ایک سنجیدہ کالم

بخدا ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ معاملہ یہاں تک آن پہنچا ہے۔ ہم تو سیدھے سادے پینڈو قسم کے قلم کے گھسیارے ہیں۔۔۔


Saad Ulllah Jaan Baraq February 06, 2014
[email protected]

بخدا ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ معاملہ یہاں تک آن پہنچا ہے۔ ہم تو سیدھے سادے پینڈو قسم کے قلم کے گھسیارے ہیں، اس گھسیارے کا تعلق گھاس سے نہیں بلکہ قلم کی ''گھسائی'' سے ہے' اس لیے یہاں وہاں اور اپنے اردگرد کے معاملات پر قلم گھسائی کرتے تھے کہ اپنی پہنچ بھی بس یہیں تک تھی۔کسی نے بتایا کہ آدمی کی پہچان کا پیمانہ اس کی باتیں ہوتی ہیں کوئی جتنے بڑے معاملات میں گھس کر بلکہ ڈیپ لی گھس کر بڑے بڑے الفاظ لڑھکائے اتنا ہی وہ بڑا کالم نگار بلکہ تجزیہ نگار بلکہ ٹو ان ون یعنی کالم نگار + اینکر بن کر ہی کوئی شہسوار کہلاتا ہے۔

خدا بھلا کرے 'ہمارے ایک ذہین و فطین اور ماہر ترین کالم نگار + تجزیہ نگار + اینکر پرسن کا کہ اس نے ہمیں راز کی باتیں بتائیں، یہ صاحب ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں میدان میں کودے ہیں لیکن وہ جو کسی نے کہا کہ بزرگی بہ عقل است نہ کہ بہ سن و سال چنانچہ چند ہی دن میں چھلانگیں لگاتے ہوئے اونچے مقام پر پہنچے ۔چنانچہ آج کل وہ ''دیسی معاملات'' پر نگاہ غلط انداز بھی نہیں ڈالتے اور صرف ان معاملات کا تجزیہ کرتے ہیں جن کو ''اعلیٰ علین'' معاملات کہا جاتا ہے، ہمارے چونکہ تھوڑے سے واقف کار ہیں اس لیے اپنی نالائقی نارسائی اور تشنہ لبی کا ذکر کرتے ہوئے استدعا کی کہ ہمیں بھی کوئی ایسی ٹپ دے دو جس سے ہم بھی اس کالم نگاری کی کچی پکی جماعت سے نکل کر کم از کم مڈل تک تو پہنچ جائیں۔ اس نے جو زریں مشورہ ہمیں پکڑایا' وہ یہی تھا کہ چھوٹے معاملات کو چھوڑو یہ کیا تم نے مہنگائی، لوڈ شیڈنگ اور کرپشن کو اپنا موضوع بنایا ہوا ہے یہ سب اولڈ فیشن باتیں ہیں اس پر لکھنے سے لوگ تم پر بھی ''عوام'' ہونے کا شک کریں گے

یہ ایک مرد تن آساں تھا تن آسانوں کے کام آیا

اونچے اونچے معاملات کو پکڑو' اگر بین السیاراتی موضوعات نہ بھی ہوں تو کم از کم بین الاقوامی معاملات پر تو لکھو ۔۔۔ ہم نے حقیقت بتاتے ہوئے کہ ہم ان معاملات کو زیادہ سمجھتے نہیں ہیں تو وہ قہقہہ مار کر بولا ۔۔۔ کون جانتا ہے ان معاملات کو اور کون پڑھتا ہے ایسے کالم ۔۔۔ کالم تو سارے وہی لوگ پڑھتے ہیں جو یہ بھی نہیں جانتے کہ امریکا کسی محترمہ کا نام ہے یا امریکا کے صدر کا ۔۔۔ بس بڑے بڑے نام ڈھونڈ کر اپنے کالموں میں گھسیٹا کرو ایسا لکھو کہ کوئی یہ سمجھ ہی نہ سکے کہ کیا لکھا ہے، ہم نے پوچھا پھر؟ بولا پھر ایسا ہو گا کہ پہلے چھوٹے موٹے افسروں کے فون آئیں گے پھر وزیروں اور لیڈروں کے فون آنا شروع ہو جائیں گے اس کے بعد صدر، وزیر اعظم، اسپیکر، امریکی سفیر اور یو این او کے سیکریٹری کے بھی فون اور سلام آنا شروع ہو جائیں گے۔

