مذہب اور عشق کے نام پر گمراہ کن ڈرامے

زنیرہ ضیاء  منگل 16 نومبر 2021
عوام کے سامنے مثبت پیغامات والی کہانیاں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ (فوٹو: فائل)

عوام کے سامنے مثبت پیغامات والی کہانیاں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ (فوٹو: فائل)

پچھلے دنوں ڈراما سیریل ’’خدا اور محبت‘‘ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ نام تو بڑا جاندار تھا، مجھے لگا ڈراما بھی شاندار ہوگا، اس لیے ہر جمعہ اپنی زندگی کا ایک گھنٹہ اس ڈرامے کے لیے وقف کرنے کا ارادہ کرلیا اور یوں تقریباً 39 جمعے اپنے قیمتی وقت سے ایک گھنٹہ نکال کر ڈراما خدا اور محبت پر ’’برباد‘‘ کیا۔

جی ہاں یہاں لفظ ’’برباد‘‘ استعمال کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ڈرامے کا نام جتنا شاندار تھا معاف کیجئے گا کہانی اتنی ہی پُھسپھسی نکلی۔ یہ ڈراما دیکھ کر اندازہ ہوا کہ اداکاری کی دنیا کے بڑے نام، بڑا بجٹ، بڑے اسکیل پر شوٹنگ اور اعلیٰ درجے کی مارکیٹنگ (ہاں یہ سب ایک ڈرامے کو ہٹ بنانے کے لوازمات ضرور ہیں) لیکن  ایک ڈرامے کو لوگوں کے دلوں تک پہنچانے میں جس کا سب اہم کردار ہوتا ہے، وہ ہوتی ہے ’’بہترین اور عمدہ کہانی‘‘، جس کا اس ڈرامے سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

’’خدا اور محبت‘‘ ڈرامے کا نام جتنا جاندار تھا کہانی اتنی ہی ہلکی محسوس ہوئی۔ آج کے اسمارٹ زمانے میں ایسا کہاں دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک لڑکا کسی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوا اور جب لڑکی نے اسے انکار کردیا (جو اس کا حق ہے) تو جاکر مزار پر بیٹھ گیا اور اپنی ذمے داریاں، گھر، رشتے، ماں باپ، بہن بھائی سب چھوڑ کر ایک سراب کے پیچھے بھاگتے ہوئے مزار پر دن رات لڑکی کے نام کی مالا  جپنے لگا۔

اگر یہ ڈراما آج سے 50 سال پہلے دکھایا جاتا تو یقیناً اس کی کہانی میں کشش ہوتی، کیونکہ وہ زمانہ نہ تو اسمارٹ دور تھا اور نہ ہی لوگوں کے پاس تفریح کے دیگر مواقع ہوتے تھے۔ لیکن آج کے زمانے میں یہ پریوں اور دیومالائی کہانیوں کی طرح معلوم ہوتا ہے جس کا زندگی کی حقیقتوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔

اس ڈرامے کی سب سے بڑی خامی جو مجھے لگی وہ تھی ڈرامے کو مذہبی رنگ دینا۔ بھئی اگر ایک لڑکے کو ایک لڑکی سے محبت ہوئی اور لڑکی نے اپنا حق استعمال کرتے ہوئے اسے ’’نہ‘‘ کہہ دیا لیکن وہ بے غیرت لڑکا پھر بھی باز نہ آیا اور لڑکی کا پیچھا کرتے ہوئے اس کے گھر تک جا پہنچا اور لڑکی کو اپنی کنگلی محبت کی دہائیاں دے کر اسے ہراساں کیا، اس پورے قصے میں مذہب کو بیچ میں لانے کی کیا ضرورت تھی؟

میرے خیال میں ڈرامے کی ہیروئن ماہی کو اپنا پیچھا کرنے والے نوجوان کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروانی چاہئے تھی تاکہ اسے دیکھ کر آج کے دور کی ان لڑکیوں کو بھی ہمت ملتی جو ضرورت کے تحت گھر سے باہر نکلتی ہیں (جاب، تعلیم یا پھر گھر کا سودا سلف وغیرہ لانے کے لیے) اور انتہائی فارغ اور بے غیرت چند نوجوان ان کا پیچھا کرتے اور انہیں ہراساں کرتے ہیں۔

