بگ تھری آواز بلند کرنے پر کسی کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے وسیم

رکن ممالک کے تحفظات دور کیے جانے چاہئیں، تقسیم نقصان دہ ہوگی، سابق کپتان


Sports Desk/AFP February 08, 2014
ہماری کرکٹ کی دنیا بہت چھوٹی ہے اور ہم تقسیم کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔ سابق کپتان۔ فوٹو: فائل

وسیم اکرم نے آئی سی سی اجلاس سے قبل باہمی اتحاد پر زور دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ گیم نقصان دہ تقسیم برداشت نہیں کرسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے سابق عظیم پلیئر وسیم اکرم نے جمعے کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آی سی سی) کے اجلاس سے قبل باہمی اتحاد پر زور دیا ہے، گورننگ باڈی میں اصلاح کیلیے متنازع منصوبوں پر بحث کی تیاریوں پر انھوں نے کرکٹ ایڈمنسٹریٹرز کو تنبیہ کی کہ گیم نقصان دہ تقسیم برداشت نہیں کرسکتا ہے۔ ہفتے کو سنگاپور میں آئی سی سی کے ایک اجلاس میں تمام ارکان مالی طور پر انتہائی مستحکم ممالک بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا کو زیادہ حیثیت دینے کے منصوبے پر بات چیت اور ممکنہ ووٹنگ کیلیے جمع ہورہے ہیں۔ جنوبی افریقہ، پاکستان اور سری لنکا نے اس تصور کی بھرپور مخالفت کی ہے اور پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ 414 وکٹیں لینے والے وسیم اکرم نے ایڈمنسٹریٹرز کو گیم میں اتحاد کیلیے کام کرنے پر زور دیا ہے۔

 photo 3_zps6464283d.jpg

ان کا کہنا ہے کہ ہماری کرکٹ کی دنیا بہت چھوٹی ہے اور ہم تقسیم کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں، اگر کسی ملک کے اس ڈرافٹ پیپر پر کوئی اعتراضات ہیں تو انھیں دور کرنا اورکسی بھی ملک کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اکرم کا کہنا ہے کہ آئی سی سی میں قومی بورڈز کو اپنے حقوق کیلیے آواز بلند کرنے پر نشانہ نہیں بنانا چاہیے، میں سن رہا ہوں کہ منصوبے پر دستخط نہ کرنے پر پاکستان اور جنوبی افریقہ کو ہدف بنایا جائیگا،کوئی بھی ملک ایسا نہیں چاہتا ہے کیونکہ یہ ممالک عالمی کرکٹ کیلیے اہمیت رکھتے ہیں۔ اکرم نے دنیائے کرکٹ کی آمدنی میں 80 فیصد حصہ ڈالنے والے بھارتی بورڈ پر ذمہ دار بڑے بھائی کا کردار نبھانے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت آمدنی کے لحاظ سے زیادہ بڑا بورڈ ہے اور بڑا بھائی ہونے کے ناطے سب اس کی بات سنیں گے اور مجھے یقین ہے کہ سنگاپور کے اجلاس میں جذبات پر قابو پالیا جائیگا۔