کراچی حصص مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ مزید 15 پوائنٹس کمی

انڈیکس 26 ہزار 240 کی سطح پر آگیا، 167 کمپنیوں کی قیمتوں میں اضافہ اور 209 کے دام گھٹ گئے


Business Reporter February 12, 2014
مارکیٹ سرمایہ 6.7 ارب روپے بلند اور کاروباری حجم 22 فیصد کم ہوگیا۔ فوٹو: آن لائن / فائل

لسٹڈ کمپنیوں کے بہترین نتائج کے باوجود کراچی اسٹاک ایکس چینج میں منگل کو بھی کاروباری صورتحال غیرتسلی بخش رہی اور اتار چڑھاؤ کے بعد مندی کے بادل چھائے رہے ۔

آل شیئر انڈیکس میں معمولی اضافے کے سبب حصص کی مالیت میں6 ارب 76 کروڑ5 لاکھ15 ہزار982 روپے کا اضافہ ہو گیا، مندی کے سبب53.18 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی حالانکہ ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر انڈیکس میں119.43 پوائنٹس کے اضافے سے 26374.64 کی حد عبور کرگیا تھا لیکن تھوڑے ہی وقفے کے بعدہی مارکیٹ میں147 پوائنٹس کی مندی رونما ہوئی، اس طرح سے پورے دن مارکیٹ میں سرگرمیاں سست رفتار رہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت طالبان مذاکرات کے حوالے سے غیریقینی کیفیت اور متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے وفاقی حکومت کو 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیے جانے جیسی خبروں کی وجہ سے سرمایہ کاروں کی اکثریت نے منگل کو بھی محتاط طرز عمل اختیار کرتے ہوئے نئی سرمایہ کاری کے بجائے حصص کی آف لوڈنگ کو ترجیح دی۔



ٹریڈنگ کے دوران بینکوں ومالیاتی اداروں، این بی ایف سیز اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر67 لاکھ40 ہزار375 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی لیکن اس سرمایہ کاری کے مارکیٹ پر مطلوبہ مثبت اثرات مرتب نہ ہوسکے البتہ مندی کی شدت میں ضرور کمی ہوئی، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں کی جانب سے1 لاکھ 25 ہزار514 ڈالر، مقامی کمپنیوں کی جانب سے12 لاکھ 30 ہزار586 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے47 لاکھ 96 ہزار26 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے 5 لاکھ 88 ہزار249 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔

مندی کے باعث کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 14.80 پوائنٹس کی کمی سے 26240.41 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 24.71 پوائنٹس کی کمی سے 18961.79 اور کے ایم آئی30 انڈیکس33.99 پوائنٹس کی کمی سے 43439.86 ہوگیا، کاروباری حجم پیر کی نسبت 22.45 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر22 کروڑ 29 لاکھ 59 ہزار640 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار393 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں167 کے بھاؤ میں اضافہ، 209 کے داموں میں کمی اور17 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