موجودہ جمہوریت غیر شرعی ہے مولانا عبدالعزیز

انگریز کے قوانین غیراسلامی نہیں، مولانا عزیز کی سوچ اقلیتی گروہ کی ہے، بیرسٹر سیف


Monitoring Desk February 11, 2014
اگر شریعت نافذ کرنا چاہیں تو 2گھنٹے لگتے ہیں نہ چاہیں تو 60 سال میں بھی نہیں نافذ ہوسکتی،خطیب لال مسجد۔ فوٹو : فائل

خطیب لال مسجد مولانا عبدالعزیز نے کہا ہے کہ ہم نے قرآن وسنت کو اہمیت نہیں دی انگریز کے قانون کو اہمیت دی ہے۔

ایکسپریس نیوزکے پروگرام ''کل تک'' میں میزبان جاوید چوہدری سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم اپنے کالجز اور یونیورسٹیوں میں قرآن کو بطور قانون پڑھاتے ہیں، ہمارے ہاں انگریز کا قانون پڑھایا جاتا ہے جس میں قرآن وسنت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ فریب دیا گیا ہے کہ قرآن وسنت سپریم لاہے، اسلام میں شوریٰ کا تصور ہے موجودہ جمہوریت غیر شرعی ہے،اگر شریعت نافذ کرنا چاہیں تو 2گھنٹے لگتے ہیں نہ چاہیں تو 60 سال میں بھی نہیں نافذ ہوسکتی۔ انگریزی قانون میں 15، 15سال مقدمات چلتے ہیں لیکن اسلامی نظام میں فوری انصاف کی تاکید کی جاتی ہے یا پھر قصاص ودیت کا قانون ہے، پوری دنیا میں کہیں بھی اسلامی قانون نافذ نہیں ہے۔ہم کسی کو بھی کافر قرارنہیں دے رہے میں یہ سمجھتا ہوں کہ مسلمان جماعتوں کا آپس میں تصادم ہے۔



اگرطالبان کہیں گے کہ میں مذاکراتی کمیٹی سے ہٹ جائوں تو ہٹ جائوں گا لیکن فی الحال میں مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہوں۔ اگر شریعت نافذ نہیں ہوگی تو مسائل بھی ختم نہیں ہوں گے۔ ماہر قانون بیرسٹرسیف نے کہا کہ یہ درست ہے کہ انگریز نے قوانین بنائے لیکن ہم نے ان کو اپنا لیا۔ مولانا عبدالعزیز جو بات کررہے ہیں وہ مسلمانوں میں اقلیتی گروہ کی سوچ ہے۔ رہنما سنی اتحاد کونسل حامد رضا نے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں ہو گا جو شریعت کے مطابق زندگی نہ گزارنا چاہتا ہو۔ میں ہرگز شریعت کا مخالف نہیں ہوں لیکن میرامطالبہ ہے جب شریعت کے نفاذکی بات کی جائے تو وہ آخری نبی کی شریعت ہی ہو۔ پاکستان میں اسوقت شرعی آئین موجود ہے اس پر عملدرآمد میں ایک منٹ لگ سکتا ہے آئین میں درج ہے کہ کوئی بھی قانون قرآن وسنت سے باہر نہیں بن سکتا۔