مہنگائی پر قابو پانے کی تدبیرکیجیے
عالمی سطح پر مہنگائی ضرور ہوئی ہے لیکن پاکستان میں سبزی، دال، گوشت وغیرہ کی قیمتیں ساتویں آسمان پر پہنچ گئی ہیں
ملک کے متعدد شہروں میں چینی 160روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے ،حکومتی ہدایات اور سرکاری نرخنامے کو نظر انداز کردیا گیا ہے،ذخیرہ اندوز مصنوعی بحران پیدا کر کے منافع کمانے میں مصروف ہیں جب کہ انتظامیہ ذخیرہ اندوزوں کے گودام سیل کررہی ہے اور دکانداروں پر بھاری جرمانے بھی عائد کیے جا رہے ہیں ، لیکن اس کے باوجود صورتحال معمول پر نہیں آرہی۔
یہ خبریں ایک ایسے وقت سامنے آرہی ہیں جب چند روز قبل وزیراعظم عمران خان یہ اعلان کرچکے ہیں کہ ان کی حکومت ملک کے دو کروڑ خاندانوں کے لیے آٹا، دال اور گھی پر30 فیصد تک ٹارگٹڈ سبسڈی دے گی اور اس پیکیج کے لیے 120ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔اشیائے خورونوش عوام کی پہنچ سے دور ہوچکی ہیں، مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی نے لوگوں کو ذہنی کوفت میں مبتلا کر دیا ہے،دوسری جانب وزارت خزانہ کے ترجمان نے چینی کی قیمت پر ایک بیان میں کہا ہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی کراچی میں 130 روپے کلو فروخت ہورہی ہے،سب کے لیے خبر ہے 15نومبر سے گنا کرشنگ شروع ہوجائے گی اور مارکیٹ خود ہی 85 سے 90 روپے فی کلو پر آجائے گی،اس کے علاوہ یوٹیلیٹی اسٹورز اور سستا بازار میں چینی 90 روپے کلو دستیاب ہے۔
یہ بات درست ہے کہ عالمی سطح پر مہنگائی ہوئی ہے لیکن اگر ہم پاکستان کی بات کریں توخوردنی اشیا مثلاً سبزی، دالیں، گوشت اور دیگر اشیا کی قیمتیں ساتویں آسمان پر پہنچ گئی ہیں۔ ہر قسم کی مہنگائی کی سطح عروج پر ہے جو غریب عوام کی مشکلات میں ناقابل بیان اضافہ کا سبب بن رہی ہے۔ معاشرے کا کون سا ایسا طبقہ ہے جو اس کمر توڑ مہنگائی سے براہ راست متاثر نہ ہوا ہو۔ غریب اور مزدور طبقے کی تو بات ہی مت پوچھیے ان کے یہاں تو چولہا جلنا بھی دشوار ہو گیا ہے۔
پاکستانی معیشت کا اتار چڑھاؤ عدم استحکام کا شکار ہے جو اصل اور بنیادی مسئلہ ہے۔ پٹرول، ڈیزل اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ صرف مہنگائی بڑھنے کا ہی نہیں بلکہ گداگری اور غربت میں اضافے کا بھی دوسرا نام ہے۔ لوگ مہنگائی کے سبب پیٹ کاٹ کاٹ کر جینے پر مجبور ہیں۔ بیشتر گھرانے ایسے ہیں، جہاں مہینے کا اکٹھا سامان لانے کا رواج روز بروز ختم ہوتا جا رہا ہے ان لوگوں کا کبھی خیال نہیں رکھا جاتا جو پورا دن فٹ پاتھوں پر بیٹھ کر مزدوری کی تلاش میں رہتے یا جو اعلیٰ تعلیم کے باوجود دس پندرہ ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔
افراط زر اب بھی بلند سطح پر ہے۔اصول کے مطابق تو بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر حکومت عوام کو سبسڈی دے سکتی ہے لیکن آئی ایم ایف یہ سبسڈی دینے سے سختی سے منع کرتا ہے جس کی وجہ سے مہنگائی اوپر جاتی ہے اور عام آدمی کی زندگی میں مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ آئی ایم ایف کی شرائط کی وجہ سے حکومت نے بڑے پیمانے پر نجکاری کی ہے جس کی وجہ سے صرف گزشتہ تین سالوں میں تقریباً دو کروڑ کے قریب لوگ بے روزگار ہوئے ہیں۔ ایک طرف آئی ایم ایف کی پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان آ رہا ہے اور دوسری طرف نجکاری کی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں افراد بے روزگار ہو رہے ہیں ۔
متعدد معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ آئی ایم ایف سے کامیاب مذاکرات کے نتیجے میںپاکستان کی مالی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں کیونکہ عالمی مالیاتی ادارہ ہمیشہ پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ روپے کی قدر کو کم کرے جس سے معیشت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ دراصل بیلنس آف پے منٹ کے بحران کو حل کرنے کے لیے آئی ایم ایف مطالبہ کرتا ہے کہ روپے کی قدر کم کی جائے، ایسی صورت میں درآمد کردہ اشیا مہنگی ہوجاتی ہیں جس کا اثر پوری معیشت پر پڑتا ہے۔ یہ مہنگائی انڈسٹریل گڈز اور خام مال کے مہنگا ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔
اشیائے ضروریہ کی قیمتیں روپے کی قدر میں تیزی سے کمی اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث 3 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ مہنگائی اگست کے مقابلے میں 8.4 فیصد سے بڑھ کر ستمبر میں 9 فیصد تک پہنچ گئی، اسی عرصے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا۔گزشتہ تین ماہ کے دوران سبزیوں، پھلوں اور گوشت کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہوا ہے۔
جولائی تا ستمبر کے دوران اوسط افراط زر سالانہ بنیادوں پر بڑھ کر 8.58 فیصد ہو گیا، مہنگائی اپریل میں 11.1 فیصد تک بڑھنے کے بعد کم ہونا شروع ہوئی تھی جس کی بنیادی وجہ زرعی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی تھی۔گزشتہ دو برس سے چینی اور گندم کی کم پیداوار کے باعث خوراک جب کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا جس کی وجہ سے دیگر اشیا کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔
تعلیم، ادویات، کرایے، روز مرہ کی اشیا غریب کی دسترس سے بالاتر ہوتی جا رہی ہیں۔ نہ صحت ، نہ تعلیم ، نہ رہائش آخر غریب کے لیے ہے کیا؟مہنگائی کی اس خوفناک اور دہشت ناک صورتحال کو دیکھ کر مستقبل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ملک اور اس کے عوام کس صورتحال سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق دنیا بھر میں اشیائے خور و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں کروڑوں غریب افراد کو مزید غربت کی گہرائیوں میں دھکیل سکتی ہیں۔ ان چند برسوں میں روز مرہ کے استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں 200 فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ دُنیا بھر میں اس مہنگائی اور غذائی بحران نے کتنے افراد کے دلوں سے خوشیاں اور ہونٹوں سے مسکراہٹیں چھین لی ہیں۔
تحریک انصاف کی حکومت سوا تین برس میں اپنی معاشی ٹیم نہیں بناسکی۔ ملک کی معیشت منجمد ہے۔ گھی اورتیل کے نرخوں میں 133فیصد، چینی کی قیمت میں 84فیصد، آٹا 52فیصد، پٹرول 49اور گوشت کی قیمتوں میں 60فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں روپے کی قدر میں 40فیصد تک کمی مہنگائی میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔ ڈالر کی قیمت تین برسوں میں 51فیصد تک بڑھی ہے۔ ادویات کی قیمتوں میں 400اور بجلی کے نرخوں میں 200فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے جب کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں مزید اضافے کی نوید سنائی جارہی ہے۔
کورونا اور ڈنگی سے لوگ مررہے ہیںجب کہ حکومتی اقدامات کہیں نظر نہیں آ رہے۔ پنجاب کے مختلف علاقوں میں ڈنگی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ڈنگی کے خلاف حکومت کو حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر کرنے کی ضرورت ہے۔ پنجاب سمیت پورا ملک لاقانونیت کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔جرائم کی وارداتوں میں تشویش ناک اضافہ، حکومت کی ناقص کارکر دگی کی عکاسی کرتا ہے۔موجودہ حکومت ہر محاذ پر بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔
آج بھی عوام امید بھری نظروں سے حکومت کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ وہ ان کی مشکلات اور مصائب کا کوئی صائب حل نکالے، عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کے لیے جنگی بنیادوں پر فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ مہنگائی پر قابو پایا جاسکے اور عام آدمی کی زندگی میں آسانیاں پیدا ہوں ، امید ہے ، ایک جمہوری حکومت ، جمہور کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے ذخیرہ اندوزوں اور منافع خور مافیاز کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کر کے قیمتوں کو ایک سطح پر برقرار رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے میکنزم بنائے گی ۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنا ، ایک جمہوری حکومت کی بنیادی اور اولین ذمے داری ہوتی ہے ، قوی امید ہے کہ یہ ذمے داری پی ٹی آئی حکومت احسن طریقے سے ادا کرکے عوام کو ریلیف فراہم کرے گی ۔