کرپشن عروج پر ہے لیکن نیب کو مقدمات میں دلچسپی نہیں سپریم کورٹ کی برہمی

وکلا کے تیاری کے ساتھ پیش نہ ہونے پرپراسیکیوٹرجنرل کی معذرت،مذاق ہو رہاہے، یہ تماشاکب تک برداشت کریں؟جسٹس جواد


Numainda Express February 08, 2014
عوام کاپیسہ ہضم نہیں کرنے دینگے،ریمارکس،سی این جی لائسنس کیس میں اٹارنی جنرل کی معاونت طلب، اوگرا کی رپورٹ مسترد۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے نیب مقدمات میں استغاثہ کی عدم دلچسپی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل نیب کو طلب کرلیا اورعدالتی تشویش سے آگاہ کیا۔

سی این جی لائسنسوں کے اجرا سے متعلق ایک اورکیس میں عدالت نے اوگرا حکومتی پالیسی پرعملدرآمد کرنے کا پابندہونے یا نہ ہونے کے قانونی سوال پراٹارنی جنرل کومعاونت کیلیے طلب کرلیا۔جسٹس جوادایس خواجہ کی سربراہی میں فل بینچ نے دونوں مقدمات کی سماعت کی۔ محکمہ مال راولپنڈی کے ملازم محمدافضل کی ملی بھگت سے پلاٹ کی فروخت میں فراڈکا نیب ریفرنس واپس لینے کے خلاف دائرمقدمے میں نیب کے وکیل محمود رضا نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس کی تفتیش پر مامور افسر عمرے کی ادائیگی کیلیے گیا ہے۔کیس کی تفصیلات سے متعلق استفسار پرایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب مظہر علی چوہدری نے بتایا کہ مقدمے کی پیروی کرنے والے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب فوزی ظفر لاہورگئے ہیں۔ عدالت نے اس صورتحال پر سخت برہمی کا اظہارکیا۔ جسٹس جواد نے کہاکہ یہ تو عدالت کے ساتھ مذاق ہے ، عوام کے خون پسینے کی کمائی سے چلنے والے اداروںکا یہ حال ہو تو پھر ریاست کیسے چلے گی۔

 photo 4_zps9d03339f.jpg

عدالت نے سماعت کچھ دیر تک ملتوی کردی جب سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو پراسیکیوٹر جنرل نیب کے کے آغا پیش ہوئے اور معذرت کی۔ جسٹس جواد نے کہاکہ عدالت کے ساتھ یہ مذاق ایک عرصے سے کیا جا رہا ہے، ملک میںکرپشن عروج پر پہنچ چکی ہے، لیکن اگر عوام کے پیسوں سے چلنے والے نیب کا یہ حال ہوکہ انھیںکرپشن کے مقدمات میں دلچسپی نہیں تو پھر صورتحال کس طرح بہتر ہوگی۔ جسٹس جواد نے کہاکہ جج اور نیب کے ذمے دار خدمت کے عوض عوام کے خون پسینے کی کمائی سے معاوضہ لیتے ہیں اس لیے انھیں پوری ذمے داری اور ایمانداری کے ساتھ اپنا کام کرنا چاہیے، اگر نیب کا تفتیشی افسر ریکارڈکو تالا لگا کر عمرے پر چلا جائے تو یہ قابل قبول نہیں۔ عدالت نے نیب مقدمات میں ذمے دار افرادکو پیروی کیلیے بھیجنے کی ہدایت کی اور آبزرویشن دی کہ ریاست کے وسائل بچانے کیلیے ضروری ہے کہ آئندہ نیب مقدمات میں استغاثہ کے وکلا تیاری کے ساتھ پیش ہوں، اس کیس کی سماعت 12 فروری تک ملتوی کردی گئی۔

سی این جی لائسنسوں سے متعلق مقدمہ میں عدالت کوبتایاگیاکہ اوگرا نے قانون کے مطابق ان اسٹیشنوں کو لائسنس دیے لیکن حکومتی پالیسی کے تحت سی این جی اسٹیشن قائم کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ عدالت نے آبزرویشن دی کہ جب لائسنس قانون کے مطابق جاری ہوئے تو پھر حکومتی پالیسی کس طرح اثر انداز ہوسکتی ہے؟ آن لائن کے مطابق650 سی این جی لائسنسوں کے مقدمے میں جسٹس جواد نے ریمارکس دیے کہ عوام کا پیسہ کسی کو آسانی سے ہضم نہیں کرنے دیںگے۔ عدالت نے کہاکہ سی این جی لائسنس جس طرح سے بانٹے گئے اس کی مثال نہیں ملتی۔ اوگرا کے وکیل افتخارگیلانی نے عدالت کو بتایا کہ کچھ سی این جی اسٹیشن قانون کے مطابق اور بعض غیرقانونی ہیں۔ اے پی پی کے مطابق عدالت نے رپورٹ مستردکرتے ہوئے کہاکہ جتنے بھی لائسنس جاری کیے گئے ہیں ان کی الگ الگ فہرستیں بنائی جائیں کہ کون سا قانون کے مطابق ہے اورکون سا لائسنس قانون سے ہٹ کرجاری ہوا۔ مقدمے کی مزید سماعت27 فروری تک ملتوی کردی گئی۔