یوٹیلٹی اسٹورز میں فارمیسی بنا کر ادویہ 25 فیصد رعایت پر دی جائیں سینیٹ کمیٹی

صنعت وپیداوار،ذیلی اداروں میں من پسندلوگوں کونوازاجاتاہے،تمام ادارے تباہ ہوگئے،میرٹ سے ملکی تقدیربدل سکتی ہے


Numainda Express February 08, 2014
نجکاری کے دوران مزدوروں کونوکریوں سے نہیں نکالنے دیاجائیگا،بیوروکریسی کے ہتھکنڈوںسے حکومت ناکام نہیں ہونے دینگے،چیئرمین۔ فوٹو:فائل

لاہور: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت وپیداوار نے کہاہے کہ سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل کے دوران مزدوروں کونوکریوں سے نکالنے نہیں دیںگے۔

یوٹیلٹی اسٹورز میں فارمیسی قائم کرکے غریب عوام کو 25 فیصدرعایت پردوائیں فراہم کی جائیں جبکہ سستے گوشت کی فروخت کاانتظام بھی کیاجائے،اجلاس میں انکشاف یہ بھی کیاگیاکہ وزارت صنعت و پیداوارکے ذیلی اداروں کے منیجنگ ڈائریکٹرزاورچیف ایگزیکٹو آفیسرز کا تقرر قواعد و ضوابط کے مطابق نہ ہونے کی وجہ سے ادارے تباہی و خسارے کا شکار ہوچکے ہیں،من پسندافرادکاتقررکرکے خزانے کواربوں روپے کا نقصان پہنچایاگیا،اگران اداروں کی طرف توجہ دی جاتی توملک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوجاتااورملک کے درپیش مسائل خودبخودحل ہو جاتیجبکہ کمیٹی کاکہنا ہے کہ سیکریٹری صنعت و پیداوارکوچیئرمین پاکستان اسٹیل ملز بناکر کمپنیز آرڈیننس کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

 photo 4_zps1ce5d5d7.jpg

کمیٹی نے اسٹیل ملز پر تفصیلی بریفنگ بھی طلب کرلی اورکہاکہ معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئیں،بیوروکریسی ایسے ہی ہتھکنڈوں کے ذریعے حکومتوں کوناکام بناتی ہے جبکہ موجود حکومت کوناکام نہیں ہونے دینگے۔ کمیٹی کااجلاس چیئرمین کمیٹی مشاہداللہ خان کی زیرصدارت ہواجس میںکمیٹی نے وفاقی وزیر اور سیکریٹری صنعت و پیداوارکی عدم شرکت پرسخت برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ قائمہ کمیٹی کسی بھی حکومت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے،موثرقانون سازی اورعوامی مسائل کے حل میں ان کاکردار انتہائی اہم ہوتاہے،اداروں کے سربراہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت یقینی بنایا کریں تاکہ جوبھی سفا رشات دی جائے ان پرعمل درآمد کرایاجائے۔