پارلیمنٹ سے توثیق کے بغیر کسی سے معاہدہ نہیں ہوسکتا

مشرف دور میں ایساف، امریکا، نیٹو کیساتھ معاہدوں کا نہیں بتایا گیا، رضا ربانی


Numainda Express February 12, 2014
مشرف دور میں ایساف، امریکا، نیٹو کیساتھ معاہدوں کا نہیں بتایا گیا، رضا ربانی. فوٹو: فائل

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امورنے قراردیاکہ حکومت پارلیمنٹ سے توثیق کے بغیرآئی ایم ایف ،کسی اورغیرملکی ادارے،امریکہ یانیٹو کیساتھ کسی قسم کامعاہدہ نہیں کرسکتی، پارلیمنٹ آئین کی روسے سپریم ادارہ ہے۔

کمیٹی برائے خارجہ امورمیں سینیٹررضاربانی کی طرف سے پیش کردہ ''بیرونی معاہدات کی پارلیمنٹ کی توثیق کے بل 2007ء ''پربحث کے دوران رضاربانی نے کہاکہ عوام کی منتخب کردہ پارلیمنٹ کی توثیق کے بغیر کابینہ کسی بھی معاہدے کی منظوری نہیں دے سکتی،مشرف کے آمرانہ دورمیں آئی ایم ایف، عالمی امدادی اداروں، ایساف، امریکہ، نیٹوکیساتھ معاہدوں اورشمسی ایئربیس کے بارے میں بارہاوزارت خارجہ، وزیراعظم سیکرٹریٹ، صدر ہائوس سے معلومات کامطالبہ کیاگیالیکن ان معاہدوں کے بارے میں ہربارنفی میں جواب دیاگیاحقائق کبھی بھی سامنے نہیں لائے گئے،انہوں نے کہاکہ ڈرون حملوں کے بارے میں صدارتی کیمپ اورفارن آفس میں کوئی ریکارڈموجودنہ تھا،دیگر خودمختاراورجمہوری ممالک کی روایت کومدنظر رکھ کرپرائیویٹ بل پیش کیاتھا،ایک ہفتے کاوقت دیا جائے، ترامیم کرناچاہتاہوں،عالمی قوانین کے درمیان معاہدات سے آگاہی عوام کابنیادی حق ہے۔