امور خارجہ کی خوبیاں
ہندوستان کے حکمرانوں کی غلطی کا خمیازہ 66 سال سے برصغیر کے ڈیڑھ ارب کے لگ بھگ عوام بھگت رہے ہیں۔۔۔
نئی دہلی میں پاکستانی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بھارتی سیکریٹری خارجہ سجاتا سنگھ نے کئی دلچسپ اور متضاد باتیں کی ہیں۔ موصوفہ کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل خود بھارت کے مفاد میں ہے۔ اسی بیٹھک میں سجاتا جی نے یہ بھی فرمایا ہے کہ بھارت کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔ بھارت میں کوئی بھی حکومت آئے ہماری یہی پالیسی برقرار رہے گی۔ امن اور دوستی ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد ہیں۔ ہم پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات کے حامی ہیں ''لیکن'' جب تک اعتماد بحال نہیں ہوتا اور ممبئی حملوں کے ملزمان کو سزا نہیں دی جاتی ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ پاکستان اور بھارت کو تیسرے ملک کی مداخلت کے بغیر اپنے مسئلے حل کرنا چاہیے۔ جدید جمہوری سیاست میں خارجہ امور بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور ایسے نازک شعبے میں اہم عہدوں پر کسی کو لاتے ہوئے چند خوبیوں کو سامنے رکھا جاتاہے۔ محکمہ خارجہ کے اہم عہدوں پر متمکن ہونے والا شعبدہ باز اور ایسی باتوں میں مہارت رکھنے والا ہو جو کسی کی سمجھ میں نہ آ سکیں۔ ایک ہی سانس میں اتنی متضاد باتیں کرنے کی اہلیت رکھتا ہو جو سننے والوں کو محو حیرت کر دیں اور انھیں ایسا محسوس ہو کہ یا تو بات کرنے والا پاگل ہے یا باتیں سننے والا پاگل ہونے جا رہا ہے۔
اگر وزارت خارجہ کے عہدیدار اس معیار پر پورے اترتے ہیں تو سمجھئے خارجہ پالیسی کامیاب جا رہی ہے۔ اس تناظر میں ہم بھارتی سیکریٹری خارجہ کے فرمودات کا جائزہ لیں تو یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ بھارتی سیکریٹری خارجہ اس معیار پر سو بلکہ ایک سو ایک فیصد پوری اترتی ہیں۔ میں جب بھی بھارتی حکام کو کشمیر پر بات کرتے ہوئے سنتا ہوں یا دیکھتا ہوں تو میرے ذہن میں وہ محترم لوگ گھوم جاتے ہیں سونے سے پہلے آٹو میٹک کیسٹ لگا کر سو جاتے ہیں اور لوگ رات بھر ایک ہی قسم کے ارشادات سن کر اپنی نیندیں حرام کر لیتے ہیں۔ سجاتا سنگھ آج جو کچھ فرما رہی ہیں یہ فرمودات ہم لگ بھگ نصف صدی سے سن رہے ہیں اور سر دھن رہے ہیں۔ مادام سجاتا بڑی مہان مہان سفارت کار نظر آتی ہیں کہ ایک ہی سانس میں اتنی متضاد باتیں کرتی ہیں کہ:
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
