یہ ’’قرضۂ‘‘ بلند ملا جس کو مل گیا

اسی طرح سرمایہ داری کی پہچان قرضے سے ہوتی ہے جو کوئی جتنا زیادہ مقروض ہوتا ہے اتنا ہی بڑا سرمایہ دار سمجھا جاتا ہے


Saad Ulllah Jaan Baraq February 09, 2014
[email protected]

جب سے ہم نے یہ خوشخبری سنی ہے کہ ہم تقریباً ایک لاکھ روپے کے مقروض ہیں تو پھولے نہیں سما رہے ہیں۔ قدم رکھتے یہاں ہیں اور پڑتا وہاں ہے ۔بے مقصد ہی گلی محلے اور شہر بازار میں نکل کر اترائے ہوئے پھر رہے ہیں اور ہر ہر ادا سے ظاہر کر رہے ہیں کہ ہم ایسے ویسے آدمی نہیں ہیں بلکہ لاکھوں کی آسامی ہیں

قتل ہوں گے ترے ہاتھوں سے خوشی اس کی ہے
آج اِترائے ہوئے پھرتے ہیں مرنے والے

تھوڑی سی وضاحت یہ کر لیں کہ ابھی ایک لاکھ میں دو چار ہزار کم ہیں لیکن خدا ہمارے منتخب نمائندوں، افسروں اور باتدبیر وزیروں کو سلامت رکھے 'ابھی زندہ ہیں اور جب تک زندہ ہیں تب تک توقع ہے کہ یہ دو چار ہزار کی کمی بھی دور ہو جائے گی اور ہم راؤنڈ فگر ایک لاکھ کے مقروض ہو جائیں گے

تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم جب اٹھیں گے
لے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور

ویسے جب ان چھیانوے ہزار کے قرضے کا انتظام ہمارے مہربانوں نے کر ہی دیا ہے تو کیا ہم اتنے نالائق ہیں کہ دو چار ہزار کا قرضہ خود اپنے اوپر نہیں چڑھا سکیں گے۔ ہمارا بھی تو آخر زور چلتا ہے گریباں پر، مطلب یہ کہ یوں سمجھ لیجیے کہ ہم اس وقت ایک لاکھ روپے کے مقروض ہیں اور یہ کوئی کم فخر کی بات نہیں ہے جس طرح عشق کا معیار ''رسوائیاں'' ہوتی ہیں سیاست کا معیار جھوٹ کے پیمانے سے ناپا جاتا ہے۔ لیڈر کی لیاقت اس کے شور مچانے سے طے ہوتی ہے 'اسی طرح سرمایہ داری کی پہچان قرضے سے ہوتی ہے جو کوئی جتنا زیادہ مقروض ہوتا ہے اتنا ہی بڑا سرمایہ دار سمجھا جاتا ہے، آپ بتائیں اس وقت دنیا کا طاقت ور ترین ملک کون سا ہے؟ امریکا ہی ہے نا ۔۔۔ اور اس لیے طاقت ور ہے کہ سب سے زیادہ مقروض ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر امریکی اتنے ڈالر کا مقروض ہے جتنے اس کے سر کے بال ہوتے ہیں جن کے سروں پر بال نہیں ہیں وہ مانے ہوئے گنج گراں مایہ ہیں

دیوانگی سے دوش پہ زنار بھی نہیں
یعنی ہماری جیب میں اک تار بھی نہیں

کسی اور کا تو ہمیں علم نہیں ہے لیکن ہم تو چھاتی پھلا پھلا کر اور مونچھوں پر تاؤ دے دے کر اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ بھئی ہم کوئی ایسے ویسے ٹٹ پونچھئے یا ایرے غیرے نتھو خیرے تو نہیں ہیں بلکہ لاکھوں کے مقروض ہیں اور مقروض بھی ایسے ویسے گلی کوچے والوں کے نہیں بلکہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ہیں

