کے بعد سے دنیا میں شدید ہیٹ ویوز، سیلاب اور طوفان دیکھے گئے ہیں جب کہ سمندر کی سطح میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تباہی کا موجودہ دور 'عالمی تاریخ میں ایک اہم موڑ' ہے۔

حکومتوں پر دباؤ ہے کہ وہ اپنے اخراج میں کمی کے وعدوں کو دوگنا کریں تاکہ انھیں پیرس کے اہداف کے مطابق لایا جا سکے اور ترقی پذیر قوموں کے بجلی گھروں کو دھوئیں سے پاک بنانے کے لیے طویل عرصے سے وعدہ شدہ نقد رقم لگائی جائیں اور مستقبل کے حادثات سے بچا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'بہت ہوگیا کاربن سے خود کی جان لینا، نیچر کو ایک بیت الخلا کی طرح نہیں سمجھنا چاہیے، ہم اپنی قبریں خود کھود رہے ہیں'۔

بورس جانسن نے کانفرنس کے ناکام ہونے پر 'قابو میں نہ آنے والے' عوامی غصے کی بات کی۔ 18 سالہ ماحولیاتی مہم چلانے والی گریٹا تھنبرگ، جو ہزاروں دیگر مظاہرین کے ساتھ گلاسگو میں ہیں، کی بات کرتے ہوئے انھوں نے سربراہی اجلاس پر زور دیا کہ وہ فالتو کاموں میں مصروف نہ ہو۔ عالمی رہنماؤں اور سرگرم سماجی کارکنوں اور ایکٹی وسٹوں نے بڑی چشم کشا باتیں کی ہیں، موسمیاتی تباہیاں ہماری عالمی دہلیز پر دستک دے رہی ہیں لیکن دنیا ابھی تک تنگ نظرانہ جنگوں، سرحدی جھگڑوں، مہاجرت، دہشتگردی اور مہنگائی کے مسائل میں الجھی ہوئی ہیں۔

ان کے ذہن اپنے مرکز سے ہٹے ہوئے ہیں، انھیں انسانیت کی کوئی فکر نہیں، یاد رہے گزشتہ دنوں میڈیا نے کراچی میں سطح آب کے بلند ہونے کی اطلاع دے کر تشویش پیدا کی، اس رپورٹ کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سانڈ ٹیکنالوجی نے خبردار کیا تھا کہ بدین اور ٹھٹھہ کو 2060تک شدید سمندری طوفان کا خطرہ ہوگا، اس سمندری خدشہ کے بعد کراچی بھی ڈوب سکتا ہے، تاہم اس اطلاع کا تعلق سابق وزیراعظم نواز شریف کے حکومت کے دور سے تھا، مگر طوفان نہیں آیا، ایک دو بار ماہرین پہلے بھی بحیرہ عرب میں سمندری ابھار کی بات کرچکے تھے لیکن دیگر آفات و خطرات کی طرح پاکستانی ساحلی علاقے سمندری طوفانوں سے محفوظ رہے۔

البتہ مہنگائی کے سونامی کا خطرہ بدستور سروں پر منڈلا رہا ہے۔ عالمی رہنما موسمیاتی خطرات کی نشاندہی کر رہے ہیں لیکن پاکستان کو خطے میں بیشمار انسانی چیلنجز در پیش ہیں، افغانستان ایک نیا چیلینج ہے، پاکستان کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتوں کو افغانستان کی مدد کرنے اور اسے انفرا اسٹرکچر کی فراہمی کے لیے خطیر امداد اور انسانی اعانت درکار ہے، ایسا نہ ہو کہ ماضی کی طرح افغانستان کو امریکا فراموش کردے۔

وزیر اعظم عمران خان نے افغانستان کو کیس بہترین انداز میں لڑا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ طالبان کو موقع ملنا چاہیے کہ وہ ان امیدوں اور کمٹمنٹس پر پورا اتریں، انھیں تھوڑی سے سپورٹ اور فنڈز کی ضرورت ہے، لیکن مغرب اور یورپین ملکوں کو ایک دوسرے انداز کے افغانستان کی ضرورت ہے، وہ بالکل تبدیل شدہ افغانستان چاہتے ہیں۔

