مذاکرات میں طالبان کا نمائندہ بھی شامل ہونا چاہیے پروفیسر ابراہیم

پہلا دور کامیاب رہا: جاوید لطیف، آغاز اچھا ہے، عمران مذاکراتی عمل سے باہر نہیں نکلے، اعظم سواتی


Monitoring Desk February 07, 2014
ٹائم فریم دیا جائے: شہلا رضا، حکومت چاہے تو تعاون کر سکتے ہیں: حافظ حمداللہ ، ’’تکرار‘‘ میں گفتگو۔ فوٹو: فائل

طالبان کی طرف سے رابطہ کار کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم نے کہا ہے کہ حکومت کے موقف میں کوئی ابہام نہیں، حکومت نے اپنا موقف بیان کیا اور ہم نے طالبان کا موقف پیش کیا ہے۔

اب ملاقات کی تمام تفصیلات طالبان کی مجلس شوریٰ میں بتائی جائیں گی پھر وہاں سے جو جواب ملے گا وہ حکومتی کمیٹی سے شیئر کیا جائیگا۔ ایکسپریس نیوزکے پروگرام ''تکرار'' میں میزبان عمران خان سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ ہم مذاکرات میں صرف سہولت کار اور رابطہ کار ہیں۔ مذاکرات میں طالبان کا اپنا نمائندہ بھی شامل ہونا چاہئے یہ ممکن ہے کہ اگلے چند روز تک حکومت اور طالبان کے نمائندے آمنے سامنے بیٹھ کر بات کر رہے ہوں۔ دونوں کمیٹیوں کی طرف سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ مذاکرات کو کسی بھی صورت میں سبوتاژ نہیں ہونے دینا اور بہت تحمل سے ایکدوسرے کی بات سننی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں جاوید لطیف نے کہا کہ مذاکرات کا پہلا دور کامیابی سے ہمکنار ہوا ہے ۔ مذاکرات میں صرف شورش زدہ علاقوں کو ہی فوکس کیا گیا ہے، بلوچستان اور کراچی کے حالات ایک جیسے نہیں ہیں۔

عمران خان طالبان سے مذاکرات کے سب سے بڑے حامی تھے حکومت نے بھی ان کو کہا کہ وہ مذاکرات کر لیں اور پھر طالبان نے بھی ان پر اعتماد کا اظہارکیا لیکن انھوں نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیکھنے کے بعد مذاکراتی عمل سے نکلنے کا فیصلہ کیا جس کا مجھے افسوس ہوا ہے۔ ان کے فیصلے کی وجہ سے مولانا فضل الرحمان کو بھی اپنا نمائندہ واپس لینا پڑا۔ پاکستان میں قیام امن کے لیے جس سے جو بھی اچھا کردار ہوسکتا ہے اس کو ادا کرنا چاہیے۔ پی ٹی آئی کے رہنما اعظم خان سواتی نے کہا کہ 10,12 سال کی تباہی کے بعد مذاکرات کے عمل کا آغاز بہت خوش آئند بات ہے، ہمیں مثبت مذاکرات کے لیے مثبت تاثر پیدا کرنا چاہیے۔

 photo 7_zpsd6db2ab1.jpg

ہمیں مذاکرات مذاکراتی ٹیموں پر چھوڑنے چاہئیں اور خودسے اپنے طورپر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہیے ۔ عمران خان مذاکرات کے عمل سے ہرگز باہر نہیں نکلے ہم ہر طرح سے مذاکرات کے عمل کو سپورٹ کررہے ہیں ۔ہمارا موقف ہے کہ مذاکرات آئین کے مطابق ہونے چاہئیںاور اس کا ٹائم فریم ہونا چاہئے۔ پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا نے کہا کہ مذاکراتی ٹیموں کے قیام کے بعد سب کے سیاسی چہرے سب کے سامنے آگئے ہیں۔ مولانا عبدالعزیزکے بھی مذاکراتی عمل سے الگ ہونے کے خدشات پیدا ہو چکے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس میں شریعت کے نفاذ کی بات ہی نہیں ہے۔ طالبان کی کمیٹی ٹوٹنے کا اندیشہ ہے۔ شورش زدہ علاقے اب صرف فاٹا ہی نہیں بلکہ اب تو پنجاب، بلوچستان کراچی جیسے بہت سے علاقے ہیں جہاں حالات خراب ہیں۔ کراچی میں طالبان کا سب سے بڑا ذریعہ آمدنی ہی اغوا برائے تاوان ہے ۔

مذاکرات میں یہ بات قابل غور ہے کہ حکومت کی شرائط کیا ہوتی ہیں، مذاکرات کا ٹائم فریم دیا جائے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما حافظ حمداللہ نے کہا کہ ہم پاکستان کے آئین پر یقین رکھتے ہیں جمعیت علمائے اسلام آئین کو شریعت کے مطابق سمجھتی ہے ہم مذاکرات کا عملی طورپر حصہ نہیں ہیں لیکن اگر حکومت چاہے تو ہم تعاون کرسکتے ہیں۔ ہم پاکستان کے ایک ایک انچ پر رٹ آف گورنمنٹ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگرشورش زدہ علاقوں پر شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کیا جائے تو اس پر عمل ہو سکتا ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کے دور میں صوفی محمد کے ساتھ معاہدہ ہوا جس میں شرعی عدالتیں قائم کی گئیں۔کراچی کی ہلاکتوں کو صرف مذہبی عوامل سے نہیں جوڑا جا سکتا ان کی اور بھی بہت سی وجوہات ہیں۔