ہم پھولے نہیں سمائے، پوچھا واقعی ایسا ہو گا، بولا نہ بھی ہو گا تم اپنے کالموں میں یہی لکھا کرو گے۔ سو آج سے ہم بھی بڑے بڑے معاملات پر بڑا بڑا لکھیں گے اور خود کو بڑا بنانے کی کوشش کریں گے سو سب سے پہلے آج کے سب سے بڑے معاملے طالبان اور مذاکرات پر جھپٹتے ہیں، کئی دنوں سے مذاکرات کے چرچے چل رہے ہیں اور یہ چرچے اتنے زیادہ ہو رہے ہیں کہ درختوں کی سوکھی ہوئی شاخیں بھی مذاکرات مذاکرات چلا رہی ہیں جب تیز ہوا چلتی ہے تو پیڑ پتے اور پودے ''شائیں شائیں'' کرنے کے بجائے مذاکرات مذاکرات کرنے لگتے ہیں اور تو اور اس دن ہم نے ایک نلکے سے پانی کو بہتے ہوئے سنا تو شر شر کرنے کی جگہ مذاکرات مذاکرات کی سرگوشیاں سنائی دیں۔حیرت ہے کہ مذاکرات کی ایسی ہوا کہاں سے آئی کہ جس کو بھی لگی وہ مذاکرات مذاکرات پکارنے لگتا ہے، لگتا ہے کہ ہم نے مذاکرات کے کچھ زیادہ کان کھینچنا شروع کر دیے ہیں ٹھہریئے اس میں تھوڑی سی سنجیدگی ڈال کر دیکھتے ہیں، مذاکرات بڑی اچھی چیز ہوتے ہیں مذاکرات کے بغیر اس دنیا کا نظام چل ہی نہیں سکتا بلکہ اگر دیکھا جائے تو زندگی کی گاڑی بھی مذاکرات پر ٹکی ہوئی ہے، یہ بیاہ شادیاں، تقریبات، جلسے جلوس، منڈی مارکیٹ حتیٰ کہ کھانے پینے کی چیزیں تک مذاکرات کے بغیر نہیں بنتیں، مطلب یہ کہ مذاکرات ہی سب کچھ ہیں اور مذاکرات کے بغیر دنیا کا کوئی کام نہیں چل سکتا، اس لیے ثابت ہوا کہ مذاکرات ضروری ہیں۔

ہمارا خیال ہے کہ ہم نے اپنے کالم میں اچھی خاصی سنجیدگی بھی ڈال دی ہے اور فلسفے کا تڑکا بھی لگا دیا ہے البتہ تھوڑی سی کمی جو رہ گئی ہے وہ کچھ بڑے بڑے ناموں کی ہے اس لیے وہ بھی ڈال دیتے ہیں، تاریخ میں جب ہم مذاکرات کا سراغ لگاتے ہیں تو مشہور مؤرخہ ''انجلینا جولی'' نے لکھا ہے کہ مذاکرات کی ابتدا پہلی مرتبہ پندرہ سو قبل مسیح میں فرعون اور حضرت موسیٰ ؑ کے درمیان ہوئی، مشہور محققہ کنڈولیزا رائس کا بیان ہے کہ سقراط بھی مذاکرات کا بڑا قائل تھا اور ایتھز والوں کے ساتھ اس کے مذاکرات ہوئے تھے۔ بہر حال چھوڑیے ان ساری باتوں کو اب ہم پوری سنجیدگی سے یہ کہے دیتے ہیں کہ مذاکرات ہی وہ راستہ ہے 'جس پر چل کر کسی ایسی جگہ پہنچا جا سکتا ہے جہاں پر سبزہ ہو 'ظاہر ہے کہ جس جگہ سبزہ ہو گا وہاں میٹھا پانی بھی موجود ہو گا ۔جہاں پانی ہو گا وہاں زندگی ہو گی۔ تو میرا یہی مشورہ ہے کہ جو لوگ آپس میں مذاکرات کر رہے ہیں 'وہ اپنی پوری توجہ اس راستے کی طرف رکھیں جو سبزہ کی طرف جاتا ہے۔