کراچی کی نئی شہری شناخت

وزیر اعظم عمران خان نے تختی کی نقاب کشائی کرکے گرین لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم منصوبے کا افتتاح کیا۔


Editorial December 12, 2021
وزیر اعظم عمران خان نے تختی کی نقاب کشائی کرکے گرین لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم منصوبے کا افتتاح کیا۔ فوٹو:فائل

RAWALPINDI: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت نے عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے وہ کام کیے ہیں جو ترقی یافتہ ملکوں میں بھی نہیں کیے جاتے، لوگوں کو ہیلتھ کارڈ کے ذریعے ہیلتھ انشورنس فراہم کی گئی ہے کیونکہ ایک بیماری کے باعث پورا گھرانہ مقروض ہو جاتا ہے اور غربت سے نیچے آ جاتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں سب خاندانوں کو ہیلتھ انشورنس فراہم کر دی گئی ہے، ہر خاندان 10 لاکھ روپے تک اپنا مفت علاج کرا سکتا ہے، صوبہ پنجاب کے بعض اضلاع میں ہیلتھ کارڈ دے دیے گئے ہیں جب کہ جنوری سے مارچ کے دوران پنجاب بھر میں تمام خاندانوں کو ہیلتھ انشورنس فراہم کر دی جائے گی۔ صوبہ بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر اپنے شہریوں کو ہیلتھ کارڈ دینے کے لیے تیار ہیں، سندھ حکومت کو بھی اپنے صوبہ کے عوام کے مفاد میں ان کو ہیلتھ کارڈ دینے چاہئیں۔

جمعہ کو کراچی کے شہریوں کے لیے جدید ترین سفری سہولیات کے حامل 35.5 ارب روپے کی لاگت کے گرین لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا ماضی میں کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام پر توجہ نہیں دی گئی، اب گرین لائن بس سروس کے افتتاح سے جدید ٹرانسپورٹ کا نظام شروع کیا جا رہا ہے۔ کراچی روشنیوں کا شہر تھا، اسے کھنڈر بنتے دیکھا ہے کیونکہ ماضی میں اس کے مینجمنٹ سسٹم پر توجہ نہیں دی گئی۔

انھوں نے کہا کہ ایران پر پابندیوں کے باوجود ایران کا دارالحکومت تہران جدید شہر ہے کیونکہ اس کی مینجمنٹ جدید بنیادوں پر استوار کی گئی ہے، وہاں پانی اور سیوریج کی جدید سہولیات دستیاب ہیں کیونکہ اس شہر کا جو اپنا ریونیو اکٹھا ہوتا ہے وہ اسی پر خرچ کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف کراچی کو بدانتظامی کے باعث مسائل کا سامنا ہے، کراچی کے بارونق شہر ہونے اور پھر اس کے کھنڈر بننے کی الم ناک داستان وزیر اعظم کی گفتگو کا زیادہ حصہ نہیں بن سکی، لیکن شہر قائد اور دیگر صوبوں میں صحت کارڈز اور ہیلتھ اسکیم پر عملدرآمد کی تفصیل بتاتے ہوئے وزیر اعظمٕ نے مغرب پر طنز کرتے ہوئے ایک غیر معمولی تبصرہ کیا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت نے جو کام کیے ہیں ترقی یافتہ ممالک میں بھی نہیں ہوسکے ہیں، انھوں نے ایران کے شہر تہران کی تعریف کی لیکن کراچی کی ترقی، بدانتظامی، شہری سہولیات اور انفرا اسٹرکچر کا ذکرکرتے ہوئے وہ کئی واقعات، اسباب اور ملکی پالیسی میں کراچی کی اہمیت کو نظرانداز کرنے کے ادارہ جاتی اہمیت کو بوجوہ زیر بحث نہیں لائے، بہر حال جب بھی موقع ملا ہے میڈیا نے ادارہ جاتی قبضہ گیری کی بات ہے، تاہم شہر قائد در حقیقت ایک حساس معاملہ ہے، جہاں سب کے پَر جلتے ہیں۔