جو انسانی حقوق کے احترام کو اولیت دیتا ہو، لیکن اس سوال پر مغربی ممالک پاکستان سے جو ضمانت چاہتے ہیں، وہ پاکستان کیسے دے سکتا ہے، پاکستان نے جو کرنا تھا، اس نے کرلیا، لیکن دنیا طالبان کو خود سے الگ کرکے نہ سوچے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک ریاستی سیٹ اپ کے لیے افغانستان کو دنیا کی مالی امداد اور خود افغان اثاثوں کی ضرورت ہے، امریکا کو افغانستان کے فنڈ اور اثاثے فوری واپس کرنے چاہئیں، افغانستان کو اداروں کی تعمیر اور انتظامی سہولتوں کے لیے دنیا سے بڑی سپورٹ کی ضرورت ہے، وہ اسے ملنی چاہیے، ایک اچھی کرکٹ ٹیم افغانستان نے کرکٹ ٹو ٹونٹی کے لیے دنیا کو پیش کردی ہے، اب پولیٹیکل اسپیس کے لیے اسے مزید مدد کی ضرورت ہوگی۔

دریں اثنا مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے ہوگئے ہیں، اسٹیٹ بینک سے متعلق قانون کے لیے آئینی ترامیم کی ضرورت ہے، آئینی ترمیم کے لیے ہمارے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے، آئی ایم ایف کو یہی بات سمجھانے کی کوشش کی ہے مہنگائی ایک عالمی مسئلہ ہے، عالمی قیمتیں میرے کنٹرول میں نہیں ہیں، حکومت تبدیلی، اصلاحات اور احتساب کا نعرہ لے کر آئی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ اسی ہفتے ہو جائے گا میں تو اس حوالے سے ایک دو روز کی بات کر رہا ہوں۔ ایف بی آر اور نیشنل بینک واقعہ کے بعد مزید سائبر حملوں کا خدشہ ہے، دشمن ملک ہمارے پڑوس میں بیٹھا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں لیٹ نہیں ہوںگی صورت حال پر قابو پا لیا گیا ہے۔

مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی دے رہے ہیں۔ قبل ازیں شوکت ترین نے پاکستان سنگل ونڈو لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا سنگل ونڈو کا افتتاح اصلاحات کی جانب اہم قدم ہے، سنگل ونڈو سے تجارت کو فروغ حاصل ہوگا، حکومت ہر شعبے میں بہتری کے لیے اصلاحات جاری رکھے ہوئے ہے۔

پاکستانی تاجروں کے لیے تجارتی مواقع پیدا ہوئے، کاروباری لاگت اور وقت کی بچت سے برآمدات پر مثبت اثرات مرتب ہوئے، گزشتہ دو سال میں کورونا کے باعث سپلائی چین متاثر ہوئی ہے، سنگل ونڈو سے برآمدات میں اضافہ ہوگا، علاقائی تجارت اور جیو اکنامک روابط میں بہتری آئے گی۔ ملک میں گزشتہ ماہ (اکتوبر) کے دوران مہنگائی کی شرح رواں مالی سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی، اس دوران ملک میں مہنگائی کی شرح 9.2 فیصد رہی ہے جب کہ اس پچھلے ماہ (ستمبر) میں مہنگائی کی شرح 9 فیصد تھی۔ اس حوالے سے وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی کی ماہانہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2021 میں مہنگائی کی شرح 9.2 فیصد رہی، ستمبر میں مہنگائی کی شرح 9 فیصد تھی، اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کے مقابلے میں اکتوبر میں شہروں میں مرغی 17.9 فیصد، سبزیاں 15.2 فیصد اور گندم 7.2 فیصد مہنگی ہوئی، ادارہ شماریات کے مطابق اکتوبر 2021میں شہروں میں مہنگائی 9 اعشاریہ 6 فیصد رہی، دیہات میں مہنگائی کی شرح 8اعشاریہ 7فیصد رہی ہے ادارہ شماریات کے مطابق ستمبر کے مقابلے میں اکتوبر میں شہروں میں چکن 17 اعشاریہ 9 فیصد مہنگی ہوئی۔

علاوہ ازیں اکتوبر میں ماہانہ بنیادوں پر سبزیاں 15 فیصد اور گھی 43 فیصد مہنگا ہوا، اکتوبر میں سالانہ بنیادوں پر کوکنگ آئل 40 اور چکن 35 فیصد مہنگا جب کہ اکتوبر کے مہینے میں سالانہ بنیادوں پر گندم 13 اور پھل 16 فیصد مہنگے ہوئے۔ ایل پی جی روپے13مہنگی 217 روپے ہوگئی، چینی پرچون130کلو قیمت ہوگئی، دیگر اشیائے ضروریہ میں بھی بے حساب اضافہ ہوا ہے، عوام کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ حکومت سے کس چیز کے دام کم کرنے کی شکایت کریں کیونکہ عوام کے لیے مہنگائی کی چکی میں روز پس رہے ہیں اور حکمرانوں کو اس کی کوئی پرواہ نہیں، ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ عوام اپنے بجٹ سے ماورا اخراجات کے بوجھ تلے دب گئے ہیں۔

ان کی قوت خرید دم توڑ چکی ہے اور وہ ادھر ادھر سے اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے ہاتھ پیر مار رہے ہیں، جس کی انتہا معاشی انارکی اور غربت و افلاس کے اندھیرے ہیں، انھوں نے خبردار کیا کہ حکومت نے اقتصادی پالیسیوں کی چارہ گری میں جھوٹے وعدوں اور فریب کاریوں کا سہارا لیا تو ملک ایک بڑے معاشی بحران کا شکار ہوسکتا ہے۔

اس وقت ملک میں عوام کے لیے ٹریکل ڈاؤن کے لیے بھی پیسہ نہیں ہے، دوسری طرف وزرا بڑے پیکیج کی باتیں کررہے ہیں، جب کہ ضرورت حقائق سے نظریں چرانے کی نہیں، عوام کو حقیقی معاشی منظرنامہ کے مطابق جو اشیائے ضروری مطلوب ہیں ان کی اگر قیمتیں منجمد کر دی جائیں اور مارکیٹ میں روزمرہ کی اشیا پر سخت کنٹرول کیا جائے تو صورتحال کچھ بہتر ہوسکتی ہے، ایک ماہر اکنامسٹ نے کہا کہ راستے دو ہیں، ایک تو اس اعتراف حقیقت کا کہ حکومت کے پاس معاشی ماہرین کی وہ حکمت اور معاشی فلسفہ نہیں ہے جو کسی ماہر اقتصادیات کے پاس فطری طور پر ہونا چاہیے۔

دوسرا راستہ دوست اور برادر ملکوں کے تجربے، معاشی پالیسیوں اور اقدامات سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ حکومت کے لیے صائب راستہ یہ ہے کہ عوام کو بتائے کہ اصل خرابی کہاں ہیں، اپنی طرف سے حکمرانوں نے سارے گر آزما لیے، ساری ترکیبیں کرکے دیکھ لیں، دوستوں سے امداد بھی لے لی لیکن کب تک؟22 کروڑ کی آبادی والا ملک ایک مستحکم مضبوط و پائیدار اقتصادی نظام کے بغیر کیسے آگے بڑھ سکے گا، ماہرین کا کہنا یہ ہے کہ چین کے تجربے سے حکومت نے کیا فائدہ اٹھایا؟ اس بلین ڈالر سوال کا جواب حکومت سے سننے کے لیے عوام بے چین ہیں۔

مقبول خبریں