مذاکرات آئندہ اجلاس میں معاملات کھل کر سامنے آئیں گے جاوید چوہدری

آئینی حدود اورشورش زدہ علاقوں کا تعین ہوگا، طے کیا جائیگا کہ جنگ بندی پہلے کون کریگا


Monitoring Desk February 07, 2014
بہت سے سوالوں کے جواب باقی، طالبان کس طرح قبائلی عوام کی نمائندگی کرتے ہیں؟ زاہد حسین۔ فوٹو: فائل

حکومت اور طالبان کی مذاکراتی ٹیموں کے اجلاس سے متعلق کالم نگار اور اینکرپرسن جاوید چودھری نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ جمعرات کو پہلا اجلاس ہونا اہم پیش رفت ہے تاہم اگلی ملاقات میں اصل معاملات کھل کر سامنے آئیں گے۔

ابتدائی اجلاس میں پہلا یہ فیصلہ ہوا کہ آئین کی حدود میں بات چیت ہوگی لیکن آئندہ یہ طے ہوگا کہ آئین کی حدودکیا ہیں؟ کیا آئین کسی ملزم کوعام معافی دے سکتا ہے؟ شورش زدہ علاقے کون کون سے ہیں ؟ یہ بھی اگلی ملاقات میں طے ہوگا۔ کیا اس کا اطلاق شمالی وجنوبی وزیرستان یا پورے فاٹا پر ہوگا؟ اگر پورے فاٹا میں ہوگا تو وہاں صدر مملکت کے اختیارات کا کیاکیاجائے گا؟

 photo 10_zps734317ed.jpg

یہ بھی طے کیاجائے گاکہ سیزفائر پہلے کون کریگا؟اگر حکومت پہلے کریگی تو کیا وہاں موجود افواج کو واپس بلوایا جائے گا؟اگرطالبان کی طرف سے بھی سیزفائر کااعلان کیا گیاتوتھرڈ پارٹی کودھماکوں سے کون روکے گا؟ اس کی ذمہ داری طالبان اٹھائیں گے یاحکومت؟ تجزیہ کار زاہدحسین نے کہاکہ ابتداء ہوگئی ہے تاہم بہت سے سوالوں کے جواب باقی ہیں، اگر صرف قبائلی علاقوں میں طالبان کی اجارہ داری کی تجویز رکھی گئی تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ طالبان کس طرح قبائلی لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں؟