وزیر اعظم غالباً اس حقیقت سے واقف ہیں کہ کراچی پر حکمرانی کے تین عشرے بلاشرکت غیرے ایک ''سپر'' سیاسی جماعت کے پاس تھے، اردو بولنے والے اربن ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی کو ایک آئیڈیل شہر بنانے کا موقع ایم کو ایم کو ملا تھا، شہر قائد اپنی تہذیبی شناخت بنا سکتا تھا، اسے جن حکومتوں نے کھنڈر بنایا ان میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا نام لیا جاتا ہے، لیکن یہ تاریخ سے بدترین دروغ گوئی ہوگی اگر کراچی کی سیاسی، سماجی و معاشی تباہی میں انفرا اسٹرکچر، کچی آبادیوں کے قیام اور پولیس کلچر، ٹرانسپورٹ مافیا، غیر قانونی تعمیرات، بد انتظامی اور کرپشن کا حوالہ نہ آئے۔

شہر قائد پر بیک قوت درجن بھر ادارہ جاتی بالادستی کے دعویداروں نے جو قیامت ڈھائی اس ضمن میں بھی وزیر اعظم کو حقائق کو اپنی جرأت اظہار کا حصہ بنانا چاہیے تھا، پی پی اور (ن) لیگ پر کراچی کا پیسہ باہر ملکوں پر خرچ کرنے سے بات ختم نہیں ہوگی، کسی سیاسی جماعت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اس بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ ایسی ترقیاتی تقریبات پہلے بھی وزرائے اعظم اور وزرائے اعلیٰ کرتے رہے ہیں، فوجی جنرلوں نے بھی شہر کی ترقی میں حصہ لیا ہے، شہریوں، میڈیا اور سیاستدانوں کو وہ چہرے یاد ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ کراچی پر حکمرانی کی دعویدار سیاسی جماعت کے مینڈیٹ کو چیلنج کرنے کی بھی کسی میں ہمت نہ تھی، ایک دو تین کہنے سے پورے جلسے میں پن ڈراپ سائلنس کو کون بھول سکتا ہے، کراچی کے عوام نے دردناک قتل وغارت، بوری بند لاشیں، ٹارچر سیل کی کہانیاں سنی ہیں، بلاشبہ کراچی کی بربادی میں کئی پردہ نشینوں کے نام آتے ہیں، ترقی یافتہ ملکوں میں ایسے کام کبھی نہیں ہوتے جو کراچی یا پاکستان میں ہوتے ہیں، یہاں ایک سے بڑھ کے ایک انہونی ہوتی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ لندن اور تہران کی طرح کراچی کو بھی خود مختاری دی جائے جس طرح پنجاب اور خیبرپختونخوا کے بڑے شہروں میں میئر براہ راست منتخب ہوگا۔

وزیر اعظم نے بہت اچھی بات کہی اور کراچی کو ملک کی ترقی کا محور قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی خوشحال ہوتا ہے تو پورا پاکستان خوشحال ہوتا ہے، ملک کو سب سے زیادہ ریونیو دینے والے شہر کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہیں، کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت وعدوں پر عمل جاری ہے، کراچی میں پانی کا بڑا مسئلہ ہے، کے فور منصوبہ اس لحاظ سے اہم ہے، آیندہ ماہ اس منصوبہ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب ہوگی، 2023 میں یہ منصوبہ مکمل ہوگا۔

کینجھر جھیل سے کراچی کے شہریوں کو پانی فراہم کیا جائے گا۔ لیکن جھیل کی صفائی بھی ناگزیر ہے، کینجھر جھیل کے بارے میں کئی کہانیاں گردش میں ہیں، اس جھیل کی تاریخی اہمیت مسلمہ ہے، ماہرین اس کے پانی کی صفائی کے لیے سندھ حکومت کو کئی بار اقدامات کا کہہ چکے ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ سندھ حکومت نے بنڈل آئی لینڈ کا این او سی دے کر واپس لے لیا، اس منصوبہ کا سب سے زیادہ فائدہ صوبہ سندھ کو ہوگا، اسے ریونیو ملے گا اور کراچی جدید شہر بنے گا۔

انھوں نے کہا کہ شہروں کے غیر منظم پھیلاؤ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کے لیے منصوبہ بندی سے جدید شہر بسانا ہوں گے، اگر شہروں کا بے ہنگم پھیلاؤ جاری رہا تو زرعی زمین میں کمی سے فوڈ سیکیورٹی کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔

لاہور میں راوی سٹی کا جدید منصوبہ بسایا جا رہا ہے، اس میں درخت لگائے جا رہے ہیں، ماحول کا خاص خیال رکھ رہے ہیں، لاہور اور کراچی میں آلودگی کا بڑا مسئلہ ہے، جدید شہر بسانے سے شہریوں کو جدید سہولیات کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ انھوں نے کہا کہ سندھ کے لوگ بھی پاکستان کا حصہ ہیں، سندھ میں آٹا 250 روپے فی من مہنگا مل رہا ہے، ہمیں مل کر کام کرنا چاہیے، ایک دوسرے سے تعاون اور مل کر چلیں گے تو اس سے سب کو فائدہ ہوگا۔

قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان نے تختی کی نقاب کشائی کرکے گرین لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم منصوبے کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ پیپلز پارٹی چھ بار برسر اقتدار رہی، سندھ میں ایک میل موٹروے نہیں بناسکی۔ (ن) لیگ نے تین بار حکومت ملنے کے باوجود کراچی کو اس کا حق نہیں دیا۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ویکسین تو خرید نہیں سکے ایک بس ہی خرید لیتے۔ وزیر اعظم کی زیر صدارت پاکستان تحریک انصاف سندھ کے علاقائی صدور اور جنرل سیکریٹریز کا اجلاس بھی ہوا۔ اس موقع پر صوبے کی مجموعی سیاسی صورت حال اور ترقیاتی اسکیموں سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دریں اثنا جمعہ کو گورنر ہاؤس میں اینگرو پولیمر اینڈ کیمیکلز PVC-III کی افتتاحی تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں صنعت کاری کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں، یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت نے صنعتی شعبے کو فروغ دیا۔ حکومت نے بنیادی طور پر ملک میں کاروبار کرنے میں آسانی پر توجہ دی ہے۔

انھوں نے کہا کہ آبادی بڑھنے کے نتیجے میں وسائل کی طلب میں اضافہ ہوا اور ملک وہ اشیا بھی درآمد کرنے پر مجبور ہو گیا جو پہلے کبھی درآمد نہیں کی گئیں، موجودہ حکومت نے ملک کی زرعی پیداوار بڑھانے پر توجہ دی ہے ۔60 کی دہائی میں پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا تھا، بدقسمتی سے گزشتہ ادوار میں ملک کے صنعتی شعبے کو نظر انداز کیا گیا۔

اگر ماضی میں برآمدات کو فروغ دیا جاتا جس طرح موجودہ حکومت نے اس شعبے کو مراعات دی ہیں تو ملک کو معاشی بحران کا سامنا نہ کرنا پڑتا، موجودہ حکومت کے دور میں ملکی برآمدات میں زبردست اور تاریخی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، حکومت ملک میں درآمدات کے متبادل پر توجہ دینے کے ساتھ درآمدات کو کم کرنے پر بھی بھرپور کام کر رہی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ کراچی کو 0wn کون کریگا، پی ٹی آئی کو مینڈیٹ ملا ہے، جمہوری سیاسی جماعتیں کراچی میں سیاسی طور پر بریک تھرو کریں گی تو انھیں کوئی نہیں روکے گا، کراچی کے اربن ماہرین نے شہر قائد کی ترقی اور اسے اپنائیت کے سوال پر بڑی معنی خیز بات کی ہے۔

اپنے ایک انٹرویو میں ماہر سیاسیات و اقتصادیات سید اکبر زیدی نے کہا تھا کہ شہر قائد اب اکیلا ایم کیو ایم کا نہیں رہا ہے، کراچی لسانی اور فکری تقسیم کا ایک پیچیدہ مظہر ہوتے ہوئے ایک نئی تہذیبی، علمی، مذہبی، ثقافتی اور معاشی حقیقت بن چکا ہے۔ حکومت اور اسٹیک ہولڈرز کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا، کراچی آبادی کے ٹائم بم پر کھڑا ٹک ٹک کر رہا ہے۔

مقبول خبریں