رکھتا پھروں ہوں خرقہ و سجادہ رہن مے
تھے یہ ہی دو حساب سو یوں پاک ہو گئے

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر ہم ایک لاکھ روپے کے مقروض ہونے پر اتنا خوش کیوں ہو رہے ہیں تو جواب یہ ہے کہ روکھی سوکھی کھانے سے ہم تنگ آ چکے ہیں اور اب گھی چاول کھانے کو من کر رہا ہے ۔۔۔ کیوں کہ پشتو میں ایک کہاوت ہے کہ قرضہ جب سو روپے سے بڑھ جائے تو پھر گھی چاول کھایا کرو ۔۔۔ وہ پرانا زمانہ تھا اس لیے سو روپے کا قرضہ بھی گھی چاول کھانے کے لیے کافی ہوتا تھا بات اب بھی وہی ہے وہ ''سو'' روپے تھے اور یہ سو ہزار روپے ہیں اتنا فرق تو نئے اور پرانے زمانے میں ضرور آنا چاہیے، یا یوں کہئے کہ ''سو'' اب بھی سو ہی ہیں صرف اتنا فرق پڑا ہے کہ ایک روپیہ ''ہزار'' روپے کا ہوگیا ہے یا ایک ہزار روپے ایک روپے کے برابر ہو گئے، یقین نہ ہو تو اندر شہر کی کسی صراف کے پاس جائیں وہ پرانا چاندی کا کلدار روپیہ ہزار روپے کا ہو چکا ہے، لیکن اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں ۔۔۔ دیکھا جائے تو سب کچھ وہی ہے اس زمانے میں خریداری کے لیے روپے بٹوے میں لے جائے جاتے تھے اور سودا بوری میں لایا جاتا ہے ۔دونوں اب بھی ہیں بوری بھی اور بٹوہ بھی ۔۔۔ صرف اتنا ہے کہ اب روپے بوری میں لے جائے جاتے ہیں اور سودا بٹوے میں ڈال کر لایا جاتا ہے اور بازار میں ایسی اونچ نیچ تو چلتی ہی رہتی ہے

کھڑا ہوں آج بھی روٹی کے چار حرف لیے
سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو

یہ شاعر کوئی بہت ہی بھولا بھالا تھا' کتابوں اور بہی کھاتوں نے اتنے بڑے قرضے دیے ہیں اور یہ کہتا ہے کہ کتابوں نے کیا دیا مجھ کو ۔۔۔ نالائق اور احسان فراموش کہیں کا، ہمارے بزرگ بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی کیس میں ہمارے دادا نے کسی کی ضمانت دی تھی اس شخص سے جرم سرزد ہو گیا اور ہمارے دادا کو ضمانت کے ایک ہزار روپے دینا پڑے جو پانچ پانچ دس دس کر کے سارے گاؤں سے قرض کے طور پر اکٹھے کیے گئے' کسی کے پاس پانچ دس سے زیادہ روپے ہوتے ہی نہیں تھے اور آج خدا کے فضل و کرم سے آئی ایم ایف کے دیالو پن سے اور ہمارے لیڈران کرام اور وزیران عظام کی برکت سے ان کا پوتاسو ہزار روپے کا مقروض ہے اور کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے پھر بھی کہتے ہیں ہم مونچھوں کو تاؤ کیوں دے رہے ہیں، بلکہ امید ہے کہ اگر مریں گے تو اس سے بھی زیادہ مقروض ہو کر مریں گے اور بال بچوں کو قرضوں سے نہال کر دیں گے