والی اہلیت بہر حال موصوفہ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی نظر آتی ہے۔ ہماری سمجھ میں بھی بہر حال یہ بات نہیں آ رہی ہے کہ اگر مسئلہ کشمیر کا حل بھارت کے مفاد میں ہے تو مسئلہ کشمیر حل کرنے سے آپ کو کس نے روکا ہے؟ پاکستان تو 66 سال سے کہتا آ رہا ہے کہ مہاشو یہ مسئلہ حل کرو گے تو اس خطہ کی تقدیر بدل جائے گی۔ لیکن آپ کی اعلیٰ ظرفی کا عالم یہ ہے کہ اس مسئلے کے حل کو آپ ایک طرف اپنے مفاد میں بھی ہے کہتے ہیں دوسری طرف بے تکے بہانے بنا کر خود ہی اس مسئلے کو حل نہیں ہونے دیتے۔ سجاتا صاحبہ نے تازہ بہانہ بلکہ باسی اور متعفن بہانہ یہ بنایا ہے کہ ممبئی حملوں کے ملزمان کو سزا ملے بغیر ہم مسئلہ کشمیر کیسے حل کر سکتے ہیں؟ دوسرا بہانہ یہ تراشا گیا ہے کہ ''پاکستان میں دہشت گردی کے مراکز موجود ہیں، ہم دہشت گردی کے سائے تلے مذاکرات کیسے شروع کر سکتے ہیں؟''
امور خارجہ میں اگر کوئی تعلیم یافتہ اعلیٰ ظرف وسیع النظر اور سیاسی بصیرت رکھنے والا شخص ہوتا تو سب سے پہلے وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے مراکز ہی نہیں ہیں بلکہ پورے کا پورا پاکستان دہشت گردی کے مرکز میں بدل دیا گیا ہے اور اس کی ذمے داری کسی پاکستانی حکومت پر نہیں آتی بلکہ اس کی تمام تر ذمے داری بھارتی حکمرانوں پر آتی ہے۔ جنہوں نے مسئلہ کشمیر پیدا کیا، پالا، پوسا، بڑا کیا اور اب اس کی جولانیوں کی ذمے داری خود قبول کرنے کے بجائے پاکستان پر ڈال رہے ہیں جو سرتا پا خود دہشت گردی میں غرق ہے۔ آپ فرماتی ہیں کہ ہم ممبئی حملوں کو پھلانگ کر مسئلہ کشمیر کیسے حل کر سکتے ہیں؟ آپ لوگ ایک ممبئی حملے کی برسوں سے دم پکڑے بیٹھے ہو یہاں تو ہر روز ہر قدم پر ایک ممبئی حملہ کھڑا ہوا ہے اور یہ کسی پاکستانی حکمران کی پیداوار نہیں ہے بلکہ یہ مسئلہ کشمیر ہی کی پیداوار ہے۔ آپ کا ایک عذر یہ ہے کہ دونوں ملکوں میں اعتماد کی بحالی تک مسئلہ کشمیر پر بات کیسے ہو سکتی ہے۔ ذرا یہ بتایے کہ مرغی پہلے پیدا ہوئی یا انڈا پہلے؟ اگر آپ اس سوال کا درست جواب دے دیں تو پھر اعتماد کی بحالی کا فلسفہ بڑی آسانی سے آپ کی سمجھ میں آ جائے گا۔
اب آیئے ذرا سنجیدگی اور ایمانداری سے اس مسئلے کا جائزہ لیں۔ اس مسئلے کی وجہ سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کئی چھوٹی چھوٹی جنگوں کے علاوہ 1965ء، 1971ء کی دو بڑی جنگیں ہوئیں جن میں ہزاروں انسانوں کے جانی نقصان کے علاوہ کھربوں روپوں کا جنگی نقصان ہوا۔ اسی مسئلے کی وجہ سے دونوں پسماندہ ملکوں کے درمیان ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوئی جو اب بھی جاری ہے، اسی مسئلے کی وجہ سے دونوں پسماندہ ترین ملک ایٹمی ملک بن گئے، تازہ اطلاعات کے مطابق دونوں ملکوں کے پاس 100-100 ایٹم بم موجود ہیں جو ہیروشیما اور ناگا ساکی پر گرائے جانے والے ایٹم بموں سے کئی گنا زیادہ تباہ کن ہیں۔ اسی مسئلے کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان بے اعتمادی پیدا ہوئی اور بڑھ رہی ہے، اسی مسئلے کی وجہ سے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان تعصب اور نفرتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اسی مسئلے کی وجہ سے کارگل کا ایڈوینچر ہوا، اسی مسئلے کی وجہ سے ہزاروں بے گناہ اور مجبور سپاہی سیاچن کی بلندیوں پر برف کے جھکڑوں میں اپنے اعضاء گلا رہے ہیں، اسی مسئلے کی وجہ سے دونوں ملکوں کے عوام اپنے