پاکستان میں ڈرامے تفریح کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہیں۔ لوگوں کی بڑی تعداد ڈرامے دیکھ کر اپنا وقت گزارتی ہے اور ان ڈراموں کے ہمارے معاشرے پر بہت گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کی مثال ملتان کا رہائشی وہ نوجوان ہے جو ’’خدا اور محبت‘‘ ڈرامے اور اس کے ہیرو فرہاد سے متاثر ہوکر محبت میں ناکامی کے بعد بالکل ڈرامے کے ہیرو کی طرح مزار پر جا بیٹھا۔

حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس ڈرامے سے لڑکیاں سبق لیتیں اور سڑکوں پر آوارہ پھرنے والے اوباش نوجوانوں سے ڈرنے کے بجائے ان کے خلاف اسٹینڈ لیتیں۔ لیکن ڈرامے میں ایسا کچھ دکھایا ہی نہیں گیا بلکہ لڑکی کا پیچھا کرنے اور اسے ہراساں کرنے کے انتہائی گھٹیا تجربے کو اتنے پرکشش انداز میں پیش کیا گیا کہ لوگ اس ڈرامے کا غلط مطلب لینے پر مجبور ہوگئے۔

میں مانتی ہوں کہ پاکستان میں ڈراما انڈسٹری آج ایک بہت بڑا بزنس بن چکا ہے اور چینلز ڈراموں میں سرمایہ کاری اس لیے کررہے ہیں کہ انہیں امید ہے کہ ہمیں ہمارے پیسے واپس بھی مل جائیں گے۔ لیکن ماضی کا ریکارڈ دیکھتے ہوئے اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستانی ڈراموں کا ایک معیار ہوتا تھا اور اس معیار کی بدولت ہی ہمارے ڈرامے پوری دنیا میں ایک منفرد پہچان رکھتے تھے۔

لیکن آج کل دکھائے جانے والے ڈراموں میں معاشرے کو، خصوصاً نوجوانوں کو کیا پیغام دیا جارہا ہے؟ مذہب کو صرف ریٹنگ بڑھانے کےلیے استعمال کیا جارہا ہے اور ملک کے موجودہ حالات میں جب نوجوانوں کو باشعور اور سمجھدار بنانے کی ضرورت ہے اس وقت انہیں محبت جیسے سراب کے پیچھے لگاکر اپنی زندگی مزاروں پر برباد کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ (مثال اوپر موجود ہے)

مجھے تو حیرت ہے پیمرا پر، جس نے  ڈراموں میں مرد اور خواتین کے درمیان کتنی دوری ہونی چاہیے، میاں بیوی کے درمیان رومینٹک مناظر دکھائے جانے چاہئیں یا نہیں، اس پر تو نوٹس لے لیا لیکن نوجوانوں کو برباد کرنے والی کہانیوں پر پیمرا خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔

جہاں پیمرا کو ان کہانیوں پر نوٹس لینے کی ضرورت ہے وہیں چینل مالکان کو بھی صرف پیسہ بنانے کے بجائے ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام کے سامنے مثبت پیغامات والی کہانیاں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ آج پاکستان کو اپنی زندگی محبت کے پیچھے مزاروں پر برباد کرنے والے نوجوانوں کی ضرورت نہیں بلکہ ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو کم عمری میں اپنی ذمے داریاں سمجھتے ہوئے اپنے خاندان اور پاکستان کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرسکیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

زنیرہ ضیاء

زنیرہ ضیاء

بلاگر شوبز تجزیہ نگار ہیں اور express.pk سے بطور ویب ایسوسی ایٹ پروڈیوسر وابستہ ہیں۔ ان سے ای میل ایڈریس [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ ٹوئٹر ہینڈل @ZunairaGhori اور انسٹاگرام آئی ڈی zunairazia_official پر بھی انہیں فالو کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