رگوں میں ''قرض'' کے نشتر اتر گئے چپ چاپ
ہم ''اہل قرض'' جہاں سے گزر گئے چپ چاپ

ممکن ہے کچھ لوگوں کو ہماری یہ باتیں بری لگیں بلکہ ہو سکتا ہے کہ کوئی ہماری دماغی حالت یعنی ''مانسک نستولن'' پر بھی شک کریں کہ یہ کیا پاگل آدمی ہے جو مقروض ہو کر خوش ہو رہا ہے، ایسے لوگوں کے لیے ہم پڑوسی ملک کے اداکار گووندا کا ایک ''قول فلمین'' پیش کریں گے کہ میرا تو صرف ایک سکریو ڈھیلا ہے باقی ٹھیک ہیں لیکن تمہارے تو سارے سکریو ڈھیلے ہیں، ان لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہے کہ زمانہ کتنا بدل چکا ہے جدید دور میں سب کچھ الٹ پلٹ ہو چکا ہے جو چیزیں پہلے اچھی تھیں وہ اب بری بن گئی ہیں اور جو بری تھیں ان کو لوگ دل و جان سے لگا رہے ہیں مثلاً پہلے لوگ جھاڑ جھنکاڑ بالوں اور پھٹے پرانے کپڑوں کو ناپسند کرتے تھے لیکن آج بازار میں جا کر دیکھئے کہ نوجوانوں نے خود کو جھاڑ جھنکاڑ بلکہ جنگلی بنانے کے لیے کتنے اہتمام کر رکھے ہوتے ہیں۔

دانستہ جینز کو پھاڑ کر، بالوں میں مصنوعی سفیدی لگا کر دانستہ لنگڑا کر یا گاڑی چلاتے ہوئے ننگ دھڑنگ ہو کر پھرتے ہیں، پہلے زمانے میں مرغی گوشت اور پلاؤ امیر لوگوں کا کھاجا ہوتے تھی اور بے چارے غریب دال اور مکئی کی روٹی کے ساتھ لسی کا گھونٹ لے کر پیٹ بھرتے تھے۔ اب قطعی الٹا معاملہ ہے دال روٹی اور لسی امیروں کے چونچلے بن گئے ہیں اور بے چارے غریبوں کے لیے پلاؤ مرغی دال برابر ہو گئے، جو گاؤں بھر میں کمی کمین کہلاتے تھے' وہ افسر اور لیڈر بنے ہیں اور پرانے ''خاندانی'' ان کے جوتوں میں بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں، مطلب یہ کہ سب کچھ الٹا ہو گیا چنانچہ وہ زمانے بھی لد گئے جب ''مقروض'' ہونا شرم کی بات ہوتی تھی آج جتنا بڑا مقروض اتنا ہی بڑا آدمی، بلکہ ہم نے تو یہاں تک سنا ہے کہ آج کل طوائفوں اور اداکاراؤں کے نرخ ان کی رسوائیوں سے اور شریف لوگوں کی وقعت ان کی مقروضہ رقومات سے طے کیے جاتے ہیں

تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے ترا آئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں

اپنی حکومت کو دیکھئے، جتنے زیادہ قرضے بڑھتے جاتے ہیں اتنی ہی زیادہ سخاوتوں کا دائرہ وسیع ہوتا جاتا ہے، انکم سپورٹ اسکیمیں، ریوڑیوں کی طرح بٹنے والے قرضے ۔۔۔ طرح طرح کے منصوبے، جن میں صرف ایک بات مدنظر رکھی جاتی ہے کہ جتنا زیادہ روپیہ ضایع کیا جائے اتنا ہی اچھا ہو گا' اتنے ہی زیادہ مقروض ہوں گے اور عزت و وقار میں اضافہ ہو گا، آپ نے دیکھا نہیں کہ اکثر بینکوں کے قرضے وہ لیتے ہیں اور ان کو ملتے بھی ہیں جن کو قرضوں کی ضرورت بالکل بھی نہیں ہوتی اور پھر یہ بھی تو سنا ہے کہ پرانے زمانے میں لوگ قرضہ ''لے کر'' بھول جاتے تھے اور آج کل حکومت اور بینک قرضہ ''دے کر'' بھول جاتے ہیں بلکہ قرضہ دیتے ہی بھلانے کے لیے ہیں، ایسے میں اگر ہمیں کوئی یہ خبر سنائے کہ مبارک ہو تم اتنے ہزار یا لاکھ کے مقروض ہو گئے ہو تو اس سے بڑی خوشی اور فخر کی بات کیا ہو سکتی ہے

تندیٔ بادِ مخالف سے نہ گھبرا ''اے عوام''
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے