خسارے میں چلنے والے اداروں سے جان چھڑانا ہوگی زبیر عمر

30 جون تک ایچ بی ایل، یو بی ایل، ایم سی بی،اے بی ایل کے بقیہ شیئرز فروخت کردیے جائیں گے


INP February 10, 2014
نجکاری کمیشن کے چیئرمین کا قومی اداروں کی نجکاری کے حوالے سے خصوصی انٹرویو. فوٹو: فائل

نجکاری کمیشن کے چیئرمین محمد زبیر عمر نے کہا ہے کہ رواں سال 30جون تک حبیب بینک، یو بی ایل، مسلم کمرشل بینک، الائیڈ بینک کے بقیہ شیئرز ،پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ اور او جی ڈی سی ایل کی نجکاری کا ہدف مقرر کیا ہے۔

حکومت کو خسارے میں جانے والے اداروں سے مکمل طور پر جان چھڑانا ہو گی۔ قومی اداروں کے 100فیصد شیئرز مع کنٹرول نجکاری کے لیے معاملہ دوبارہ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری میں لے جائیں گے، بالخصوص بجلی کی تقسیم کار اور پاور کمپنیوں کے 100فیصد شیئرز فروخت کریں گے۔ ماضی میںنجکاری درست انداز میں نہیں ہوئی، اگر عارف حبیب اور میاں منشا کو قومی ادارے نہ بیچے جائیں تو کیا پھر باہر سے گوروں کو بلائیں، بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے منافع بخش ادارے بھی بیچنا پڑتے ہیں۔ قومی اداروں کا خون مزدور نہیں بلکہ افسران چوس رہے ہیں۔ اگر نجکاری نہ کریں تو قومی اداروں کا خسارہ پورا کرنے کے لیے سالانہ 500ارب روپے دینا پڑتے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی اپنے دوسرے دور حکومت میں27قومی ادارے پرائیویٹائز کیے تھے۔ نیشنل پاور کنسٹرکشن کمپنی کی نجکاری میں کوئی بے قاعدگی نہیں کی گئی۔

اتوار کو ''آئی این پی'' کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں جن ممالک نے ترقی کی ہے انہوں نے قومی اداروں کی نجکاری کی پالیسی کو اپنایا۔ مضای میںنیشنلائزیشن کا تجربہ پوری دنیا میں ناکام ہوا۔ پاکستان میں بھی 40سال پہلے نجکاری کا تجربہ بری طرح ناکام ہوا تھا۔ نجکاری کمیشن کے چیئرمین نے کہا کہ ملیں، فیکٹریاں اور ائرلائن چلانا حکومت کا کام نہیں۔ ہر سال قومی اداروں کا 500 ارب روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑتا ہے جو کہ ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ خسارے میں چلنے والے اداروں کی وجہ سے ملکی میعشت کی ترقی رکی ہوئی ہے جبکہ ہم چند ملازمین کے مفاد کی خاطر ملک اقتصادی ترقی پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔

 photo 6_zpsf89b237c.jpg

ایک سوال کے جواب میں محمدزبیر عمر کا کہنا تھا کہ گزشتہ دور حکومت میں پی آئی اے اور اسٹیل ملز سمیت قومی اداروں میں بے تحاشا بھرتیاں کی گئیں جبکہ اسٹیل ملز میں مڈل اور میٹرک لوگ اعلیٰ عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج جو لوگ نجکاری کی مخالفت کرتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی اپنے دور میں 27 قومی اداروں کی نجکاری کی تھی۔ اس میں شبہ نہیں کہ ماضی میں بعض اداروں کی نجکاری درست طریقے سے نہیں ہوئی۔ تاہم ہماری ہر ممکن کوشش ہو گی کہ نجکاری کا عمل شفاف طریقے سے آگے بڑھایا جائے۔ بالخصوص بین الاقوامی معیار کے مالیاتی مشیر رکھے جائیں گے اور ہر مرحلہ شفاف انداز میں مکمل ہو گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ جوحسب منشا نجکاری کا تاثر دیا جا رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر عارف حبیب اور میاں منشا کو قومی ادارے فروخت نہ کیے جائیں تو پھر کیا ہم باہر سے گوروں کو بلا کر قومی ادارے انہیں فروخت کریں۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کا پہیہ بزنس مین ہی چلاتے ہیں لہٰذا بزنس مینوں کو باہر رکھ کر نجکاری ممکن نہیں۔ چیئرمین سر مایہ کاری کمیشن نے کہا کہ 30 جون 2014 تک حبیب بینک، یو بی ایل، مسلم کمرشل بینک، الائیڈ بینک کے بقیہ شیئرز، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ اور او جی ڈی سی یال کی نجکاری کا ہدف مقرر کیا ہے۔ تاہم ہمیں اداروں کے 26فیصد شیئرز کے ساتھ کنٹرول نجی شعبے کو دینے کی پالیسی سے اتفاق نہیں کرتے بلکہ عقلمندی کا تقاضا ہے کہ حکومت کو ان اداروں سے مکمل طور پر جان چھڑانی چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ قومی اداروں کے 100فیصد شیئرز مع کنٹرول نجکاری کے لیے کابینہ کمیٹی برائے نجکاری میں جانا پڑا تو ضرور یہ معاملہ دوبارہ لے کر جائیں گے۔