نیا افغان قانون خواتین پر تشدد کرنیوالوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے امریکی ادارہ برائے انسانی حقوق

بل میں ایسی شقیں شامل ہیں جوخواتین کو گھریلو تشدد اور زبردستی شادی جیسے معاملات میں قانونی تحفظ فراہم نہیں کرتیں


AFP February 05, 2014
افغان پارلیمنٹ کی جانب سے گزشتہ سال اس قانون کی منظور دی گئی تھی فوٹو: اے ایف پی/ فائل

انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے امریکی ادارے نے افغان پارلیمنٹ کی جانب سے خواتین پر گھریلو تشدد اور ان کی زبردستی شادی کے حق میں بنائے جانے والے قانون کی مخالفت کرتے ہوئے صدر حامد کرزئی اسے مستردکرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نامی ادارے کا کہنا ہے کہ افغان پارلیمنٹ کی جانب سے بنائے جانے والے "کریمنل پروسیجر لا" نامی قانون میں خواتین پر تشدد کرنے اور ان کی زبردستی شادی کرانے والے افراد کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے اس لیے صدر حامد کرائی اس بل کو مسترد کریں اور اسے نئی ترامیم کے ساتھ واپس پارلیمنٹ کو بھیجیں۔

دوسری جانب صدر حامد کرزئی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ صدر کی جانب سے قانون کو منظور یا مسترد کیے جانے کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے اور نہ ہی انہیں ابھی یہ معلوم ہے کہ آیا کہ قانون کا مسودہ ابھی تک صدر کو ارسال بھی کیا گیا ہے یا نہیں ۔

واضح رہے کہ افغان پارلیمنٹ کی جانب سے گزشتہ سال اس قانون کی منظور دی گئی تھی جس کے بعد قانونی ماہرین کا کہنا تھا کہ بل میں ایسی شقیں شامل کی گئیں ہیں جو خواتین کو گھریلو تشدد اور زبردستی شادی جیسے معاملات میں قانونی تحفظ فراہم نہیں کرتیں۔