عزیزوں، دوستوں سے ملنے سے معذور ہیں، اسی مسئلے کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان وہ تجارت رکی ہوئی ہے جو چلتی تو مہنگائی کا زور توڑ دیتی، اسی مسئلے کی وجہ سے دونوں ممالک اقتصادی تباہی کے کنارے کھڑے ہیں، اسی مسئلے کی وجہ سے دونوں ملکوں کا دفاعی بجٹ عوام کی معاشی بد حالی میں اضافہ کر رہا ہے، اسی مسئلے کی وجہ سے پورا جنوبی ایشیا زیر و زبر ہے اور عوام بھوکوں مر رہے ہیں، اسی مسئلے کی وجہ سے مذہبی انتہا پسندی فروغ پاتی رہی اور پا رہی ہے، تقسیم کے بعد پچھلے 66 برسوں سے یہ مسئلہ دونوں ملکوں کے عوام کے سروں پر تلوار کی طرح لٹک رہا ہے۔
بعض اوقات حکمرانوں کی غلطیوں کا خمیازہ ان کی آنے والی کئی نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ ہندوستان کے حکمرانوں کی غلطی کا خمیازہ 66 سال سے برصغیر کے ڈیڑھ ارب کے لگ بھگ عوام بھگت رہے ہیں اور اگر اب بھی بھارتی حکمرانوں کو عقل نہ آئی تو آنے والی کئی نسلیں بھگت رہی ہوں گی۔ دکھ اس بات کا ہے کہ یہ مسئلہ بھارت کی ایسی قیادت کا پیدا کردہ ہے جو آج کے راج نیتاؤں کے مقابلے میں زیادہ سیاسی بصیرت رکھتے تھے جو آج کے حکمرانوں کے مقابلے میں عوام کے اچھے اور برے مستقبل کا زیادہ ادراک رکھتے تھے۔ ہماری مراد پنڈت جواہر لعل نہرو اور ان کے ساتھیوں سے ہے۔ ہم روایت پرست لوگ ہیں۔ بزرگوں کی غلطیوں کو بھی نیکیاں سمجھ کر سینے سے لگائے رکھتے ہیں۔ ہماری روایت میں ایک بڑی روایت یہ ہے کہ ہم قومی مسائل کو آج کے حالات اور اپنے عوام کے مفادات کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے ''اکابرین کے فرمودات کی روشنی'' میں دیکھتے ہیں۔ اکابرین کی سیاسی پیروکاری میں تلاش کرتے ہیں۔
سردار سورن سنگھ کو گزرے کئی عشرے بیت گئے، وہ بیچارہ بھی اپنی روایتی سیاست کا طوق گلے میں ڈال کر پاکستان کے پھیرے لگاتا رہا لیکن کچھ نہ کر سکا۔ واجپائی لاہور آئے بڑی امیدیں بیدار کر گئے لیکن نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات نکلا، بھارتی حکمرانوں کو ہمیشہ یہ شکایت رہی کہ پاکستان کی فوجی جنتا مسئلہ کشمیر کی راہ میں حائل ہے۔ پاکستان کی فوجی جنتا کا ایک سر براہ جنرل (ر) مشرف خود چل کر آگرہ گیا اور ساتھ وہ نئی تجاویز بھی لے گیا جو کوئی سویلین بھی لے جانے کی جسارت نہیں کر سکتا تھا آپ نے اسے بھی خالی ہاتھ واپس کر دیا۔ آج دنیا ایک عالمی گاؤں میں بدل گئی ہے اب ہمیں اپنے آپ کو بھی اس کے تقاضوں کے مطابق بدلنا ہو گا۔ آج انسان کی ساری شناختیں آہستہ آہستہ معدوم ہوتی جا رہی ہیں اور ایک ہی شناخت آگے آ رہی ہے اور وہ ہے ''انسانیت'' ہم نے ان ہی کالموں میں بار بار کہا ہے کہ اگر کشمیر کا مسئلہ حل کرنا ہو تو بھارتی حکمرانوں کو بھی انسان بننا پڑے گا اگر وہ ایسا نہ کر سکے اور ہندو اور ہندوستانی بنے رہے تو پھر یہ مسئلہ اکیسویں صدی میں بھی حل نہیں ہو گا اور کشمیر میں چھ لاکھ فوج رکھنے کے اخراجات برداشت کرتے کرتے ہندوستان کنگلا ہو جائے گا۔