بگرام جیل افغان حکام کے حوالے خودکش حملے میں 21افرادہلاک

سیکڑوں قیدیوںکے مستقبل سے متعلق معاہدہ نہیں ہوسکا،غیرملکی فوج کے بعدامن مشکل ہوجائے گا،نائب افغان صدر


News Agencies September 11, 2012
سیکڑوں قیدیوںکے مستقبل سے متعلق معاہدہ نہیں ہوسکا،غیرملکی فوج کے بعدامن مشکل ہوجائے گا،نائب افغان صدر, فوٹو: فائل

امریکی فورسز نے افغانستان کی متنازع جیل بگرام افغان سیکیورٹی فورسز کے حوالے کردی۔

تاہم اس جیل میں قید سیکڑوں افراد کے مستقبل کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں طے پاسکا۔شمالی افغانستان میں خودکش بم دھماکے میں خاتون سمیت 21 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ مشرقی افغانستان میں بم دھماکے میں4اتحادی فوجی مارے گئے،ہلمند میں سڑک کنارے نصب بم دھماکے میں ایک برطانوی فوجی ہلاک ہوا۔ جرمن میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کابل کے جنوب میں امریکی فوجی اڈے سے متصل اس جیل کی افغان فورسز کو منتقلی کی تقریب منعقد ہوئی۔ نیٹو کے ترجمان نے بتایا ہے کہ اس جیل میں 99 فیصد قیدیوں کو افغان سیکیورٹی فورسز کے سپرد کر دیا گیا ہے جبکہ باقی قیدیوں کی منتقلی کے بارے میں افغان حکومت فیصلہ کریگی۔

حکام نے کہاہے کہ بگرام جیل میں قید 50 غیر ملکی قیدی، جن میں سے زیادہ تر تعداد پاکستانیوں کی ہے۔ افغان نائب صدر محمد قاسم فہیم نے افغانستان میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غیرملکی فوج کے انخلا کے بعد ملک میں دہشت گردی پر کنٹرول اور امن قائم کرنا مشکل ہوجائیگا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق شمالی صوبہ قندوز میں خودکش بم دھماکے میں خاتون سمیت 21 افراد ہلاک اورمتعددزخمی ہوگئے، دھماکااس وقت ہواجب لوگ مقامی جنگجو کمانڈر کے حق میں مظاہرے میں شریک تھے۔

پولیس حکام کے مطابق ہلاک ہونیوالوں میں 6عام شہری اور 12پولیس اہلکار شامل ہیں،کابل میں نیٹو کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ مشرقی افغانستان میں دھماکے سے 4اہلکار ہلا ک ہوگئے ہیں تاہم دھماکے کے مقام اورہلاک شدگان کی شناخت کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں،علاوہ ازیں صوبہ ہلمند میں سڑک کنارے نصب بم دھماکے میں ایک برطانوی فوجی ہلاک ہو گیا۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں فوجی تربیتی منصوبوں سے منسلک امریکا اور نیٹو حکام نے امریکی حکومت کے تفتیش کارروں کو بتایا ہے گزشتہ چار سال سے زائد عرصے کے دوران افغان نیشنل آرمی کے لیے ایندھن کی خریداری کے مالی گوشواروں پر مبنی دستاویزات پھاڑ کرضائع کر دی گئی ہیں۔یہ انکشاف امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے کرتے ہوئے اس کارروائی میں مجموعی طور پر ساڑھے سینتالیس کروڑ ڈالرکے خردبرد کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